BR100 Increased By (1.8%)
BR30 Increased By (2.59%)
KSE100 Increased By (1.63%)
KSE30 Increased By (1.69%)
BAFL 56.88 Decreased By ▼ -1.24 (-2.13%)
BIPL 23.49 Increased By ▲ 0.11 (0.47%)
BOP 29.30 Increased By ▲ 1.21 (4.31%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.20 (1.7%)
DFML 15.25 Increased By ▲ 0.19 (1.26%)
DGKC 192.89 Increased By ▲ 7.86 (4.25%)
FABL 91.00 Decreased By ▼ -1.79 (-1.93%)
FCCL 56.49 Increased By ▲ 2.03 (3.73%)
FFL 13.14 Increased By ▲ 0.07 (0.54%)
GGL 18.34 Increased By ▲ 0.64 (3.62%)
HBL 291.50 Increased By ▲ 5.34 (1.87%)
HUBC 203.40 Increased By ▲ 6.16 (3.12%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
KEL 5.85 Increased By ▲ 0.22 (3.91%)
LOTCHEM 24.31 Increased By ▲ 0.48 (2.01%)
MLCF 96.80 Increased By ▲ 3.82 (4.11%)
OGDC 309.24 Increased By ▲ 5.61 (1.85%)
PAEL 32.73 Increased By ▲ 0.82 (2.57%)
PIBTL 13.11 Increased By ▲ 0.37 (2.9%)
PIOC 251.00 Increased By ▲ 10.59 (4.4%)
PPL 216.99 Increased By ▲ 4.08 (1.92%)
PRL 85.75 Increased By ▲ 1.41 (1.67%)
SNGP 93.70 Increased By ▲ 3.67 (4.08%)
SSGC 23.27 Increased By ▲ 0.44 (1.93%)
TELE 6.67 Increased By ▲ 0.17 (2.62%)
TPLP 13.10 Increased By ▲ 1.11 (9.26%)
TRG 52.99 Increased By ▲ 1.52 (2.95%)
UNITY 7.77 Increased By ▲ 0.19 (2.51%)
WTL 0.93 Decreased By ▼ -0.02 (-2.11%)

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اکتوبر کے قیمتوں کے اشاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال اگست سے اکتوبر کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگست میں یہ شرح 11.1 فیصد، ستمبر میں 10.3 فیصد جبکہ اکتوبر میں کم ہوکر 9.6 فیصد رہی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باوجود مہنگائی میں یہ کمی، جس کے باعث مغربی ممالک سمیت دنیا بھر میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور فرانس سے برلن اور اٹلی تک مظاہرین سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، دو اہم پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہے۔

اول، مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر مختلف ممالک نے اپنے عوام کو ریلیف فراہم کرنا شروع کردیا جس کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی اور/یا پٹرول پمپوں پر براہِ راست سبسڈی دینے جیسے اقدامات کیے گئے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی ایسا ہی اقدام کیا، تاہم 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملے کے فوراً بعد اعلان کردہ سبسڈی کو بعد ازاں آئی ایم ایف کے تحفظات کے باعث معطل کردیا گیا۔ فنڈ کا مؤقف تھا کہ بجٹ میں مختص نہ ہونے کے باعث یہ سبسڈی حکومت کی جانب سے طے شدہ معاشی اصلاحات کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ 7 اکتوبر کو جاری پروگرام کے چوتھے جائزے کے اختتام پر اپنے اعلامیے میں آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ ایندھن پر ریلیف کی اسکیم کو اس کی بھاری لاگت اور وسیع دائرہ کار کے پیش نظر فوری مرحلہ وار ختم کیا جانا چاہیے۔ مستقبل میں اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھیں تو ایندھن پر کسی بھی قسم کی معاونت محدود مدت کے لیے ہونی چاہیے، اس کا ہدف ضرورت مند طبقات ہوں اور اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود سماجی معاونت کے پروگراموں سے استفادہ کیا جائے جبکہ اس پر آنے والے اخراجات مالی سال 2027 کے بجٹ کی مختص رقم کے اندر رکھے جائیں۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے اعدادوشمار کی ساکھ مشکوک ہے۔ آئی ایم ایف نے اکتوبر 2024 میں جاری اپنی دستاویز 2024 آرٹیکل فور مشاورت اور توسیعی فنڈ سہولت کے تحت توسیعی پروگرام کی درخواست میں نشاندہی کی تھی کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے دستیاب بنیادی اعدادوشمار میں اب بھی اہم خامیاں موجود ہیں جبکہ حکومتی مالی اعدادوشمار (جی ایف ایس) کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔ فنڈ نے مزید کہا تھا کہ وہ حکومتی مالیاتی اعداد و شمار (جی ایف ایس) اور پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کی تیاری کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ پی بی ایس مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی کھاتوں کی آئندہ ازسرنو تشکیل سے قبل چار بڑے سروے کا فیلڈ ورک بھی جلد شروع کرے گا۔ تکنیکی معاونت کا یہ عمل جون 2026 کے آخر تک مکمل ہونا طے تھا، تاہم پی بی ایس کے عملے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فنڈ نے مزید بہتری اور ردوبدل کی نشاندہی کی تھی، جس کے باعث اس کی تکمیل کی مقررہ مدت بڑھا کر رواں سال اکتوبر کے آخر تک کردی گئی۔ تاہم، پی بی ایس سے بارہا یہ دریافت کرنے کے باوجود کہ آیا تکنیکی معاونت کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور فنڈ نے اس کا جائزہ بھی لے لیا ہے، تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بنیادی مہنگائی جس میں غذائی اشیا اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں، 8.6 فیصد سے کم ہوکر 7.8 فیصد رہ گئی، یعنی اس میں 0.8 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ مہینوں میں بنیادی مہنگائی میں اسی نوعیت کی کمی کو پالیسی ریٹ گھٹانے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم 26 اکتوبر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا۔ کمیٹی نے اس اضافے کی وجہ یہ بتائی کہ ’’بنیادی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر مستحکم ہوگئی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بنیادی مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار کے تناظر میں کمیٹی کا یہ تخمینہ درست نہیں تھا۔ ان کے نزدیک یہ اس مؤقف کا ایک اور ثبوت ہوسکتا ہے کہ ایم پی سی پالیسی ریٹ کا تعین غلط تخمینوں اور تقریباً یقینی طور پر آئی ایم ایف کی سفارشات کی بنیاد پر کررہی ہے۔

نتیجتاً، رواں سال مہنگائی کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی ہے جو 4.79 فیصد سے بڑھ کر 10.05 فیصد ہوگئی ہے اور بلاشبہ اس اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کا تنازع ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ تھوک قیمتوں کے اشاریے (ڈبلیو پی آئی) میں ریکارڈ کیا گیا، جو مالی سال 2025-26 میں 0.05 فیصد تھا، جبکہ رواں سال بڑھ کر 12.10 فیصد ہوگیا۔ ماہرینِ شماریات کا کہنا ہے کہ تھوک قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات غریب اور کمزور طبقات پر واضح طور پر مرتب ہوئے ہیں جن کی عکاسی حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) سے ہوتی ہے۔ یہ اشاریہ گزشتہ سال کے 2.76 فیصد کے مقابلے میں رواں سال بڑھ کر 9.62 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف