زیادہ مضحکہ خیز کیا ہے؟

ایک مکمل طور پر سنکی، بوڑھا شخص جو واحد سپر پاور کا سربراہ ہے ( بائیڈن)، یا ایک جان بوجھ کر پاگل مطلق العنان شخص جو عالمی امور پر اپنی بے بنیاد سوچ تھوپنے اور اس سپر پاور کو ایک مذاق بنانے پر تلا ہوا ہے (ٹرمپ)؟

جب 47 ویں صدر نے گرین لینڈ خریدنے یا اس پر قبضہ کرنے، پاناما کینال کو ہتھیانے، اور کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی شیخی بگھاری تو لوگ ہنسے تھے، اور جب ان کے حامی ہر بار ان کے اشتعال انگیز ایگزیکٹو آرڈرز پر تالیاں بجاتے تو آنکھیں مروڑتے – یہ کسی تیسری دنیا کی المیہ مزاحیہ فلم جیسا منظر تھا، شاید ہماری اپنی اسلامی جمہوریہ یا مودی کی زمین جیسا۔

لیکن یقیناً کسی نے یہ نہیں سوچا کہ فلسطینیوں کو کہیں اور ”مستقل“ بسائیں، تاکہ وہ ”اچھی زندگیاں“ گزاریں اور امریکہ غزہ پر قبضہ کر کے اسے ”مشرق وسطیٰ کا رویرا“ بنا دے، کا ”ذہین خیال“ مضحکہ خیز بھی ہے۔ کیونکہ، اگرچہ یہ اتنا ہی ناقابلِ عمل ہے جتنا کہ اس کے دیگر توسیع پسندانہ خیالات، مگر یہ مختلف ہے؛ اور کہیں زیادہ خطرناک۔

گرین لینڈ وغیرہ کے متعلق بکواس وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ لیکن یہ معاملہ نہیں۔ یہاں تک کہ نیتن یاہو بھی کچھ دیر کے لیے الفاظ تلاش نہ کر سکا کیونکہ یہ تنازعہ مقدس زمین کے بارے میں 100 سال سے زیادہ پیچھے لے جاتا ہے، اس وقت سے بھی پہلے جب اسرائیل کا متنازعہ اور ناجائز جنم ہوا تھا یا غیر منصفانہ دو ریاستی حل پیش کیا گیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تھیوڈور ہرزل نے صیہونی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبد الحمید دوم سے فلسطین خریدنے کی کوشش کی تھی۔

سلطان نے انکار کر دیا، یقیناً، لیکن اس خیال کے ساتھ وہ تقریباً 15 سال تک کوشش کرتا رہا، اور آخرکار یہ سمجھ گیا کہ حتیٰ کہ ایک طاقتور خلیفہ بھی کسی زمین کو اس کے تمام باشندوں سے یوں خالی نہیں کر سکتا۔ مگر ٹرمپ اپنی نظر میں کہیں بڑا طاقتور کھلاڑی ہے۔

اور اگرچہ جن ممالک کو وہ فلسطینیوں کو لینے کے لیے کہہ رہا ہے انہوں نے اس خیال کو دوٹوک مسترد کر دیا، جیسا کہ امریکہ کے تمام روایتی اتحادیوں نے بھی کیا، مگر اس نے پہلے ہی جنگ بندی کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا ہے اور، جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر، اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی ان طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کر دیے ہیں جو نیتن یاہو کے کمزور اتحاد کو برقرار رکھتی ہیں، اور دو ریاستی حل کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے – وہ کام جس سے حتیٰ کہ سب سے زیادہ اسرائیل نواز امریکی صدور بھی گریز کرتے رہے، واضح وجوہات کی بنا پر۔

