نیپرا نے بجلی کے متبادل نظام کیلئے نیا فریم ورک تجویز کردیا
- مجوزہ ضوابط کے تحت وفاقی یا صوبائی حکومتیں ایسے علاقوں میں متبادل بجلی نظام قائم کرسکیں گی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک کے منتخب علاقوں میں اسٹینڈ اسٹون الیکٹرک پاور سسٹم متعارف کرانے کے لیے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک تجویز کیا ہے، جس سے وفاقی یا صوبائی حکومتوں کو ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے انتظامات قومی یا صوبائی گرڈ سے آزادانہ طور پر قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی جہاں روایتی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک مستقل طور پر زیادہ نقصانات کا شکار ہیں۔
مجوزہ ضوابط کے تحت وفاقی یا صوبائی حکومتیں ایسے علاقوں میں متبادل بجلی نظام قائم کرسکیں گی جہاں بجلی کی تقسیم میں مسلسل زیادہ نقصانات، بلوں کی کم وصولی، ناقص خدمات یا روایتی نیٹ ورک برقرار رکھنے کے اخراجات معاشی طور پر ناقابلِ جواز ہوں۔
نیپرا نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اسٹینڈ الون الیکٹرک پاور سسٹم (پائلٹ پروجیکٹس) ریگولیشنز 2026 کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے فریقین سے کہا گیا ہے کہ وہ اشاعت کے 30 روز کے اندر نیپرا کے رجسٹرار کو اپنی تجاویز اور آرا جمع کرائیں۔
مسودے کے مطابق اسٹینڈ الون بجلی نظام میں بجلی پیدا کرنے کی سہولیات، توانائی ذخیرہ کرنے کے آلات اور متعلقہ برقی بنیادی ڈھانچہ شامل ہوسکتا ہے، تاہم اس کا قومی یا صوبائی گرڈ سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی رابطہ نہیں ہوگا۔
مجوزہ منصوبے کے لیے وفاقی یا صوبائی حکومت اسپانسر حکومت کا کردار ادا کرے گی اور متعلقہ تقسیم کار کمپنی کی رضامندی سے اسکیم کی منظوری کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکے گا۔ نوٹیفکیشن کے بعد متعلقہ علاقے کو میزبان تقسیم کار کمپنی اور آخری چارہ کار بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے لائسنس یافتہ دائرہ کار سے خارج کردیا جائے گا۔
نیپرا اسپانسر حکومت کی درخواست پر فی تقسیم کار کمپنی 2 سے زیادہ آزمائشی منصوبوں کی بھی اجازت دے سکے گا۔ ہر منصوبے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی، عمل درآمد کا طریقہ کار، مدت، متعلقہ ادارے، اخراجات اور عوامی فوائد کی تفصیلات فراہم کرنا لازم ہوگا۔
مسودے میں صارفین کے لیے بجلی کی دستیابی، گنجائش، خرابی دور کرنے اور آلات کی تبدیلی کے اوقات سمیت کم از کم خدمات کے معیار اور شکایات کے ازالے کا نظام وضع کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ متاثرہ صارفین سے مشاورت اور انہیں پیشگی اطلاع دینا بھی ضروری ہوگا۔
مجوزہ نظام کے اخراجات مکمل یا جزوی طور پر حکومت برداشت کرے گی، جس کے لیے سرکاری گرانٹس، سبسڈیز یا دیگر مالی وسائل استعمال کیے جاسکیں گے۔ یہ اخراجات تقسیم کار کمپنیوں کی ٹیرف کے تعین کے لیے آمدنی کی ضرورت میں شامل نہیں کیے جاسکیں گے اور نہ ہی صارفین سے بجلی کے نرخوں کے ذریعے وصول ہوں گے۔
اگر کسی علاقے کو دوبارہ روایتی بجلی کے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ضرورت پیش آئے تو بحالی اور دوبارہ تنصیب کے اخراجات بھی اسپانسر حکومت برداشت کرے گی۔
نیپرا کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد کے 3 ماہ بعد متعلقہ ادارے کو رپورٹ جمع کرانا ہوگی، جبکہ ایک سال بعد مزید جائزہ لیا جائے گا۔ اس عمل کے ذریعے نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی، انتظامی عمل پذیری اور صارفین کے ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments