معدنیات نکالنے سے آگے: پاکستان کی معدنی دولت کو قومی خوشحالی میں کیسے بدلا جائے؟
- پاکستان کی معدنی دولت کا اصل فائدہ صرف خام معدنیات نکالنے اور برآمد کرنے میں نہیں، بلکہ انہیں مقامی سطح پر پراسیس کرکے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے مواقع اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کی بنیاد بنانے میں ہے۔
پاکستان آئندہ ہفتے اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد کی تیاری کر رہا ہے، جس میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں، کان کنی کی کمپنیوں اور صنعتی ماہرین کی شرکت متوقع ہے۔ ایسے میں سرمایہ کاری راغب کرنے کے فوری مقصد سے آگے بڑھ کر اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ معدنیات کا ایسا شعبہ کیسے ترقی دے سکتا ہے جو پاکستان کے لیے دیرپا معاشی قدر پیدا کرے، ملکی تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دے اور صنعتی ترقی و روزگار کے مواقع پیدا کرے۔
پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم کئی دہائیوں سے اس کی بیشتر صلاحیت بروئے کار نہیں لائی جاسکی۔ ہمیں محض یہ سوال نہیں اٹھانا چاہیے کہ ہم سرمایہ کاری راغب کرنے میں کیوں ناکام رہے بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں معدنی وسائل کی معلوم صلاحیت کو تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل منصوبوں اور ایک مستحکم کان کنی کی صنعت میں تبدیل کرنے میں کیوں ناکام رہیں۔
ماضی اور ضائع ہونے والے مواقع سے کئی اہم اسباق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان میں اٹھارہویں آئینی ترمیم سے بھی بہت پہلے معدنیات کا شعبہ صوبائی دائرہ اختیار میں شامل تھا۔ چنانچہ صوبوں کے پاس اپنے معدنی وسائل کو ترقی دینے اور ان کے انتظام کے لیے ضروری ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی تھی اور موقع بھی۔ بدقسمتی سے یہ ذمہ داری مناسب طور پر پوری نہیں کی گئی۔
دوسری جانب وفاقی حکومت بھی ملک کے بعض اہم تکنیکی اور پیشہ ورانہ اداروں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے میں ناکام رہی۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی)، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (این آئی او) ایسے ادارے ہیں جن کے پاس برسوں کا قومی تجربہ اور مہارت موجود ہے، جنہیں ملک کے معدنی وسائل کی ترقی میں کہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دیا جاسکتا تھا۔
ریسورس ڈیولپمنٹ کارپوریشن (آر ڈی سی)، جو اب اپنی اصل شکل میں موجود نہیں، بھی اس حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ اسی ادارے نے پاکستان کے ابتدائی بڑے کان کنی منصوبوں میں سے ایک، سیندک میں تلاش اور ترقیاتی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ ان اداروں اور ان کے جانشین اداروں کو مضبوط بنانے اور انہیں قومی معدنی ترقی کے مؤثر ذرائع میں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔
سیندک کا تجربہ، تھر کے کوئلے کی ترقی میں طویل تاخیر اور ریکوڈک کی تاریخ، سب کا سنجیدہ ادارہ جاتی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ فیصلوں میں تاخیر، ناکافی تیاری، حکمت عملی میں بار بار تبدیلی اور کمزور باہمی رابطہ کاری کے باعث پاکستان کا قیمتی وقت اور مواقع ضائع ہوئے ہیں۔ اگرچہ اب پیش رفت ہورہی ہے، تاہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے بغیر آگے بڑھنے کے بجائے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا غلط ہوا تھا۔
پاکستان کو ہر صلاحیت ازسرِنو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنے موجودہ اداروں کو دوبارہ فعال بنانا، ان کی ٹیکنالوجی جدید خطوط پر استوار کرنا، پیشہ ورانہ استعداد بڑھانا اور معدنی ترقی کے اگلے مرحلے میں ان کی ذمہ داریاں واضح کرنا ہوں گی۔
سرمایہ کاری کے ساتھ ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی منتقلی بھی ضروری
غیر ملکی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، بالخصوص بڑے پیمانے پر معدنی ذخائر کی تلاش اور کان کنی کے ایسے منصوبوں کے لیے جن میں بھاری سرمایہ، خصوصی ٹیکنالوجی اور ارضیاتی و تجارتی خطرات برداشت کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
تاہم مشترکہ منصوبوں کا جائزہ محض سرمایہ کاری کے وعدوں یا ان معدنی ذخائر کے حجم کی بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے جنہیں ترقی دینے کی تجویز پیش کی گئی ہو۔ ان منصوبوں سے پاکستان میں پیدا ہونے والی دیرپا صلاحیتوں کو بھی جانچنا ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی افرادی قوت کی مہارتوں میں اضافہ اور پاکستانی پیشہ ور افراد کی تربیت کو بڑے مشترکہ منصوبوں کے معاہدوں کا قابلِ پیمائش حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ان معاہدوں میں پاکستانی ماہرینِ ارضیات، کان کنی کے انجینئرز، دھات کاری کے ماہرین اور تکنیکی منتظمین کی تربیت کے واضح اہداف شامل ہونے چاہئیں، جبکہ بتدریج اعلیٰ تکنیکی اور انتظامی عہدوں پر بھی ان کی نمائندگی بڑھائی جانی چاہیے۔
ان شراکت داریوں کے نتیجے میں پاکستان کو محض فعال کانیں ہی حاصل نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ایسی مہارت اور تکنیکی صلاحیت بھی پیدا ہونی چاہیے جس کے ذریعے وہ مستقبل میں زیادہ پیچیدہ معدنی تلاش، کان کنی اور پراسیسنگ کی سرگرمیاں خود انجام دینے کے قابل ہوسکے۔
معدنیات نکالنے سے آگے بڑھ کر ان کی قدر میں اضافہ
ایک اور اہم ترجیح ملک میں معدنیات کی پراسیسنگ کی سہولتیں قائم کرنا ہونا چاہیے۔ تانبے، سونے، لیتھیم، نایاب ارضی عناصر اور دیگر معدنیات کو زمین سے نکالنا معاشی مواقع کا محض ابتدائی مرحلہ ہے۔ ان معدنیات کی افادیت اور معیار بہتر بنانے، انہیں مرتکز کرنے، صاف کرنے، پگھلانے اور بعد ازاں تیار مصنوعات بنانے کے مراحل سے کہیں زیادہ معاشی قدر پیدا کی جاسکتی ہے۔
پاکستان کو کان کنی کے منصوبوں کے ساتھ تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل پراسیسنگ کی سہولتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ خام یا معمولی پراسیسنگ شدہ معدنیات کی برآمد کو خودکار طور پر قبول کرلیا جائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی پراسیسنگ کی شرائط عائد کردی جائیں جو معاشی اعتبار سے قابلِ عمل نہ ہوں۔ توانائی کی دستیابی، بنیادی ڈھانچے، پانی، بڑے پیمانے پر پیداوار سے حاصل ہونے والی لاگت کی بچت اور عالمی منڈیوں تک رسائی، ان تمام عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تاہم ملکی سطح پر معدنیات کی قدر میں اضافے کو سرمایہ کاری کی پالیسی کا بنیادی پہلو ہونا چاہیے۔
طویل مدتی ہدف معدنیات پر مبنی صنعتی مراکز قائم کرنا ہونا چاہیے، جہاں بڑے کان کنی منصوبوں کے گرد انجینئرنگ کمپنیاں، مشینری تیار کرنے والے ادارے، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اور معدنیات سے متعلق بعد کے صنعتی شعبے بھی سرمایہ کاری کریں۔
مقامی کان کنی کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا
مقامی کان کنی کی کمپنیوں پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان میں سے بہت سی جدید معدنیاتی تحقیق کی تکنیکوں، آلات اور پیشہ ورانہ مہارت تک رسائی نہیں رکھتیں۔ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے مقامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو جدید ترین آلات اور انتہائی تجربہ کار ماہرین کی مدد سے اعلیٰ معیار کی معدنی تلاش، پیداوار اور دیگر معاون خدمات فراہم کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر اس مقصد کے لیے بین الاقوامی اشتراک سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
وسائل کے زیادہ سے زیادہ حصول اور منافع بخش پیداوار کے لیے مناسب ارضیاتی تحقیقات، معدنی ذخائر کا درست تخمینہ، کان کنی کی منصوبہ بندی اور جدید طریقہ ہائے استخراج ناگزیر ہیں۔ ناقص تحقیق اور غیر مؤثر طریقوں سے کان کنی کے نتیجے میں قیمتی وسائل غیر استعمال شدہ رہ سکتے ہیں، پیداواری اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور معدنی ذخائر کی طویل مدتی معاشی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
حکومت، جامعات، ارضیاتی اداروں اور نجی شعبے کی انجمنوں کو مل کر مقامی کان کنی کے اداروں کے لیے تکنیکی معاونت اور تربیتی پروگرام تیار کرنے چاہئیں۔ جدید مشینری، تجربہ گاہوں، پیشہ ورانہ ارضیاتی خدمات اور مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
اسی طرح ذمہ دارانہ کان کنی، کارکنوں کی صحت و سلامتی، ماحولیاتی تحفظ، کان کنی کے فضلے کے انتظام اور کانوں کی بحالی سے متعلق قابلِ عمل قوانین اور ضوابط بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ کارکنوں کی حفاظت کو ثانوی اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ ذمہ دارانہ کان کنی کے طریقے انسانی فلاح و بہبود اور اس صنعت کی طویل مدتی پائیداری، دونوں کے لیے ناگزیر ہیں۔
وفاق اور صوبوں کے تعلقات میں وضاحت
وفاق اور صوبوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورت حال کا مستقل سبب نہیں بننی چاہیے۔ یہ معاملہ ذرائع ابلاغ میں بے بنیاد بحث کا موضوع بھی نہیں بننا چاہیے۔
صوبائی ملکیت اور آئینی ذمہ داریوں کا احترام ضروری ہے، تاہم قومی معاشی مفادات کے لیے مؤثر رابطہ کاری بھی ناگزیر ہے۔ معدنی لائسنسوں کے اجرا، ضابطہ کاری اور وسائل کے انتظام میں صوبوں کے اختیارات اور صلاحیتیں واضح ہونی چاہئیں، جبکہ وفاق اپنے آئینی دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے قومی سرمایہ کاری پالیسی، بین الاقوامی روابط، ارضیاتی معلومات، بنیادی ڈھانچے کی رابطہ کاری اور برآمدات کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان مستقل رابطہ کاری کا نظام قائم کرنے سے اختیارات کے باہمی تداخل سے متعلق مسائل حل کرنے، پالیسیوں میں یکسانیت پیدا کرنے اور سرمایہ کاروں کو ایک قابلِ پیش گوئی ادارہ جاتی نظام فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صوبائی حقوق اور قومی معاشی مفادات کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ باہم تکمیل کرنے والے مقاصد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
شفافیت، سلامتی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد
سرمایہ کاروں کو معدنی لائسنسوں، رائلٹی، ٹیکسوں، زمین تک رسائی، ماحولیاتی ذمہ داریوں اور تنازعات کے حل سے متعلق واضح اور قابلِ پیش گوئی قواعد درکار ہوتے ہیں۔ معدنی حقوق شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے ذریعے دیے جانے چاہئیں، جن میں سرمایہ کاری کے واضح وعدے اور جواب دہی کا نظام موجود ہو۔
مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے یکساں اور منصفانہ مسابقت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ غیر شفاف رعایتیں، صوابدیدی فیصلے اور ضوابط میں عدم تسلسل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
امن و امان کی صورت حال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کان کنی کے منصوبوں، بالخصوص دور دراز علاقوں میں قائم منصوبوں کے لیے کارکنوں، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاروں کی حفاظت کی غرض سے ایک محفوظ ماحول ضروری ہے۔ یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کا ایک اہم جزو ہے اور متعلقہ حکام کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔
مقامی آبادیوں کو بھی روزگار، تربیت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور کان کنی سے متعلق سپلائی چین میں مقامی کاروباری اداروں کی شرکت کے مواقع فراہم کرکے معاشی عمل میں شراکت دار بنایا جانا چاہیے۔
کامیابی کا پیمانہ یہ ہو کہ پاکستان کو کیا حاصل ہوا
ہماری معدنی پالیسی کی کامیابی کا اندازہ محض دستخط کیے جانے والے سرمایہ کاری معاہدوں کی تعداد، اعلان کردہ غیر ملکی سرمائے کی مالیت یا نکالی جانے والی معدنیات کے حجم سے نہیں لگایا جانا چاہیے۔
اس کا اصل پیمانہ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والی اضافی معاشی قدر، منتقل کی جانے والی ٹیکنالوجی، فروغ پانے والی مہارتوں، مقامی کاروباری اداروں کی ترقی، پیدا ہونے والے روزگار اور صوبائی و قومی معیشتوں میں ہونے والا حصہ ہونا چاہیے۔
پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنی معدنی دولت کو صنعتی ترقی، زرمبادلہ کے حصول، تکنیکی پیش رفت اور روزگار کے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بنائے۔ لہٰذا مقصد محض کمپنیوں کو ہماری معدنیات نکالنے کے لیے راغب کرنے سے کہیں بڑھ کر ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی ترقی اور وسائل کے ذمہ دارانہ انتظام کے ذریعے ایک مسابقتی قومی کان کنی اور معدنی پراسیسنگ کی صنعت قائم کرنا اصل ہدف ہونا چاہیے۔
ہماری معدنی دولت کو محض زمین سے نکال کر فروخت نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ہمارے صنعتی اور معاشی مستقبل کی بنیاد بننا چاہیے۔
نوٹ: ضروری نہیں کہ یہ مضمون بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔


Comments