اسرائیل کی انتہا پسند دائیں بازو کی قوتیں ایک عرصے سے ایسے غزہ کا خواب دیکھ رہی ہیں جس میں غزہ کے لوگ نہ ہوں، کیونکہ النکبہ کے دوران فلسطینیوں کو مکمل طور پر بے دخل کرنے میں ناکامی ہوئی تھی۔ اور وہ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ خواب اچانک یوں حقیقت بننے والا ہے، حالانکہ انہوں نے پورے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور پچھلے 15 سے 16 مہینوں میں بے رحمی سے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کیا۔

اور پھر، اچانک، ٹرمپ نے انہیں یہ تحفہ دنیا کے سب سے طاقتور پلیٹ فارم سے دے دیا۔ اب اسرائیل اس سے کم پر راضی نہیں ہو گا، مصر اور اردن مستقل مہاجرین قبول نہیں کریں گے، اور فلسطینی اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کر دیں گے، جس کا مطلب ہے کہ ایک اور زیادہ بھیانک اور زیادہ شدید جنگ کا آغاز ناگزیر ہے – جسے امریکہ کی مرضی یا نادانستہ حمایت حاصل ہو گی – اور جس کے لیے، وقت کے ساتھ، واشنگٹن کے دوست اور دشمن یکساں طور پر ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ۔

اور مت بھولیے کہ ٹرمپ کو ٹیرف (محصولات) بہت پسند ہیں، اور اس کا مطلب ہے ٹیرف جنگیں؛ جو ایک اور بہترین مثال ہے کہ کیسے ایک ”طاقتور رہنما“ کی خود تباہ کن پالیسیاں اسی اندھے حمایتی طبقے کی زندگیوں کو اور زیادہ بدتر بنا دیتی ہیں جو اس کی حماقتوں پر تالیاں بجاتے ہیں۔

یہ محصولات اس کے وفادار حامیوں کے لیے خوراک، ایندھن اور گاڑیاں مزید مہنگی کر دیں گے، جو پھر اپنی مہنگائی سے پیدا ہونے والی مایوسی کو مزید مہنگی (ٹیرف شدہ) شراب اور بیئر میں ڈبو دیں گے، اور سوچیں گے کہ کب سپہ سالارِ اعلیٰ کا مہنگائی کم کرنے کا وعدہ پورا ہو گا۔

اس کے علاوہ، جیسا کہ میکسیکو اور کینیڈا پر محصولات کے اعلان اور اس کے فوری یوٹرن سے پہلے کے چند گھنٹوں میں دیکھا گیا، ایسی پالیسیاں عالمی مالیاتی منڈیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیتی ہیں، جس سے سرمایہ تیزی سے امریکی ڈالر اور امریکی خزانے (یو ایس ٹریژری) میں منتقل ہو جاتا ہے۔

یہ سب کے لیے بری خبر ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے، کیونکہ ایک مضبوط امریکی ڈالر غیر مستحکم مارکیٹوں سے سرمایہ کھینچ لیتا ہے، ڈالر سے وابستہ قرضوں (جیسے پاکستان کے قرضے) کو مزید مہنگا کر دیتا ہے، اور مقامی کرنسیوں کو کمزور کر دیتا ہے، بغیر کسی کی غلطی کے۔

دور ہوتے اتحادی، زیادہ خونی مشرق وسطیٰ، ابھرتی معیشتوں پر دباؤ، مکمل ٹیرف جنگیں، اور امریکہ میں مزید مہنگائی – یہ سب مل کر ”امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے“ کے لیے ایک حیران کن نسخہ ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے، کب تک امریکی عوام ”بے سمت جو“ (بائیڈن) کے دور کو محبت سے یاد کرنے لگیں گے؟

جدید امریکی سیاست اور سیاستدانوں میں اتنا کچھ ہے جو یونانی اور لاطینی کلاسیکی دور کے اس قدیم اور ناقابل تردید قانون کی یاد دلاتا ہے: ”جنہیں دیوتا تباہ کرنا چاہتے ہیں، پہلے انہیں پاگل بنا دیتے ہیں۔“ تویل عرصے میں، شاید ٹرمپ امریکہ کی اپنی عالمی حیثیت کو ہی سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف