اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 950 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
- صبح 10 بجکر 5 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 163,997.54 پوائنٹس پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس (0.50 فیصد) اضافے کے فیصلے کے بعد خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ منگل کو کاروبار کے ابتدائی چند منٹوں کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 950 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 10 بجکر 5 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 959.08 پوائنٹس یا 0.59 فیصد اضافے سے 163,997.54 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) سمیت اہم شعبوں میں حصص کی خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔
یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اتار چڑھاؤ کے دوران مارکیٹ نے بحالی کا رجحان ظاہر کیا۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اعلان سے قبل سرمایہ کاروں نے پالیسی ریٹ میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر محتاط انداز میں سرمایہ کاری کی۔ گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 663.59 پوائنٹس، یعنی 0.41 فیصد اضافے کے ساتھ 163,038.47 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ اے آئی کی معروف کمپنی Anthropic کی طویل عرصے سے متوقع آئی پی او کے لیے درخواست جمع کرانے کی خبر سے سرمایہ کاروں کا خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالی نتائج مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے رجحان کا امتحان لیں گے جبکہ مرکزی بینکوں کے اجلاس بھی قریب المدت شرحِ سود کی سمت پر اثر انداز ہوں گے۔
کلاؤڈ نامی اے آئی اسسٹنٹ کی مالک کمپنی Anthropic نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں پہلی بار اپنے حصص عوام کو فروخت کرنے (آئی پی او) کے لیے جمع کرائی گئی دستاویزات میں بھاری مالی نقصانات اور آمدنی میں غیر معمولی تیزی سے اضافے کا انکشاف کیا۔ سرمایہ کار اب اے آئی پر کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری کے ممکنہ منافع اور اس کی پائیدار منافع بخش حیثیت کا زیادہ باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا ایک اور سبب میٹا پلیٹ فارمز کا اپنے حصص کے اجرا کے ذریعے 95 ارب ڈالر تک جمع کرنے کا منصوبہ ہے جو کمپنی کی تاریخ میں حصص کے اجرا کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرنے کی سب سے بڑی کوشش ہوگی۔
مرکزی بینکوں کے پالیسی فیصلوں سے قبل عالمی کرنسی مارکیٹوں میں زیادہ سرگرمی نہیں دیکھی جارہی۔ امریکی فیڈرل ریزرو، یورپی مرکزی بینک اور بینک آف جاپان کے آئندہ فیصلوں کے حوالے سے ماہرینِ معاشیات توقع کررہے ہیں کہ تینوں مرکزی بینک شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کی توجہ پالیسی سازوں کے بیانات پر مرکوز ہے تاکہ شرحِ سود کے مستقبل کے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اسٹاک مارکیٹس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بھاری وزن کے حامل جنوبی کوریا کے کاپسی انڈیکس نے کاروبار کے ابتدائی اوقات میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 1.9 فیصد بلند ہوا۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کی نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی انڈیکس بھی 1.2 فیصد بڑھ گیا۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نیسڈیک فیوچرز 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کررہے تھے۔ اس سے قبل رات کی تجارت میں امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا جو ایک ماہ کے دوران ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔ اس کے برعکس، یورپی اسٹاک فیوچرز میں 0.23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments