انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت
- انسانی اعضا کو خفیہ بازار میں خرید و فروخت کی اشیا ہرگز نہیں بننا چاہیے
اسلام آباد میں غیر قانونی طور پر گردوں کی پیوند کاری میں ملوث ایک منظم گروہ کا حالیہ انکشاف ایک انتہائی تشویش ناک جرم کو بے نقاب کرتا ہے، جس میں مالی فائدے کے لیے انسانوں کی مجبوریوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اعضا کی پیوند کاری کے ادارے (ہوٹا) کے تعاون سے کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسے نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے جو مبینہ طور پر ضروری طبی قابلیت اور قانونی اجازت کے بغیر رہائشی مکانات میں گردوں کی پیوند کاری کر رہا تھا۔
دیگر شہروں میں بھی اس نوعیت کے واقعات سامنے آنے سے موجودہ حفاظتی اقدامات کی افادیت اور پیوند کاری سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ محض طبی غفلت کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی وقار، صحت عامہ اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انسانی اعضا کو خفیہ بازار میں خرید و فروخت کی اشیا ہرگز نہیں بننا چاہیے۔ خصوصاً مالی طور پر کمزور عطیہ دہندگان کا استحصال انتہائی تشویش ناک ہے۔ موجودہ معاملے میں اطلاعات کے مطابق، ایک مریض نے گردے کی پیوند کاری کے لیے 30 لاکھ روپے ادا کیے، جبکہ عطیہ دہندہ کو صرف 3 لاکھ 40 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا گیا اور ایجنٹوں نے اپنا کمیشن بھی وصول کیا۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ بے ضمیر درمیانی افراد کس طرح غربت اور انسانی تکلیف سے فائدہ اٹھا کر منافع کماتے ہیں۔ جعلی حوالہ جاتی خطوط کا استعمال اور لیبارٹری ٹیسٹ کے طریقہ کار میں ردوبدل اس بات کی مزید نشان دہی کرتا ہے کہ جرائم پیشہ نیٹ ورک صحت کے نظام میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا کر ضابطہ جاتی حفاظتی اقدامات کو ناکام بناتے ہیں۔
غیر قانونی طریقے سے کیے جانے والے ایسے آپریشنز کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گردے کی پیوند کاری کے لیے مستند سرجنوں، مناسب طبی سہولتوں سے آراستہ مراکز، سخت جانچ پڑتال اور آپریشن کے بعد جامع طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ رہائشی مکانات میں ایسے آپریشن کرنے سے عطیہ دہندگان اور گردے وصول کرنے والے مریضوں، دونوں کو انفیکشن، طبی پیچیدگیوں اور حتیٰ کہ موت کا سنگین خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ طبی عملے اور اسپتالوں سے وابستہ سہولت کاروں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے سے معاملہ مزید تشویش ناک ہو جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے نیٹ ورک اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے طبی مہارت اور ادارہ جاتی رسائی سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے نقد رقم اور گاڑیاں ضبط کرنا، نیز غیر قانونی آمدنی سے مبینہ طور پر حاصل کی گئی جائیدادوں کو منجمد کرنا خوش آئند اقدام ہے۔ تاہم، صرف گرفتاریاں اور ضبطگیاں اس منافع بخش غیر قانونی کاروبار کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔ حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ تحقیقات مکمل اور مؤثر انداز میں کی جائیں، مقدمات کی سماعت تیزی سے ہو اور جرم ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کو مناسب سزائیں دی جائیں۔ اگر اسپتال، لیبارٹریاں اور طبی ماہرین جان بوجھ کر غیر قانونی پیوند کاری میں سہولت فراہم کریں تو انہیں بھی جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اسی طرح، غربت کے اس مسئلے سے نمٹنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جو کمزور مالی حالات سے دوچار افراد کو انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت کا آسان ہدف بنا دیتی ہے۔ عوامی آگاہی، مضبوط ضابطہ جاتی نگرانی اور اعضا عطیہ کرنے کے ایک شفاف اور قانونی نظام کا قیام ایسے استحصال کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں، صحت کے شعبے کے نگران اداروں اور سرکاری اسپتالوں کے درمیان رابطہ کاری بھی مضبوط بنانی چاہیے۔ نجی طبی مراکز کے باقاعدہ معائنے، پیوند کاری سے متعلق لیبارٹری ٹیسٹوں کی سخت نگرانی اور عطیہ دہندگان اور اعضا وصول کرنے والے مریضوں کے باہمی تعلق کی کڑی تصدیق سے ان خامیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے جن سے جرائم پیشہ نیٹ ورک فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جبکہ پیوند کاری کے خواہش مند مریضوں کی رہنمائی مستند اور مجاز طبی اداروں کی جانب کی جانی چاہیے۔ حکام کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ایسے نیٹ ورک میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، خواہ ان کا پیشہ ورانہ مرتبہ یا اثر و رسوخ کچھ بھی ہو۔
ریاست کو کمزور اور مجبور شہریوں کے تحفظ، طبی اخلاقیات کی پاسداری اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے کہ منافع کمانے کی خواہش انسانی جانوں کی قیمت پر پوری نہ ہو۔ کسی بھی شخص کو غربت کے باعث اپنی صحت خطرے میں ڈالنے یا استحصالی حالات میں اپنا عضو عطیہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح، کسی دوسرے شخص کی طبی مجبوری کو جرائم کے ذریعے دولت کمانے کا موقع بھی نہیں بننے دینا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments