مارویل کا لومینٹم کو 115 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ، اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر بڑی سرمایہ کاری
- مارویل کا لومینٹم کو 115 ارب ڈالر میں خریدنے کا فیصلہ، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار آپٹیکل رابطوں کے مستقبل پر بڑا داؤ
چپ ساز کمپنی مارویل ٹیکنالوجی، آپٹیکل پرزے بنانے والی کمپنی لومینٹم کو قرض سمیت 115 ارب ڈالر کے مکمل حصص کے تبادلے کے معاہدے کے تحت خرید رہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے کسٹم چپس بنانے والی کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانے کی دوڑ میں اپنے بڑے حریف براڈکام کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پیر کے روز اعلان کیا گیا یہ معاہدہ 2026ء کے بڑے کاروباری سودوں میں سے ایک ہے اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع پر اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاریوں میں شمار ہوتا ہے۔ چپ ساز کمپنیوں کے سربراہان کو توقع ہے کہ اس شعبے میں توسیع آنے والے کئی برسوں تک صنعتی طلب کو سہارا دیتی رہے گی۔
تاہم بھاری سرمایہ کاری کے اس رجحان کو بھی ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے، کیونکہ سرمایہ کار منافع کے سکڑتے مارجن اور نقد بہاؤ میں سست روی کے باعث اس کی پائیداری پر سوال اٹھانے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں چپ ساز کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
مارویل کے چیف ایگزیکٹو میٹ مرفی نے کہا کہ ’’مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ آپٹیکل کنیکٹیویٹی کی جانب ایک بنیادی ساختی تبدیلی سے گزر رہا ہے، جس سے ایسا موقع پیدا ہو رہا ہے جو نسلوں میں ایک بار سامنے آتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کے رابطوں کے اگلے دور کی تشکیل میں کردار ادا کرنے اور حصص یافتگان کے لیے غیر معمولی قدر پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ میٹ مرفی مشترکہ کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو برقرار رہیں گے۔
بازار کھلنے سے قبل لومینٹم کے حصص میں 6.5 فیصد کمی ہوئی، جبکہ مارویل کے حصص 2.3 فیصد نیچے آ گئے۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں دونوں کمپنیوں کے درمیان معاہدے سے متعلق مذاکرات کی خبریں سامنے آنے کے بعد سے ان کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری کے بلبلے سے متعلق خدشات ہیں۔
لومینٹم کا حجم مارویل کے تقریباً نصف ہے، تاہم اس کے حصول کے ذریعے مارویل یہ داؤ لگا رہی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری کا سلسلہ برقرار رہے گا اور ڈیٹا کو تیز رفتاری سے منتقل کرنے میں استعمال ہونے والے آپٹیکل پرزوں کی طلب رسد سے آگے نکلتی رہے گی۔
لومینٹم فوٹونک مصنوعات تیار کرتی ہے، جن میں اعلیٰ کارکردگی کے حامل لیزرز اور آپٹیکل پرزے شامل ہیں۔ یہ مصنوعات مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مواصلاتی نیٹ ورکس میں استعمال ہوتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی چپ ساز کمپنی نیوڈیا نے رواں سال کے اوائل میں مارویل اور لومینٹم، دونوں میں 2، 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ نیوڈیا نے معاہدے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
محض تین سال قبل مارویل نسبتاً غیر معروف چپ ساز کمپنی تھی، تاہم اس کے بعد سے اس کی مارکیٹ مالیت بڑھ کر 170 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس ترقی میں ایمیزون جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کسٹم مصنوعی ذہانت کے چپس اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں اس کے کردار کا اہم حصہ ہے۔
آئی جی گروپ کے چیف ٹیکنیکل تجزیہ کار ایکسل روڈولف نے کہا کہ مارویل کی کسٹم چپس اور نیٹ ورکنگ کے شعبے میں مہارت کو لومینٹم کے آپٹیکل پرزوں کے ساتھ یکجا کرنے سے کمپنی کو مضبوط پوزیشن حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ ڈیٹا سینٹرز کو مزید تیز رفتار اور توانائی کی بچت کرنے والے رابطوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
تاہم ان کے مطابق یہ ایک بہت بڑا داؤ ہے اور سرمایہ کاروں کا یہ سوال بجا ہے کہ آیا مارویل اس حصول کے لیے ضرورت سے زیادہ قیمت ادا کر رہی ہے اور بیک وقت بہت زیادہ خطرات مول لے رہی ہے۔
