بجلی بریک ڈاؤن کیس، نیپرا نے سیف پاور کے خلاف قانونی کارروائی ختم کردی
- یہ کارروائی 23 جنوری 2023 کو ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے بعد شروع کی گئی تھی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 23 جنوری 2023 کے ملک گیر بجلی بریک ڈاؤن کے بعد پیداواری یونٹس کی تاخیر سے بحالی کے الزام پر سیف پاور لمیٹڈ کے خلاف قانونی کارروائی ختم کردی اور قرار دیا کہ معاملہ کسی ریگولیٹری جرمانے کا متقاضی نہیں۔
نیپرا کے جاری کردہ فیصلے کے مطابق اتھارٹی نے نیپرا جرمانہ ضوابط 2021 کے تحت 5 دسمبر 2024 کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس پر سیف پاور لمیٹڈ کا جواب قبول کرتے ہوئے ضابطے کی شق 4(12) کے تحت کارروائی بند کردی۔
یہ کارروائی 23 جنوری 2023 کو ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے بعد شروع کی گئی تھی، جس کے باعث پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا تھا اور بجلی کی مکمل بحالی میں تقریباً 20 گھنٹے لگے تھے۔
ریگولیٹری ریکارڈ کے مطابق سیف پاور لمیٹڈ کے بس بار پر بجلی کی فراہمی 23 جنوری کو رات 10 بج کر 35 منٹ پر بحال ہوئی۔ نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) نے اسی روز رات 11 بج کر 26 منٹ پر یونٹ جی ٹی ون جبکہ 24 جنوری کو رات 12 بج کر 50 منٹ پر ایس ٹی جی یونٹ کو سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
تاہم کمپنی نے جی ٹی ون کو 24 جنوری کی رات ایک بج کر 30 منٹ پر جبکہ ایس ٹی جی یونٹ کو رات ایک بج کر 8 منٹ پر سسٹم کے ساتھ منسلک کیا۔ نیپرا کی ابتدائی تحقیقات میں جی ٹی ون کی بحالی میں 2 گھنٹے اور 4 منٹ جبکہ ایس ٹی جی یونٹ میں 18 منٹ کی تاخیر کی نشاندہی کی گئی تھی۔
نیپرا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ این پی سی سی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے سے بجلی کی بحالی کا عمل متاثر ہوا۔ اسی بنیاد پر کمپنی کے خلاف نیپرا ایکٹ، جنریشن لائسنسنگ قواعد 2000 اور گرڈ کوڈ کی متعلقہ شقوں کی مبینہ خلاف ورزی پر کارروائی شروع کی گئی۔
سیف پاور لمیٹڈ نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ یونٹس کی ہم آہنگی اور بجلی کی ترسیل سے متعلق ہدایات اس کے بجلی خریداری معاہدے (پی پی اے) کے تحت آتی ہیں، جس میں تاخیر کی صورت میں جرمانے اور دیگر تدارکاتی اقدامات پہلے ہی موجود ہیں۔ کمپنی کے مطابق بجلی خریدار اس معاملے پر پہلے ہی جرمانہ عائد کرچکا ہے، لہٰذا نیپرا کی جانب سے مزید سزا دہری سزا کے مترادف ہوگی۔
کمپنی نے مزید کہا کہ یونٹس کی بحالی میں تاخیر خودکار اسٹارٹ اپ نظام اور تکنیکی حفاظتی تقاضوں کے باعث ہوئی، تاکہ پاور پلانٹ کو محفوظ طریقے سے چلایا جاسکے۔
نیپرا نے 8 اگست 2025 کو اسلام آباد میں کمپنی کا مؤقف سننے کے بعد قرار دیا کہ دستیاب شواہد اور مبینہ خلاف ورزی کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے نیپرا ایکٹ کے تحت جرمانہ عائد کرنے کی ضرورت نہیں بنتی۔ اتھارٹی نے مزید کارروائی کو غیر متناسب قرار دیتے ہوئے سیف پاور لمیٹڈ کا جواب قبول کرلیا اور قانونی کارروائی ختم کردی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments