BR100 Increased By (0.93%)
BR30 Increased By (0.67%)
KSE100 Increased By (0.88%)
KSE30 Increased By (0.99%)
BAFL 57.89 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 23.20 Decreased By ▼ -0.24 (-1.02%)
BOP 28.66 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 14.08 Increased By ▲ 1.28 (10%)
DFML 15.73 Decreased By ▼ -0.22 (-1.38%)
DGKC 182.00 Decreased By ▼ -2.63 (-1.42%)
FABL 91.90 Increased By ▲ 0.71 (0.78%)
FCCL 52.61 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 12.99 Increased By ▲ 0.05 (0.39%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.52 (-2.59%)
HBL 294.90 Increased By ▲ 7.24 (2.52%)
HUBC 194.04 Increased By ▲ 0.86 (0.45%)
HUMNL 8.37 Increased By ▲ 0.29 (3.59%)
KEL 5.96 Increased By ▲ 0.13 (2.23%)
LOTCHEM 24.47 Increased By ▲ 0.34 (1.41%)
MLCF 91.03 Decreased By ▼ -0.35 (-0.38%)
OGDC 306.21 Increased By ▲ 2.53 (0.83%)
PAEL 32.72 Decreased By ▼ -0.10 (-0.3%)
PIBTL 13.08 Increased By ▲ 0.05 (0.38%)
PIOC 234.56 Decreased By ▼ -0.93 (-0.39%)
PPL 215.52 Increased By ▲ 0.44 (0.2%)
PRL 100.81 Increased By ▲ 6.65 (7.06%)
SNGP 91.84 Increased By ▲ 2.18 (2.43%)
SSGC 23.14 Increased By ▲ 0.20 (0.87%)
TELE 6.81 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.29 Decreased By ▼ -0.15 (-1.21%)
TRG 53.08 Decreased By ▼ -0.54 (-1.01%)
UNITY 7.68 Decreased By ▼ -0.04 (-0.52%)
WTL 0.95 Increased By ▲ 0.01 (1.06%)
رائے

انہیں بانڈز کھانے دو

  • ’’بانڈز کے سرمایہ کار مالیاتی نظم و ضبط کا مطالبہ کر رہے ہیں، عین اس وقت جب عوام زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان ہیں۔‘‘
شائع اپ ڈیٹ

فرانس اس صورتِ حال کی ایک خاصی تشویش ناک مثال پیش کر رہا ہے کہ جب عالمی بانڈ مارکیٹ حکومتوں کی قرضوں کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھانے لگتی ہے تو کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے فرانس کے 10 سالہ سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح 5 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح کم ہو رہی تھی، جبکہ جرمن بانڈز کے مقابلے میں فرانسیسی بانڈز پر اضافی منافع کی شرح بھی اس سطح پر پہنچ گئی جو آخری بار یورو زون کے قرضوں کے بحران کے دوران دیکھی گئی تھی۔

اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج کے ساتھ پُرتشدد بدامنی نے فرانس کو ان عوامل کا ایک نمایاں مطالعہ بنا دیا ہے جو اس وقت سرکاری قرضوں کی مارکیٹوں میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا دوسرے بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک بھی مالیاتی حقائق اور سیاسی زمینی صورتِ حال کے درمیان اسی طرح کے تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

فرانس کی موجودہ مشکل کئی برسوں سے بتدریج سنگین ہوتی رہی ہے۔ ملک کے سرکاری قرضے مجموعی قومی پیداوار کے 120 فیصد کے قریب پہنچ رہے ہیں، مالیاتی خسارہ اب بھی تقریباً 5 فیصد ہے، جبکہ معیشت کی برائے نام شرحِ نمو بمشکل 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ جب قرض لینے کی لاگت نہ ہونے کے برابر تھی تو ان اعداد و شمار کے ساتھ معاملات چلانا نسبتاً آسان تھا۔ تاہم، غیرمعمولی طور پر کم شرحِ سود کے دور میں جاری کیے گئے بانڈز کی میعاد پوری ہونے پر حکومت کو اب ان کی جگہ کہیں زیادہ شرحِ منافع پر نئے بانڈز جاری کرکے قرضوں کا دوبارہ بندوبست کرنا پڑ رہا ہے۔


اس کے نتیجے میں سود کی ادائیگیوں میں اضافہ مالیاتی خسارے کو مزید بڑھا دیتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے حکومت کو مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ اس صورتِ حال میں سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ آیا قرضوں کا یہ پورا نظام پائیدار بھی ہے یا نہیں۔

یہ مالیاتی حساب کتاب اس وقت خاصا پیچیدہ ہو جاتا ہے جب حکومت پہلے ہی ٹیکسوں کے ذریعے آمدن بڑھانے کی گنجائش کی حدود کے قریب پہنچ چکی ہو۔ فرانس کی سرکاری آمدن مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 52 فیصد کے برابر ہے، جو ترقی یافتہ دنیا میں بلند ترین تناسب میں سے ایک ہے۔ اخراجات میں کمی ایک متبادل راستہ ضرور ہے، لیکن پنشن، عوامی خدمات اور سماجی تحفظ کے نظام میں کٹوتیاں سیاسی اعتبار سے مشکل ہو چکی ہیں۔

پارلیمان بھی ایک دوسرے کے مخالف دھڑوں میں تقسیم ہے، جس کے باعث مالیاتی صورتِ حال بہتر بنانے کا کوئی قابلِ اعتبار منصوبہ بھی سنگین رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ حکومت بانڈز کے سرمایہ کاروں کو کیسے یقین دلائے کہ وہ بالآخر اپنے مالی معاملات متوازن کر سکتی ہے، جب ووٹر نہ تو زیادہ ٹیکس دینے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی سرکاری اخراجات میں کمی قبول کرنے کو تیار ہیں؟

تاہم، فرانس میں بدامنی ایک ایسے سوال کو بھی جنم دیتی ہے جسے مالیاتی نظم و ضبط پر بانڈ مارکیٹ کی توجہ کے باعث باآسانی نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے تسلیم کیا ہے کہ احتجاج کے پیچھے مہنگائی سے متعلق عوامی شکایات حقیقی ہیں۔

لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، لیکن قوتِ خرید میں کمی کے خلاف احتجاج کرنے والے عام شہریوں کے خدشات جائز ہیں۔ آسمان چھوتی قیمتوں سے پریشان گھرانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ محض بانڈ مارکیٹ کے مطالبے پر مزید مالیاتی کفایت شعاری بھی قبول کر لیں، ملکہ میری اینٹونیٹ سے منسوب اس مشہور فقرے کی یاد دلاتا ہے کہ ’’انہیں کیک کھانے دو‘‘۔

فرانس کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی مہنگائی کی ایسی لہر کا سامنا ہے جس کی شدت ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے مزید بڑھا دی ہے۔ پیرس کا اس تنازع میں جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عوامی غصے کی وجوہات اور کفایت شعاری کی سیاسی حدود کا جائزہ لیتے وقت یہ فرق اہمیت رکھتا ہے۔

غور کیجیے کہ یہ معاشی دھچکا کس طرح پھیلتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی پیداوار اور جہازرانی میں رکاوٹیں خام تیل، ڈیزل اور قدرتی گیس کی قیمتیں بڑھا دیتی ہیں۔ ان اضافوں کے اثرات نقل و حمل، بجلی، صنعتی پیداوار اور بالآخر صارفین کی قیمتوں تک پہنچتے ہیں۔

مہنگائی میں اضافے سے یورپی مرکزی بینک کے لیے مالیاتی پالیسی سے متعلق فیصلے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں، جبکہ گھرانے بڑھتی ہوئی لاگت سے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان مطالبات کا سامنا کرنے والی حکومتوں کے پاس تین راستے ہوتے ہیں: مزید اخراجات کرنا، دوسرے شعبوں میں کٹوتی کرنا یا عوامی بے اطمینانی میں اضافے کو برداشت کرنا۔ فرانس کے لیے، جو پہلے ہی اپنی مالیاتی صورتِ حال سے نبرد آزما ہے، ہر راستے کے مالیاتی اعتماد یا سیاسی استحکام پر اثرات مرتب ہوں گے۔

یہیں ایران کے خلاف جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بنیامین نیتن یاہو کا ساتھ دینے کے فیصلے کی اہمیت سامنے آتی ہے، ورنہ بظاہر یہ معاملہ صرف فرانس کے سرکاری مالیات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ واشنگٹن کی فوجی مداخلت نے میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک معاشی اثرات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث ایسے ممالک بھی توانائی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کی زد میں آ گئے ہیں جن کا اس تنازع میں براہِ راست کوئی کردار نہیں۔

فرانس کا قرضوں کا مسئلہ ایران کے خلاف جنگ سے کئی دہائیاں پہلے سے موجود ہے، لیکن بیرونی معاشی دھچکے نے اس کے مالیاتی اور سیاسی تضادات کو سنبھالنا کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ کتنی حکومتیں عوام کا اعتماد برقرار رکھ سکتی ہیں، جب ان سے کہا جا رہا ہو کہ وہ اپنی دیرینہ مالیاتی کمزوریوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے جغرافیائی سیاسی فیصلوں کے نتائج بھی برداشت کریں؟

دوسری جانب، سرمایہ کار اب پہلے کی طرح رعایت دینے کو تیار نہیں۔ فرانسیسی اور جرمن سرکاری بانڈز پر منافع کی شرحوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق فرانس کے مخصوص مالیاتی اور سیاسی خطرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ جو سرمایہ کاری فنڈز نسبتاً زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے پہلے فرانسیسی قرضوں میں سرمایہ کاری کرتے تھے، وہ اب اپنی سرمایہ کاری پر نظرثانی کرنے لگے ہیں۔ قرض لینے کی لاگت بڑھنے کے ساتھ بانڈز کی فروخت کا دباؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

مسئلہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ پرانے اور کم شرحِ سود والے قرضوں کی جگہ نئے قرضے لینے کے ساتھ بلند شرحِ منافع بالآخر براہِ راست مالیاتی خسارے میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ گویا مارکیٹیں مالیاتی نظم و ضبط کا ثبوت مانگ رہی ہیں، لیکن اسی نظم و ضبط کو یقینی بنانا مسلسل مہنگا بھی کر رہی ہیں۔

اس صورتِ حال میں تاریخ کا ایک خاصا دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ یورو زون کے قرضوں کے بحران کے دوران فرانس نے جرمنی کے ساتھ مل کر اس بات پر زور دیا تھا کہ یونان اور دوسرے بھاری قرضوں میں جکڑے ممالک تکلیف دہ مالیاتی اصلاحات قبول کریں۔

اب پیرس خود قرضوں کی پائیداری، سیاسی مزاحمت اور مشترکہ کرنسی کی پابندیوں سے متعلق انہی سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان حکومتوں کے برعکس جو اپنی مرضی سے کنٹرول کی جانے والی کرنسیوں میں قرض لیتی ہیں، فرانس اپنے مرکزی بینک کو اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے یورو جاری کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتا۔

یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کے پاس مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا کرنے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے طریقے موجود ہیں، لیکن اس کی مداخلت بھی ادارہ جاتی اور پالیسی سے متعلق پابندیوں کے تابع ہوگی۔

تاہم، فرانس ابھی سرکاری قرضوں کے باقاعدہ بحران سے خاصا دور ہے۔ بانڈز پر 5 فیصد منافع کی شرح، خواہ کتنی ہی تشویش ناک کیوں نہ ہو، لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ ملک اپنے قرضے ادا کرنے سے قاصر ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ یورو زون کے پاس مالیاتی تحفظ کے ایسے انتظامات موجود ہیں جو اس کے پہلے بحران کے وقت دستیاب نہیں تھے۔

اصل تشویش یہ ہے کہ آیا سیاسی ادارے قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت سے حکومتی اختیارات مزید محدود ہونے سے پہلے مالیاتی استحکام کا کوئی قابلِ اعتبار منصوبہ پیش کر سکیں گے۔ جب سرمایہ کاروں کو یقین ہو کہ حکومتیں قرضوں کو مستحکم کر سکتی ہیں تو وہ بھاری قرضے بھی برداشت کر لیتی ہیں۔ لیکن جب مالیاتی اصلاحات کی ہر تجویز سیاسی ہلچل کے ایک نئے دور کا خطرہ پیدا کرے تو اس اعتماد کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس صورتِ حال کے اثرات صرف فرانس تک محدود نہیں ہیں۔ اٹلی اور بیلجیئم کو بھی اپنے مالیاتی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ برطانیہ سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح اور عوامی اخراجات کے دباؤ کے حوالے سے بدستور حساس ہے۔ پورے یورپ میں قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت، سرکاری مالیات پر دباؤ اور کفایت شعاری کی مخالفت نے یہ مشکل سوال پیدا کر دیا ہے کہ حکومتیں مالیاتی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام میں کس طرح توازن قائم کریں گی۔

یورپ سے باہر، بالخصوص ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے اس صورتِ حال کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس مالیاتی گنجائش محدود اور بیرونی مالی اعانت پر انحصار زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان اس کی ایک نمایاں مثال ہے، کیونکہ وہ توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اسے بار بار مالیاتی عدم توازن کا سامنا رہتا ہے اور عالمی سطح پر قرض لینے کے حالات میں تبدیلیاں اسے متاثر کرتی ہیں۔

ان تمام صورتوں میں مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ جب مہنگائی اور شرحِ سود حکومتوں کے لیے سازگار نہ رہیں تو قرض لے کر سیاسی وعدوں کی مالی اعانت کرنا مسلسل مشکل ہوتا جاتا ہے۔

ممکن ہے کہ فرانس بالآخر مالیاتی استحکام اور سماجی تحفظ کے درمیان کوئی قابلِ عمل سمجھوتا کر لے۔ لیکن اس کی موجودہ مشکلات عالمی مالیاتی نظام میں موجود ایک وسیع تر تضاد کو بے نقاب کر رہی ہیں۔

حکومتیں کئی دہائیوں تک اس مفروضے کے تحت مالی ذمہ داریاں جمع کرتی رہیں کہ قرض لینا سستا رہے گا، جبکہ اسی دوران عوام کی توقعات بھی بڑھتی گئیں۔

اب بانڈز کے سرمایہ کار مالیاتی نظم و ضبط کا مطالبہ کر رہے ہیں، عین اس وقت جب گھرانے زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان ہیں۔ اس مہنگائی میں ایک ایسی جنگ کا بھی حصہ ہے جسے ان میں سے کئی حکومتوں نے نہ شروع کیا اور نہ ہی وہ اس پر قابو رکھتی ہیں۔

اگر فرانس کو پہلے ہی ان عوامل کے امتزاج کے نتائج بھگتنے میں اتنی دشواری پیش آ رہی ہے تو قرضوں کے بوجھ تلے دبے باقی ممالک کو کیا توقع رکھنی چاہیے، جب یہی دباؤ ان کے دروازوں پر دستک دے گا؟

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف