امریکی وسط مدتی انتخابات : عبدل السید کی تاریخی کامیابی امریکا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
- اپنی مسلم شناخت پر ہونے والے حملوں کا جواب دیتے ہوئے طنزیہ انداز اور برجستہ جملوں کے استعمال کی صلاحیت ان کی عوامی شخصیت کا نمایاں حصہ بن گئی
مشی گن میں امریکی سینیٹ کے انتخاب میں عبدل السید کی کامیابی کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن کر مصری نژاد امریکی معالج اور ترقی پسند سیاست دان نے امریکی سیاست میں مذہبی بنیاد پر موجود ایک اہم رکاوٹ عبور کر لی ہے۔
تاہم ان کی انتخابی مہم نے ایک اور اہم کام بھی کیا، وہ یہ کہ امریکا میں ایک مسلمان کی شناخت اور زندگی کا ایک مختلف، زیادہ ذاتی اور عام لوگوں سے قریب تر تصور پیش کیا۔
ایسے وقت میں جب امریکا میں مسلمانوں کا ذکر اکثر دہشت گردی، انتہا پسندی، امیگریشن اور قومی سلامتی کے تناظر میں کیا جاتا ہے عبدل السید نے اس سے بالکل مختلف تصویر پیش کی۔
انہوں نے اپنی خاندانی زندگی، مزاحیہ انداز، سوشل میڈیا پر موجودگی اور سیاسی طرزِ عمل کے ذریعے خود کو محض ایک مسلمان سیاست دان کے طور پر نہیں بلکہ ایک والد، شوہر، پڑوسی اور عام امریکی شہری کے طور پر متعارف کرایا۔
عبدالسید کون ہیں؟
امریکا میں مصری تارکینِ وطن والدین کے گھر پیدا ہونے والے عبدالسید پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر، ماہرِ صحتِ عامہ اور ریاست مشی گن کے وین کاؤنٹی محکمہ صحت کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔
انہوں نے پہلی مرتبہ 2018 میں اس وقت قومی سطح پر توجہ حاصل کی جب انہوں نے مشی گن کے گورنر کا انتخاب لڑا، تاہم وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکے۔
اس کے بعد بھی انہوں نے ترقی پسند سیاست دان کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھی اور سب کے لیے یکساں صحت کی سہولیات، معاشی مساوات اور سیاست میں بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے مہم چلائی۔
2026 میں سینیٹ کے انتخابات میں ان کی انتخابی مہم ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کے خلاف کامیابی پر منتج ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے۔
یہ کامیابی انہیں اپنی مسلم شناخت کی بنیاد پر مسلسل تنقید اور حملوں کے باوجود حاصل ہوئی۔ ان حملوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ری پبلکن رہنماؤں کی جانب سے انہیں انتہا پسندی سے جوڑنے اور امریکا سے ان کی وفاداری پر سوال اٹھانے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔عبدل السید نے ان الزامات کو مسترد کیا۔
اس طرح ان کی کامیابی محض ایک سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ امریکی معاشرے اور سیاست میں اسلاموفوبیا کے مسلسل موجود رہنے کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ایک مسلمان والد کی نرم اور ذاتی زندگی کی تصویر
عبدل السید کی انتخابی مہم کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ووٹرز کو اپنی خاندانی زندگی کی جھلک دکھائی۔
اکتوبر کے آخری دنوں میں انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس کا عنوان ’’بیڈ ٹائم ڈیوٹیز‘‘ (سونے کے وقت کی ذمہ داریاں) تھا، میں عبدل السید نے ناظرین کو اپنے گھر کی سیر کرائی اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ رات کے معمولات دکھائے۔
انتخابی مہم کے دوران طویل اور مصروف دن گزارنے کے بعد انہوں نے گھر واپسی کے ملے جلے احساسات کا ذکر کیا۔ ایک طرف بچوں کو دیکھنے کی خوشی اور دوسری جانب مشی گن بھر میں انتخابی سرگرمیوں کے لیے سفر کے باعث ان کی زندگی کے روزمرہ لمحات سے محروم رہنے کا افسوس بھی ان کے احساسات کا حصہ تھا۔
یہ بظاہر ایک سادہ سی ویڈیو تھی، لیکن اس کی اہمیت قابلِ توجہ تھی۔ سیاسی تقاریر یا مذہبی دلائل کے ذریعے اپنی شخصیت پیش کرنے کے بجائے انہوں نے عوام کو اپنی روزمرہ زندگی کا ایک عام سا رخ دکھایا۔ ایک ایسا والد جو اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، انہیں سلانے کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے اور مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ خاندانی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
مسلمان ناظرین کے لیے اس ویڈیو کا ایک اضافی پہلو بھی تھا۔ مغربی سیاسی مباحث میں مسلمان مردوں کو بعض اوقات مخصوص منفی تصورات کے تحت پیش کیا جاتا ہے، ایسے میں اس ویڈیو نے ایک محبت کرنے والے اور بچوں کی پرورش میں فعال کردار ادا کرنے والے والد کی واضح تصویر پیش کی۔
اس کا مقصد یہ نہیں کہ غیر مسلموں کے سامنے مسلمان والد کے کردار کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ روزمرہ خاندانی زندگی کے عام تجربات کسی سیاسی بحث یا دلیل کے بغیر بھی معاشرے میں موجود غلط تصورات کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
یہ ویڈیو اس حقیقت کی یاد دہانی بھی تھی کہ مسلمان بھی دوسرے لوگوں کی طرح بچوں کی پرورش، ملازمت اور خاندانی زندگی کے معمول کے مسائل اور ذمہ داریوں سے گزرتے ہیں۔
مزاح، حاضر جوابی اور اوباما سے موازنہ
عبدل السید کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا حسِ مزاح اور حاضر جوابی ہے۔ وہ روایتی سیاسی بیانات دینے کے بجائے دلچسپ جملوں اور برجستہ انداز میں اپنی بات پیش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس کی ایک یادگار مثال سابق امریکی صدر باراک اوباما سے متعلق ہے۔ عبدل السید نے اوباما کی صدارت کے بعض پہلوؤں، خصوصاً ڈرون حملوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق ان کے طرزِ عمل پر تنقید کی تھی۔
اوباما کے ساتھ اپنے تعلق اور اختلافات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک عام فہم مثال دی کہ اپنے والد سے محبت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان کے ہر کام سے اتفاق بھی کریں۔
اس مثال کے ذریعے انہوں نے اپنا مؤقف واضح کیا کہ وہ اوباما کی تاریخی اہمیت اور اثر و رسوخ کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی پالیسیوں سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔
یہ انداز پیچیدہ سیاسی مؤقف کو روزمرہ زندگی کی مثالوں کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچانے کی ان کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ دفاعی انداز اختیار کرنے کے بجائے انہوں نے مزاح کے ذریعے اپنی بات کو آسان اور قابلِ فہم بنایا۔
اسی طرح اپنی مسلم شناخت پر ہونے والے حملوں کا جواب دیتے ہوئے طنزیہ جملوں اور برجستہ جوابات کا استعمال بھی ان کی عوامی شخصیت کا نمایاں حصہ بن گیا۔ وہ مخالفانہ رویوں کا جواب ہمیشہ سنجیدگی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ بعض اوقات مزاح کے ذریعے اپنے مخالفین کے دلائل کی ان کے نزدیک مضحکہ خیزی کو نمایاں کرتے تھے۔
عبدالسید کی کامیابی مسلمانوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
امریکی مسلمانوں کے لیے عبدل السید کا انتخاب سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان اپنی مذہبی شناخت چھپائے بغیر امریکی سیاسی قیادت کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے۔
خصوصاً نوجوان مسلمانوں کے لیے، جنہوں نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اسلاموفوبیا کے ماحول میں پرورش پائی، ان کی کامیابی سیاسی عمل میں شرکت کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی کامیابی مسلم دنیا میں توجہ حاصل کرے گی، خصوصاً ان حلقوں میں جو مغربی معاشروں میں مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ اور فلسطین کے حوالے سے امریکی پالیسی پر تشویش رکھتے ہیں۔
اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر ان کی تنقید اور فلسطینی عوام کی مشکلات پر کھل کر بات کرنے کا انداز انہیں عالمی سطح پر مزید اہم بنا سکتا ہے۔
تاہم ان کا انتخاب خود بخود امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا باعث نہیں بنے گا اور نہ ہی وہ تمام مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
صرف پہلے مسلمان سینیٹر بننے سے بڑھ کر
عبدل السید کے سیاسی عروج کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ووٹرز سے رابطہ قائم کرنے کے لیے صرف اپنی مسلم شناخت پر انحصار نہیں کیا۔
انہوں نے عوام کو ایک ایسے مسلمان والد کی تصویر دکھائی جو اپنی بیٹیوں کو سلاتا ہے، ایک ایسے شوہر کی جو خاندانی زندگی پر بات کرتا ہے، ایک ایسے سیاست دان کی جو سابق صدور کے بارے میں مزاحیہ انداز اختیار کرتا ہے اور ایک ایسی عوامی شخصیت کی جو طاقتور سیاسی مخالفین کو چیلنج کرنے سے گریز نہیں کرتی۔
اس لیے ان کی کامیابی صرف مذہبی رکاوٹ توڑنے تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی شناخت، معاشرتی قبولیت اور امریکی مسلمانوں کے اپنے تشخص کو خود متعین کرنے کی صلاحیت سے بھی جڑی ہوئی ہے، بجائے اس کے کہ ان کی شناخت سیاسی مخالفین کے ہاتھوں متعین کی جائے۔
دنیا بھر میں عبدل السید کی کامیابی کو دیکھنے والے مسلمانوں کے لیے اس میں ایک اہم پیغام موجود ہے: سیاسی نمائندگی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اقتدار کے کسی منصب پر آپ کے مذہب سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی عام انسانی زندگی، احساسات اور شخصیت کو بھی کھل کر سامنے آنے کا موقع ملے۔


Comments