سونے کی بے لگام پرواز جو ریکارڈ سطحوں کی جانب گامزن ہے، مسٹر مارکیٹ کے لیے کسی معمہ سے کم نہیں۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں مالیاتی منڈیاں خوف اور بنیادی عوامل دونوں کے زیرِ اثر چلتی ہیں، اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ سرمایہ کار ایک بار پھر سب سے محفوظ پناہ گاہ کی طرف رخ کر رہے ہیں۔
چنانچہ اس ہفتے کے آغاز میں سونے کی قیمت 2,950 ڈالر فی اونس کی حد عبور کرگئی۔ حالیہ اضافہ عالمی اقتصادی استحکام کے حوالے سے گہری تشویش کی عکاسی کرتا ہے، جو بڑی حد تک ٹرمپ کی غیر متوقع ٹیرف پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے سبب پیدا ہوئی ہے۔
اگرچہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب ہمیشہ سے سونے کی قیمتوں کو متحرک رکھنے والا ایک بڑا عنصر رہی ہے، لیکن موجودہ تیزی تجارتی جنگ کے خوف، افراطِ زر سے جڑے خدشات، اور فیڈرل ریزرو کی شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے امتزاج کے باعث ہے۔
سونے کی قیمت میں حالیہ اضافے کا فوری سبب ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر نئے ٹیرف کی دھمکیاں ہیں، جس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 4 مارچ کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے، اور ٹرمپ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ٹیرف ”اپنے وقت پر اور شیڈول کے مطابق“ نافذ کیے جائیں گے، حالانکہ دونوں ممالک سفارتی ذرائع سے سرحدی سیکیورٹی اور امریکہ میں فینٹانل کی ترسیل روکنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
مارکیٹ کا ردِعمل فوری اور شدید رہا ہے—سرمایہ کار، جو معاشی نقصان اور سپلائی چین میں رکاوٹوں سے خوفزدہ ہیں، غیر یقینی صورتحال کے خلاف پناہ کے طور پر سونے کی طرف دوڑ پڑے ہیں۔
لیکن سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے صرف جغرافیائی سیاسی خطرات ہی نہیں بلکہ رسد و طلب کی ساختی حقیقتیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ کینیڈا اور میکسیکو دنیا میں سونے اور چاندی کے دو بڑے پیدا کنندگان میں شمار ہوتے ہیں۔
اگر ٹرمپ ان دھاتوں پر بھی ٹیرف عائد کرتے ہیں تو اس سے ان کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر سپلائی میں خلل پیدا کرے گا۔
تجزیہ کار پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اس طرح کا اقدام امریکی اور لندن گولڈ مارکیٹ کے درمیان قیمت کے فرق کو وسیع کر سکتا ہے، جس سے اتار چڑھاؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
تجارتی تنازعات سے ہٹ کر، وسیع تر معاشی حالات بھی سونے کی کشش کو بڑھا رہے ہیں۔ سرمایہ کار اب امریکی ذاتی اخراجات (پی سی ای) رپورٹ کے منتظر ہیں، جو کہ فیڈرل ریزرو کا افراطِ زر کا پسندیدہ پیمانہ ہے۔
سان فرانسسکو فیڈ کی حالیہ تبصرے سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مرکزی بینک کسی بھی افراطِ زر کے دباؤ کے خلاف ”مضبوط اور منظم“ ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔ اگر افراطِ زر بلند رہتی ہے، تو فیڈ کو توقعات سے زیادہ عرصے تک شرح سود کو بلند رکھنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے—ایک ایسا منظرنامہ جو نظریاتی طور پر سونے کی کشش کو کم کر دیتا ہے، کیونکہ اس میں کوئی سودی منافع نہیں ہوتا۔
تاہم، مارکیٹ روایتی دانش کے مطابق ردِعمل نہیں دے رہی۔ بلند شرح سود کے امکان کے باوجود، سونا مسلسل اوپر جا رہا ہے، جو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ غیر یقینی صورتحال کتنی گہری ہے اور سرمایہ کار کس حد تک حفاظت کو منافع پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ رجحان عالمی معاشی استحکام کے حوالے سے وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرمایہ کار موقع کی لاگت (اپرچونٹی کاسٹ) کے بجائے سرمائے کی حفاظت پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
سونے کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق صرف امریکی مالیاتی منڈیوں سے نہیں بلکہ عالمی سطح پر پائے جانے والے خدشات سے بھی ہے۔ یورو زون میں، ایک ممکنہ جرمن دفاعی فنڈ کے حوالے سے قیاس آرائیوں کے باعث بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہو رہا ہے، جو اس خطے میں مالیاتی حرکیات کو بدل سکتا ہے۔
عالمی منڈیاں پہلے ہی نازک صورتحال سے دوچار ہیں، اور اگر یورپ، چین یا امریکہ میں کسی غیر متوقع پالیسی شفٹ نے جنم لیا تو اس سے مزید خطرے سے بچنے کی فضا پیدا ہو سکتی ہے، جو سونے کی قیمت میں اضافے کا سبب بنے گی۔
محفوظ سرمایہ کاری کی یہ دوڑ صرف سونے تک محدود نہیں ہے۔ چاندی، پلاٹینم اور پیلاڈیم میں بھی نمایاں حرکات دیکھی گئی ہیں، اگرچہ ان میں سے کسی کی بھی کارکردگی سونے جتنی شاندار نہیں رہی۔ چاندی، جسے اکثر سونے کا زیادہ غیر مستحکم متبادل سمجھا جاتا ہے، تقریباً 32 ڈالر فی اونس کے ارد گرد منڈلا رہی ہے، جبکہ پلاٹینم اور پیلاڈیم اب بھی سپلائی کی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن یہ سونا ہی ہے جو سب سے نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے، اس کی بڑھتی ہوئی قیمت روایتی منڈی کی منطق کو چیلنج کر رہی ہے اور سرمایہ کاروں کی گہری بے چینی کو ظاہر کر رہی ہے۔
اگرچہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سونا جغرافیائی اور معاشی بحران کے دوران اچھا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن اس کی موجودہ رفتار کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا مارکیٹیں ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے ممکنہ اثرات کو کم اندازہ لگا رہی ہیں؟ کیا فیڈ کا سخت مالیاتی نظام اب بھی اپنی متوقع گرفت قائم رکھے ہوئے ہے؟ اور سب سے اہم بات، کیا محفوظ سرمایہ کاری کی یہ دوڑ محض ایک عارضی رجحان ہے، یا یہ سرمایہ کاری کے جذبات میں زیادہ طویل مدتی تبدیلی کی علامت ہے؟
جو چیز واضح ہے، وہ یہ کہ سونے کی موجودہ ریلی محض قیاس آرائی پر مبنی نہیں—یہ ایک نازک عالمی معیشت کے حقیقی خدشات میں جڑی ہوئی ہے۔
یہ خدشات کسی وسیع مالیاتی بحران میں بدلتے ہیں یا پالیسی فیصلوں کے تحت ختم ہو جاتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ لیکن جب تک غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، سونا غالباً اپنی نئی حدوں کو چھوتا رہے گا۔
تو، کیا سونا خریدنے میں دیر ہو چکی ہے؟
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments