خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کراچی چیمبر کو قریبی رابطوں اور مسائل کے حل کی یقین دہانی
- ایس آئی ایف سی کے جوائنٹ سیکریٹری (ملٹری) اور سندھ میں کونسل کے صوبائی دفتر کے سربراہ کرنل عبداللہ خان شیرانی کا کراچی چیمبر آف کا دورہ
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے جوائنٹ سیکریٹری (ملٹری) اور سندھ میں کونسل کے صوبائی دفتر کے سربراہ کرنل عبداللہ خان شیرانی نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کو کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی رابطوں میں بہتری، براہِ راست روابط اور سہولت کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔
کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر کرنل عبداللہ خان شیرانی نے کہا کہ چیمبر کی نو منتخب قیادت کے ساتھ براہِ راست روابط اور مل کر کام کرنے کا طریقۂ کار وضع کرنا ان کے دورے کا اہم مقصد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں سندھ میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے مستقل صوبائی نمائندے کے طور پر ان کی تعیناتی ہوئی ہے اور وہ تعارفی مرحلے کے دوسرے ہفتے میں ہیں۔ اس دوران وہ اہم متعلقہ فریقوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور صوبے میں کاروباری و سرمایہ کاری کے ماحول سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی اسد الرحمان چیمہ کی ہدایت پر کراچی میں ان کی پہلی ترجیح کے سی سی آئی کا دورہ کرنا تھا جس کے بعد سندھ بھر کے دیگر چیمبرز آف کامرس اور تجارتی تنظیموں سے رابطے کیے جائیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس اقدام کا مقصد براہِ راست رابطے قائم کرنا اور کاروباری برادری کے ساتھ مستقل بنیادوں پر مؤثر روابط استوار کرنا ہے، تاکہ مسائل متعلقہ حکام تک مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکیں۔
کاروباری برادری کی جانب سے مختلف فورمز پر طویل عرصے سے اٹھائے جانے والے مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی امور پہلے ہی متعلقہ اور اعلیٰ ترین سطح پر اجاگر کیے جا چکے ہیں، تاہم ان کا حل تاحال نہیں نکل سکا۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام مسائل کو بیک وقت حل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے سب سے اہم مسائل کی نشاندہی کی جائے، ترجیحات کی واضح فہرست مرتب کی جائے اور متعلقہ محکموں اور حکام کے سامنے انہیں مرحلہ وار اٹھایا جائے۔
انہوں نے چیمبر کو یقین دلایا کہ ایس آئی ایف سی اپنی سہولت کاری کا کردار حتی المقدور ادا کرے گی، اعلیٰ قیادت کو صورتِ حال سے آگاہ رکھے گی اور ان معاملات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی جن کے حل کے لیے سندھ حکومت کی مداخلت درکار ہوگی۔


Comments