ذہنی و جسمانی تھکن کاروباری حکمتِ عملی نہیں
- ”مشکل حالات اور خود کو تباہ کر لینا ایک ہی چیز نہیں؛ کاروباری کامیابی کی قیمت انسانی صحت، رشتوں اور بامعنی زندگی کی قربانی نہیں ہونی چاہیے۔“
سلیکان ویلی نے گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران صرف کامیاب کمپنیاں ہی نہیں بنائیں بلکہ کاروبار شروع کرنے اور اسے کامیابی سے چلانے کے تصور کو عالمی سطح پر تشکیل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس بیانیے کے مطابق کامیابی کا پیمانہ حیران کن تیزی ہے۔ بانیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کاروبار کو مسلسل وسعت دیں، غیر یقینی صورت حال کو خوش دلی سے قبول کریں، سرمایہ کاری کے لیے وینچر کیپیٹل حاصل کریں اور ترقی کو اپنا حتمی مقصد بنائیں۔ اسی دوران جدید کاروباری شخصیت کے ساتھ ایک خاص طرزِ زندگی بھی وابستہ ہو گیا ہے: صبح پو پھٹنے سے پہلے جاگنا، محض چار گھنٹے کی نیند پر گزارا کرنا، سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں کے درمیان پروٹین شیک پینا، جسمانی صحت کے ہر ممکن پیمانے پر نظر رکھنا، سانس کی مخصوص مشقوں، برفیلے پانی میں ڈبکی لگانے اور ایواہواسکا کے تازہ ترین روحانی تجربے کے فوائد بیان کرنا، اور ان سب کے باوجود غیر معمولی طور پر چاق و چوبند اور مسلسل مصروفِ عمل رہنا۔
جو کاروباری شخص تقریباً ہر دوسری چیز قربان کر دیتا ہے، اسے رفتار برقرار رکھنے کی جدوجہد کرنے والا نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایسا فرد تصور کیا جاتا ہے جو اپنے وژن کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ چنانچہ تھکن اب بلند عزائم کی علامت بن چکی ہے۔
اس فلسفے کا اثر کیلیفورنیا سے کہیں آگے تک پھیل چکا ہے۔ کتابوں، پوڈکاسٹس، کاروباری تربیتی پروگراموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تقریباً ہر جگہ کاروبار کرنے اور کامیاب زندگی گزارنے کی غالب زبان بن گیا ہے۔ ہم نے اس کی اصطلاحات کو اس حد تک اپنا لیا ہے کہ شاذ ہی ٹھہر کر یہ سوال کرتے ہیں کہ آیا اس کے بنیادی مفروضے حقیقت پر مبنی بھی ہیں یا نہیں۔
یہ سلیکان ویلی کے خلاف کوئی دلیل نہیں، بلکہ اس کے برعکس ہے۔ اس نے مختلف صنعتوں میں انقلاب برپا کیا، تکنیکی ترقی کی رفتار تیز کی اور ایسی کمپنیاں وجود میں لائیں جنہوں نے ہمارے رہن سہن اور کام کرنے کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ اسی طرح یہ بلند عزائم کے خلاف بھی کوئی دلیل نہیں، کیونکہ عزائم ہمیشہ جدت طرازی کے سب سے طاقتور محرکات میں سے ایک رہے ہیں۔ تاہم، یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی دلیل ضرور ہے کہ ہم نے طرزِ زندگی کا ایسا انداز اپنا لیا ہے، حتیٰ کہ اسے رومانوی رنگ بھی دے دیا ہے، جسے انسانی جسم مسلسل برقرار رکھنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ جن کامیابیوں کا ہم جشن مناتے ہیں، وہ ایک بامعنی زندگی کی بنیاد بننے والی چیزوں کی قیمت پر حاصل ہو رہی ہیں۔
ہم ایسے جسم کے ساتھ کام کر رہے ہیں جسے اپنی موجودہ ساخت تک پہنچنے میں کئی ملین سال لگے، لیکن گزشتہ تقریباً 40 برس سے ہم یہ سمجھتے آئے ہیں کہ اپنی خواہشات اور عزائم کی تکمیل کے لیے جسم کی ضروریات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں۔ نیند محض پسند یا کردار کی کمزوری نہیں، بلکہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے دماغ یادداشت کو مستحکم کرتا، جسم میں جمع ہونے والے فاضل مادوں کو صاف کرتا اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت بحال کرتا ہے۔ مسلسل نیند کی کمی توجہ، فوری یادداشت، جذبات پر قابو اور خطرات کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، حالانکہ اچھے فیصلے انہی صلاحیتوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، اور فیصلے کرنا کسی بھی کاروباری ادارے کے بانی کی ذمہ داریوں کا بڑا حصہ ہے۔
طویل عرصے تک برقرار رہنے والا دباؤ ذہنی لچک محدود کر دیتا ہے اور تخلیقی صلاحیت گھٹا دیتا ہے۔ سماجی تعلقات کسی مشکل دن کے اختتام پر ملنے والا انعام نہیں، بلکہ ان عوامل میں سے ہیں جو کسی شخص کی عمر اور معیارِ زندگی کا اندازہ لگانے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ کوئی نئی معلومات نہیں، لیکن اب ان پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ ہر وقت مصروف رہنے اور مسلسل کام کرتے رہنے کی ثقافت نے جن مسائل کو جنم دیا ہے، وہ زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔ ہم علامتی اور حقیقی، دونوں معنوں میں اس ماحول سے بہت آگے نکل گئے ہیں جس کے مطابق ہمارا جسم تشکیل پایا تھا، اور پھر ہم نے یہ طے کر لیا کہ تیز رفتاری بذاتِ خود ایک خوبی ہے۔
مسلسل کام میں جتے رہنے کی ثقافت کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں، اس کا بڑا حصہ ان لوگوں نے لکھا ہے جنہیں اس نے توڑا نہیں۔ وہ بانی جنہوں نے 34 برس کی عمر میں یہ دوڑ چھوڑ دی، جن کی صحت جواب دے گئی، جن کی شادیاں برقرار نہ رہ سکیں یا جن کی کمپنیاں خاموشی سے بند ہو گئیں، وہ کتابیں نہیں لکھ رہے اور نہ ہی پوڈکاسٹس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ جب سو افراد ایک ہی داؤ لگائیں اور ان میں سے صرف ایک کامیاب ہو، تو ہم عموماً اس داؤ کو دانش مندی قرار نہیں دیتے۔
کامیابی خواہ کچھ بھی ہو، اس کی قیمت نیند اور صحت کی قربانی، ان لوگوں کو انتظار کروانے کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے جو آپ کے منتظر رہتے ہیں، ان دوستیوں کی صورت میں جو رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ آپ کے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا، اور سب سے بڑھ کر زندگی کے بارے میں اس تجسس کی قربانی کی صورت میں جو کبھی آپ کے اندر موجود تھا، اس سے پہلے کہ ہر لمحہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے نام ہو جاتا۔ یہ کسی اچھی زندگی گزارنے کی قیمت نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک بامعنی زندگی کی تعریف کے بہت قریب ہے۔
اور اس قیمت کا ایک بڑا حصہ وہ لوگ ادا کرتے ہیں جنہوں نے خود یہ داؤ لگانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہوتی۔ یہ قیمت ان بچوں کو چکانا پڑتی ہے جو یہ سیکھتے ہیں کہ والدین کی موجودگی ہی وہ پہلی چیز ہے جس کی قربانی دی جاتی ہے؛ ان شریکِ حیات کو، جو اپنے حصے میں آنے والی ہر ذمہ داری اٹھاتے ہیں؛ اور ان والدین کو، جن سے ملنے کے لیے وقت کم نکالا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ داؤ نہیں لگایا تھا۔ وہ محض اس کی قیمت کا ایک حصہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
یہی اس پورے نظام کا بنیادی الٹ پھیر ہے۔ لوگ کاروبار شروع کرتے ہیں تاکہ کسی مسئلے کا حل نکال سکیں، روزی کما سکیں، اپنی کوئی چیز تعمیر کر سکیں، زندگی میں مقصد اور خودمختاری حاصل کر سکیں اور اس قابل ہوں کہ دوسروں کے کام آئیں اور ان کے لیے موجود رہیں۔ لیکن جب کاروبار ہی زندگی کو نگلنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ نظام الٹی سمت میں چل پڑا ہے۔ ترقی کی کوئی مقدار اس خرابی کی تلافی نہیں کر سکتی۔
آپ نے جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا آغاز کیوں کیا تھا؟ اور کیا آپ اس مقصد کے قریب جا رہے ہیں یا اس سے دور ہو رہے ہیں؟
اس روایتی تصور میں ایک اور مسئلہ بھی ہے، اور یہ اخلاقی سے زیادہ ایک غلط مفروضے کا مسئلہ ہے۔
کاروباری سرگرمیوں سے متعلق عالمی بحث کا بڑا حصہ اب بھی ایسے بانی کو سامنے رکھ کر ہوتا ہے جس کا پورا وقت کاروبار کے لیے وقف ہو۔ ایسا شخص صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کوئی دوسرا بچوں کی دیکھ بھال، بزرگوں کی خدمت، گھر چلانے اور ان ہزاروں طرح کی غیر مرئی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا رہا ہو جو جدت طرازی پر ہونے والی گفتگو میں کبھی جگہ نہیں پاتیں۔ یہ کوئی آفاقی انسانی نمونہ نہیں تھا، بلکہ ذمہ داریوں کی تقسیم کا ایک مخصوص انتظام تھا، جس کے لیے کسی دوسرے شخص کی موجودگی ناگزیر تھی۔ اس غیر مرئی محنت کا بڑا حصہ خواتین کے کندھوں پر آتا ہے، صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں۔
زیادہ تر خواتین کے لیے وقت ہمیشہ اپنی ملکیت کے بجائے باہمی ذمہ داریوں کے درمیان طے پانے والا معاملہ رہا ہے، جسے عموماً ان کی کمزوری یا محرومی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ خواتین کو بھی اس روایتی کاروباری نمونے جیسا بننے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسا ممکن نہیں، اور نہ ہی کسی دوسرے معاشرے میں۔ ماں ہمیشہ ماں رہے گی اور کوئی رشتہ حقیقتاً کسی دوسرے رشتے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ تاہم، تعلقات کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری تاریخی طور پر مردوں کے مقابلے میں خواتین پر زیادہ عائد ہوتی رہی ہے۔
اب میرا یقین ہے کہ ہمیں اس کے برعکس خواتین سے سیکھنا چاہیے، خصوصاً یہ کہ وہ اپنی دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ کاروبار کیسے چلاتی ہیں اور ہر جگہ اپنی موجودگی کیسے یقینی بناتی ہیں۔ جو شخص ہمیشہ حقیقی پابندیوں، محدود وقت اور دوسروں کے تئیں جواب دہی کے درمیان اپنے لیے جگہ بنانے پر مجبور رہا ہو، وہ دراصل ایک ایسی صلاحیت کی مسلسل مشق کرتا آیا ہے جسے اس روایتی کاروباری نمونے کے حامل شخص کو کبھی سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ ایسا کاروبار تعمیر کرنا جو زندگی کے باقی حصوں کے ساتھ چل سکے، کوئی سمجھوتا نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دانش مندانہ طرزِ تعمیر ہو۔
مجھے سب سے زیادہ تشویش اس بات پر نہیں کہ یہ طرزِ زندگی ان لوگوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے جو اس وقت اسے گزار رہے ہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود نوجوانوں کو کیا منتقل کر رہے ہیں۔
ایک نسل ایسی فضا میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں بالغ افراد اپنی توانائی اور صلاحیتیں ختم کر دینے کو کامیابی سمجھتے ہیں، جہاں محض چار گھنٹے کی نیند کو قابلِ فخر کارنامے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور جہاں نوجوان اپنے مشاہدے سے سیکھ رہے ہیں کہ زندگی کوئی ایسی چیز ہے جسے خرچ کیا جاتا ہے، نہ کہ جسے عزیز رکھ کر سنوارا اور تعمیر کیا جاتا ہے۔ ہم صرف اس ثقافت کو برداشت نہیں کر رہے، بلکہ اس کی توثیق کرتے ہوئے اسے اگلی نسل کے حوالے بھی کر رہے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جسے حیاتیاتی طور پر وہی انسانی جسم ورثے میں ملے گا، لیکن اس سے توقعات پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوں گی۔
میں اس کے نتائج بھرتی کے لیے ہونے والے انٹرویوز میں دیکھتا ہوں۔ کئی برس سے ہر سال نوجوان امیدواروں کے انٹرویو کرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کہ درمیانی راستہ اختیار کرنے والے نوجوان تقریباً غائب ہو گئے ہیں۔ ایک گروہ ایسا آتا ہے جس نے اس افسانے کو مکمل طور پر قبول کر لیا ہے۔ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے طریقوں سے پہلے ہی واقف ہوتا ہے، لیکن کام کے علاوہ اس کی زندگی میں زیادہ کچھ باقی نہیں رہتا۔
دوسرا گروہ اس تصور سے اس قدر بدظن ہو چکا ہے کہ وقت پر پہنچنا بھی اسے ایسے نظام کے سامنے جھکنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے جسے وہ کوشش کے قابل ہی نہیں سمجھتا۔ دوسرے گروہ کو غیر منضبط قرار دینا آسان ہے، لیکن میرے خیال میں دونوں ایک ہی نظام کے متاثرین ہیں۔ دونوں کو کام کرنے کی زندگی کا صرف ایک ہی نمونہ دکھایا گیا ہے، ایسا نمونہ جو انسان سے سب کچھ مانگتا ہے اور اس مطالبے کو موقع قرار دیتا ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کے سامنے صرف دو راستے رہ جاتے ہیں: یا تو اس نظام کے آگے سر جھکا دیں یا اس سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ ان میں سے کوئی بھی راستہ کامیاب پیشہ ورانہ زندگی یا ایک بامعنی زندگی کی تعمیر کے لیے موزوں نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے۔ کاروباری اداروں کے بانی اپنے تعمیر کردہ کاروبار سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ بعض ادوار میں کام کے اوقات طویل، فیصلے مشکل اور غیر یقینی صورتِ حال مسلسل برقرار رہتی ہے۔ کاروبار کرنا کبھی آسان نہیں رہا، اور کسی کو اس کے برعکس دعویٰ بھی نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن مشکل حالات اور خود کو تباہ کر لینا ایک ہی چیز نہیں، اور کسی مرحلے پر ہم نے اپنی توانائیاں نچوڑ دینے کو لگن سمجھنا شروع کر دیا۔
پاکستان کو کاروباری سرگرمیوں کی کم ضرورت نہیں بلکہ اس کے برعکس کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے بانیوں کی ضرورت ہے جو بامعنی مسائل حل کریں، روزگار پیدا کریں، مقامی صنعتوں کو مضبوط بنائیں اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیاں تعمیر کریں۔ لیکن ہمیں کامیابی کی ایسی تعریف درکار نہیں جو کاروباری بانی کو محض ایک ایسا وسیلہ سمجھے جسے ضرورت پڑنے پر استعمال کرکے ختم کر دیا جائے۔
ممکن ہے کہ کاروبار کے اگلے دور کی سمت متعین کرنے والے وہ لوگ نہ ہوں جو سب سے تیزی سے کاروبار پھیلاتے ہیں یا بورڈ روم میں سب سے بلند آواز میں بولتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ لوگ یہ کردار ادا کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ انسان کوئی ایسا وسیلہ نہیں جس کی توانائیاں کمپنی کی قدر بڑھانے کے لیے ختم کر دی جائیں۔ اور یہ کہ ایسا کاروبار تعمیر کرنا جو اپنے بانی اور اپنے مستقبل، دونوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، ابتدا ہی سے زیادہ بلند مقصد تھا۔
یہ مضمون ضروری نہیں کہ ’بزنس ریکارڈر‘ یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔


Comments