میانمار میں زلزلے سے بچ جانے والے افراد نے بدھ کے روز مزید امداد کی درخواست کی ہے کیونکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور فوجی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ باغیوں پر حملے روک دے کیونکہ ملک بحران سے نبرد آزما ہے۔

جمعے کے روز 7.7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں میانمار بھر میں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جس کے نتیجے میں 2800 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے۔

حکومت کے خلاف لڑنے والے متعدد سرکردہ مسلح گروہوں نے زلزلے کی بحالی کے دوران لڑائی معطل کر دی ہے، لیکن جنتا کے سربراہ من آنگ ہلائینگ نے کہا ہے کہ متعدد مبینہ فضائی حملوں پر بین الاقوامی تنقید کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اقوام متحدہ کے اداروں، انسانی حقوق کے گروپوں اور غیر ملکی حکومتوں نے میانمار کی خانہ جنگی کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ لڑائی بند کریں اور زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد پر توجہ مرکوز کریں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں نے اس وقت افراتفری کا ماحول دیکھا جب زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ساگانگ شہر میں امدادی سامان کی تقسیم کے لیے کم از کم 200 مایوس افراد قطاروں میں کھڑے تھے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق شہر میں ہر تین میں سے ایک گھر منہدم ہو چکا ہے اور زلزلے کے پانچ دن بعد مقامی لوگوں نے مدد کی کمی کی شکایت کی تھی۔

زلزلے کے جھٹکوں سے زمین بوس ہونے والی نوجوان راہباؤں کے ایک اسکول کی سربراہ 63 سالہ ایتھی کار کا کہنا تھا کہ ’یقینا ہمارے پاس کافی مقدار نہیں ہے۔

’’اب ہم عطیہ کردہ کھانا کھاتے اور پانی پیتے ہیں لیکن زمین پر سوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے منگل کو جاری تازہ ترین اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ زلزلے سے تباہ ہونے والے اور محدود گنجائش کے حامل صحت کے مراکز بڑی تعداد میں مریضوں سے بھری ہوئی ہیں جبکہ خوراک، پانی اور ادویات کی فراہمی بھی کم ہے۔

مزید زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں، لیکن بدھ کے روز خوشی کے لمحات اس وقت محسوس کئے گئے جب دارالحکومت نیپیڈو کے ایک ہوٹل کے ملبے سے 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا۔

امن کا مطالبہ

فوجی حکومت نے بدھ کے روز کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2،886 ہو گئی ہے، 4،600 سے زیادہ زخمی اور 373 اب بھی لاپتہ ہیں۔

لیکن مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کی خرابی کی وجہ سے معلومات جمع کرنے اور امداد پہنچانے کی کوششوں میں تاخیر ہو رہی ہے، اس لیے تباہی کا پورا پیمانہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ فوج اور اس کی حکومت کے مخالف مسلح گروہوں کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے مجموعی طور پر زلزلے سے نمٹنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جو 2021 کی بغاوت میں فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی جولی بشپ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں سمیت شہریوں کے تحفظ اور زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی کی کوششوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

اقوام متحدہ کے مطابق جمعے کو آنے والے زلزلے سے قبل بھی لڑائی کی وجہ سے 35 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے جن میں سے کئی کو بھوک کا خطرہ لاحق تھا۔

منگل کے روز میانمار کے تین طاقتور ترین نسلی اقلیتی مسلح گروہوں کے اتحاد نے زلزلے کے ردعمل میں انسانی ہمدردی کی کوششوں میں مدد کے لیے لڑائی میں ایک ماہ کے تعطل کا اعلان کیا ہے۔

دی تھری برادرہوڈ الائنس کی جانب سے یہ اعلان پیپلز ڈیفنس فورس کی جانب سے جزوی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جو فوجی بغاوت کے بعد ہتھیار اٹھانے والا سویلین گروپ ہے۔

لیکن زلزلے کے بعد سے باغی گروپوں کے خلاف فوج کے متعدد فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فوجی حکومت کے رہنما من آنگ ہلائینگ نے بجلی کی فراہمی میں خلل ڈالنے سے متعلق تخریب کاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ کچھ نسلی مسلح گروہ فی الحال لڑائی میں ملوث نہیں ہیں، بلکہ حملوں کو انجام دینے کے لئے اپنے کارکنون کو منظم کر رہے اور تربیت دے رہے ہیں۔

انہوں نے منگل کی رات دیر گئے ایک بیان میں کہا، “چونکہ اس طرح کی سرگرمیاں حملوں کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے مسلح افواج ضروری دفاعی سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔

فوجی جنتا کے ایک ترجمان نے بتایا کہ فوجیوں نے منگل کے روز اس وقت وارننگ فائرنگ کی جب چینی ریڈ کراس کا قافلہ زلزلے سے متاثرہ افراد کو امداد پہنچانے کے لیے شورش زدہ ریاست شان کے ایک گاؤں کے قریب پہنچنے میں ناکام رہا۔

میانمار میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ٹام اینڈریوز نے فوج کی جانب سے اس کی کارروائیوں کی وضاحت کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ “سینئر جنرل من آنگ ہلائینگ نے میانمار کی مشکلات کے درمیان جاری فوج کے حملوں کو ’ضروری حفاظتی اقدامات‘ قرار دیا ہے۔

تاہم ٹام اینڈریوز کا مزید کہنا ہے کہ یہ حملے نہ تو ضروری ہیں اور نہ ہی حفاظتی، بلکہ یہ اشتعال انگیز ہیں اور عالمی رہنماؤں کو ان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔

تھائی لینڈ میں ہلاکتوں میں اضافہ

آسٹریلوی حکومت نے مبینہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ’غیر انسانی‘ فوجی حملے میانمار میں زلزلے سے بچاؤ کی کوششوں کو نمایاں طور پرمشکل بنا رہے ہیں۔

اس گروپ کے میانمار کے محقق جو فری مین کا کہنا ہے کہ ’آپ ایک ہاتھ سے امداد اور دوسرے ہاتھ سے بم نہیں مانگ سکتے۔

سیکڑوں کلومیٹر دور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں مزدور 30 منزلہ بلند عمارت کے ملبے میں تلاش کر رہے ہیں جو جمعہ کے روز گرنے کے وقت بھی تعمیر کی جا رہی تھی۔

حادثے کے مقام پر ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی ہے جبکہ 70 سے زائد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

Comments

200 حروف