BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 23.25 Increased By ▲ 0.05 (0.22%)
BOP 28.40 Decreased By ▼ -0.26 (-0.91%)
CNERGY 13.65 Decreased By ▼ -0.43 (-3.05%)
DFML 15.43 Decreased By ▼ -0.30 (-1.91%)
DGKC 178.79 Decreased By ▼ -3.21 (-1.76%)
FABL 91.86 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 52.39 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.21 Decreased By ▼ -0.35 (-1.79%)
HBL 291.80 Decreased By ▼ -3.10 (-1.05%)
HUBC 193.70 Decreased By ▼ -0.34 (-0.18%)
HUMNL 8.60 Increased By ▲ 0.23 (2.75%)
KEL 5.78 Decreased By ▼ -0.18 (-3.02%)
LOTCHEM 23.81 Decreased By ▼ -0.66 (-2.7%)
MLCF 90.56 Decreased By ▼ -0.47 (-0.52%)
OGDC 306.75 Increased By ▲ 0.54 (0.18%)
PAEL 32.31 Decreased By ▼ -0.41 (-1.25%)
PIBTL 12.90 Decreased By ▼ -0.18 (-1.38%)
PIOC 233.05 Decreased By ▼ -1.51 (-0.64%)
PPL 214.70 Decreased By ▼ -0.82 (-0.38%)
PRL 96.28 Decreased By ▼ -4.53 (-4.49%)
SNGP 90.40 Decreased By ▼ -1.44 (-1.57%)
SSGC 22.50 Decreased By ▼ -0.64 (-2.77%)
TELE 6.70 Decreased By ▼ -0.11 (-1.62%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.75 Decreased By ▼ -1.33 (-2.51%)
UNITY 7.78 Increased By ▲ 0.10 (1.3%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
مارکٹس

صرف 20 منٹ میں سب کچھ غائب: کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کیسے ہوئی؟

  • ہیکرز نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کرلی، جس کے مبینہ روابط شمالی کوریا سے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

ہیکرز نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کرلیے، جو اپنی نوعیت کی ریکارڈ واردات ہے۔

کیا ہوا؟

کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس اور بلاک چین ریکارڈز کے ماہرین کے تجزیے کے مطابق، بائنانس کے لین دین کی کارروائی کے لیے استعمال ہونے والے ڈیجیٹل والیٹس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسیاں نکال لی گئیں۔

بائنانس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں اسے شبہ تھا کہ اس حملے میں ایک لیپ ٹاپ کو ہیک کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’تاہم، بعد کی تحقیقات میں سکیورٹی میں نقب لگانے کے مزید مقامات کا انکشاف ہوا ہے۔‘‘ تاہم، اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ایکسچینج کی ویب سائٹ کے مطابق، بائنانس صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک محفوظ فنڈ بھی رکھتا ہے، جس میں ایک ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائنز موجود ہیں۔ یہ فنڈ سکیورٹی میں نقب لگنے کی صورت میں صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ نقصانات کی تلافی اس فنڈ اور کمپنی کے اپنے وسائل سے کی جائے گی۔

امریکی بلاک چین تجزیاتی ادارے ٹی آر ایم لیبز کے مطابق، حملہ آوروں نے بائنانس کے ’’ٹرانزیکشنز کی توثیق کرنے والے نظام‘‘ میں نقب لگائی، جو لین دین کی منظوری دیتا ہے۔ اس طرح وہ متاثرہ ڈیجیٹل والیٹس خالی کرنے کے لیے ہدایات جاری کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

بلاک چین ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوری کا بڑا حصہ تقریباً 20 منٹ میں مکمل ہوا۔ یہ کارروائی جمعرات کے روز 20:00 جی ایم ٹی کے کچھ ہی دیر بعد شروع ہوئی۔

رقم منتقل کرنے کے بعد حملہ آوروں نے اسے بائنانس کے کاروباری شراکت داروں اور اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے اداروں کی پہنچ سے باہر منتقل کرنے کی تیزی سے کوشش کی، تاہم ان اداروں نے چوری شدہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو منجمد کردیا۔


بعض کرپٹو کرنسیوں، جن میں ٹیتھر کے یو ایس ڈی ٹی اور سرکل کے یو ایس ڈی سی جیسے بڑے اسٹیبل کوائنز بھی شامل ہیں، کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے اجرا کنندگان دور بیٹھے بھی انہیں منجمد کرسکتے ہیں۔

ہانگ کانگ کے وکیل جوشوا چو، جو کرپٹو کرنسی سے متعلق مقدمات پر کام کرتے ہیں، نے کہا، ’’آسان الفاظ میں، حملہ آور نے ممکن ہے تجوری کی چابی چوری نہ کی ہو بلکہ اس نظام پر قبضہ کرلیا ہو جو تجوری کو رقم جاری کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔‘‘

اس حملے کے پیچھے کون ہے؟

امریکا کی بلاک چین تجزیاتی فرموں نے کہا ہے کہ اس حملے میں شمالی کوریا کے ہیکرز سے منسوب ماضی کی کارروائیوں سے مماثلت پائی جاتی ہے۔

رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ بائنانس کی تحقیقات میں تاحال حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہوسکی، جبکہ شمالی کوریا معمول کے مطابق سائبر حملوں اور کرپٹو کرنسی کی چوری میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔ جنیوا میں شمالی کوریا کے مشن اور چین میں اس کے سفارت خانے نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

ٹی آر ایم کے مطابق، اس سکیورٹی خلاف ورزی میں گزشتہ سال کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ پر ہونے والے حملے جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جس کا الزام ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے ہیکرز پر عائد کیا تھا۔ فرم نے کہا کہ اسے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ بائنانس سے چوری میں بھی وہی گروہ ملوث ہے۔

چین اینالیسس نے کہا کہ گزشتہ ماہ بِٹ گیٹ پر ہونے والے حملے میں چوری کیے گئے فنڈز کو بائنانس کی حالیہ واردات سے حاصل ہونے والی رقم کے ساتھ ملا کر ان کی اصل شناخت چھپائی جا رہی ہے۔

چوری شدہ رقم کہاں ہے؟

چوری کیے گئے اثاثوں میں سے تقریباً نصف اسٹیبل کوائنز تھے، جنہیں ٹیتھر، سرکل، رپل اور ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبے ورلڈ لبرٹی فنانشل سمیت مختلف اداروں نے منجمد کردیا ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کوائنز بائنانس کو واپس مل جائیں گے، تاہم اس اقدام سے حملہ آوروں کے لیے انہیں نقد رقم میں تبدیل کرنا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔

ٹی آر ایم کے مطابق، چوری شدہ فنڈز میں سے کچھ کو پہلے ہی ایتھر قرض لینے کے لیے ضمانت کے طور پر استعمال کیا جاچکا تھا۔ فرم کا اندازہ ہے کہ تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائن اور ایتھر تک اب رسائی ممکن نہیں رہی۔

سنگاپور میں بلاک چین انٹیلی جنس فرم چین آرگوس کے جنرل کونسل پیٹرک ٹین نے کہا کہ چونکہ بٹ کوائن اور ایتھر کسی مرکزی ادارے کی جانب سے جاری نہیں کیے جاتے، اس لیے کوئی بھی انہیں منجمد نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا، ’’بٹ کوائن اور ایتھر کو صرف اسی صورت میں روکا جاسکتا ہے جب حملہ آور انہیں کسی ایسے کرپٹو اثاثہ ایکسچینج یا بروکر کو منتقل کریں جو انہیں منجمد کرنے کی صلاحیت اور آمادگی رکھتا ہو، یا قانون نافذ کرنے والے ادارے نجی کلیدیں حاصل کرلیں۔‘‘

مارکیٹ کے شرکا اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر چوری شدہ کوائنز کو دیگر اثاثوں کے ساتھ ملا دیں گے یا رقم منتقل کرنے کے لیے کم معروف کوائنز اور ایکسچینجز استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسٹیبل کوائن انفرااسٹرکچر کمپنی ٹریس فنانس کے چیف ایگزیکٹو برنارڈو برائٹس نے کہا کہ عموماً اس نوعیت کے سائبر حملوں سے حاصل ہونے والی رقم کو صرف ابتدائی چند گھنٹوں کے دوران ہی منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جتنا زیادہ وقت گزرتا ہے، ان کے لیے ان فنڈز کو دیگر ایکسچینجز یا ادائیگی فراہم کرنے والے اداروں کے ذریعے منتقل کرنا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے، کیونکہ بالآخر ان اثاثوں کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے۔‘‘

چین اینالیسس نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک تحریر میں کہا کہ اس کے تفتیش کار منی لانڈرنگ کے ایسے طریقوں کا مشاہدہ کررہے ہیں جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے۔ فرم نے لکھا، ’’مختصر وقت میں ہزاروں لین دین سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور رقوم کی منتقلی کے سراغ چھپانے کے لیے خودکار نظام استعمال کررہے ہیں۔ وہ محض رقوم کو آگے منتقل کرنے کے بجائے انہیں بار بار مختلف ایڈریسز کے درمیان گردش میں رکھتے ہیں اور اکثر رقم ایسے ایڈریسز پر واپس بھیج دیتے ہیں جو اس سلسلے کے ابتدائی مراحل میں استعمال ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘

اب آگے کیا ہوگا؟

یہ چوری ڈیجیٹل اثاثوں کی سکیورٹی میں بڑی نقب زنی کے واقعات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ٹی آر ایم لیبز کے مطابق، گزشتہ سال تقریباً 150 واقعات میں حملہ آوروں نے مجموعی طور پر 2.9 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کی تھی۔

اس حملے نے اس شعبے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متزلزل کردیا ہے۔ جمعے کے روز کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی ہوئی، جبکہ اسٹیبل کوائنز کی مجموعی مارکیٹ مالیت بھی گھٹ گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار ڈیجیٹل اثاثوں سے اپنی سرمایہ کاری نکال رہے ہیں۔

Comments

200 حروف