پیر کے روز ہونے والا یہ معاہدہ حریف کمپنی براڈکام کے مقابلے میں بھی مارویل کی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔ براڈکام طویل عرصے سے گوگل کی کسٹم چپس کی اہم شراکت دار رہی ہے اور ایک ہی جگہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ہارڈویئر کی وسیع اقسام فراہم کرتی ہے۔
مارویل نے اگست میں اپنی بڑی کامیابیوں میں سے ایک حاصل کی تھی، جب اس نے گوگل کے مصنوعی ذہانت کے پروسیسرز کے ساتھ استعمال ہونے والی چپس فراہم کرنے کا معاہدہ کیا، جس کے تحت مالی سال 2033ء تک 120 ارب ڈالر تک کی فروخت متوقع ہے۔ اس معاہدے کے تحت گوگل کو مارویل میں 12.2 ارب ڈالر کا حصہ خریدنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
اکتوبر میں سرمایہ کاروں کے اجلاس کے دوران مارویل نے مالی سال 2031ء کے لیے 70 سے 90 ارب ڈالر کی فروخت کا تخمینہ پیش کیا تھا۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس میں سے تقریباً 37.5 ارب ڈالر انٹرکنیکٹ کے شعبے سے حاصل ہوں گے۔ کمپنی کے اندازے کے مطابق اس شعبے کی مارکیٹ 2030ء تک سالانہ 65 فیصد کی شرح سے بڑھ کر 65 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
پیر کے روز طے پانے والے معاہدے کے تحت مارویل لومینٹم کے ہر حصص کے بدلے 1,132 ڈالر مالیت کے اپنے حصص دے گی۔ یہ قیمت 28 اکتوبر کو لومینٹم کے حصص کی آخری غیر متاثرہ اختتامی قیمت سے 23.9 فیصد زیادہ ہے، یعنی اس سے قبل کی قیمت جس پر معاہدے سے متعلق مذاکرات کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
اس حساب سے لومینٹم کے حصص کی مجموعی مالیت 102.54 ارب ڈالر بنتی ہے۔
مارویل کے مطابق اس حصول سے دونوں کمپنیوں کی مشترکہ قابلِ حصول مارکیٹ کا حجم بڑھ کر 550 ارب ڈالر ہو جائے گا۔
معاہدے کے تحت لومینٹم کے حصص یافتگان کو ان کے ہر حصص کے بدلے مارویل کے 4.5 حصص ملیں گے، جس کے نتیجے میں مکمل طور پر ممکنہ حصص کے اجرا کے بعد مشترکہ کمپنی میں ان کی ملکیت تقریباً 33 فیصد ہو گی۔
دونوں کمپنیوں کے بورڈز آف ڈائریکٹرز نے متفقہ طور پر اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اس کی تکمیل 2028ء کی پہلی ششماہی میں متوقع ہے۔
اگر مارویل کا بورڈ معاہدے کی حمایت واپس لے لیتا ہے یا کسی دوسرے خریدار کی پیشکش قبول کرنے کے لیے پیچھے ہٹتا ہے تو اسے لومینٹم کو 5.8 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنا ہو گا۔
اسی طرح ضابطہ جاتی دستاویزات کے مطابق مخصوص حالات میں معاہدے سے دستبرداری پر لومینٹم کو مارویل کو 2.9 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ اگر نگران ادارے اس معاہدے کی منظوری نہ دیں تو مارویل 3.2 ارب ڈالر ادا کرے گی۔
چین پر مجوزہ پابندی سے لومینٹم کو فائدہ
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنی کوہرنٹ اور چین کی ژونگجی اِنولائٹ کی حریف لومینٹم کو چین میں تیار ہونے والے نئے آپٹیکل ٹرانسیورز کی درآمد پر امریکا کی مجوزہ پابندی سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں طلب کا رخ مقامی امریکی سپلائرز کی جانب منتقل ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب لومینٹم نے بتایا کہ اسے دوسری سہ ماہی میں 1.58 سے 1.63 ارب ڈالر آمدنی کی توقع ہے، جو ایل ایس ای جی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق تجزیہ کاروں کے اوسط تخمینے 1.48 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
مارویل رواں سال پہلے ہی اپنے فوٹونکس کاروبار کو وسعت دے رہی ہے۔ کمپنی نے فروری میں سیلیسٹیئل اے آئی کو 3.5 ارب ڈالر میں خریدنے کا عمل مکمل کیا تھا۔ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اور چیٹ بوٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں ہزاروں چپس کو آپس میں جوڑنے کے لیے تیز رفتار آپٹیکل روابط کی طلب بڑھ رہی ہے۔
نیوڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کی جانب سے مارویل کو اگلی ’’ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی کمپنی‘‘ قرار دیے جانے کے بعد جون میں اس کے حصص ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئے تھے۔ مالی سال 2021ء میں کمپنی کی سالانہ آمدنی 3 ارب ڈالر تھی، جو مالی سال 2026ء میں بڑھ کر 8.2 ارب ڈالر ہو گئی۔
لومینٹم کا حصول 2021ء میں انفائی کو 10 ارب ڈالر میں خریدنے کے بعد مارویل کا سب سے بڑا کاروباری سودا ہے۔


Comments