BR100 Decreased By (-1.5%)
BR30 Decreased By (-2.07%)
KSE100 Decreased By (-1.21%)
KSE30 Decreased By (-1.53%)
BAFL 55.21 Decreased By ▼ -0.37 (-0.67%)
BIPL 24.17 Decreased By ▼ -0.13 (-0.53%)
BOP 27.92 Decreased By ▼ -0.31 (-1.1%)
CNERGY 12.35 Decreased By ▼ -0.17 (-1.36%)
DFML 16.18 Increased By ▲ 0.21 (1.31%)
DGKC 178.21 Decreased By ▼ -3.96 (-2.17%)
FABL 90.41 Decreased By ▼ -0.71 (-0.78%)
FCCL 50.02 Decreased By ▼ -1.28 (-2.5%)
FFL 13.63 Decreased By ▼ -0.31 (-2.22%)
GGL 18.95 Decreased By ▼ -0.31 (-1.61%)
HBL 285.75 Decreased By ▼ -6.52 (-2.23%)
HUBC 190.64 Decreased By ▼ -4.25 (-2.18%)
HUMNL 8.29 Decreased By ▼ -0.37 (-4.27%)
KEL 5.63 Decreased By ▼ -0.10 (-1.75%)
LOTCHEM 23.93 Decreased By ▼ -0.23 (-0.95%)
MLCF 87.54 Decreased By ▼ -2.31 (-2.57%)
OGDC 300.50 Decreased By ▼ -2.55 (-0.84%)
PAEL 32.77 Decreased By ▼ -0.30 (-0.91%)
PIBTL 12.86 Decreased By ▼ -0.24 (-1.83%)
PIOC 227.68 Decreased By ▼ -4.63 (-1.99%)
PPL 214.20 Decreased By ▼ -2.47 (-1.14%)
PRL 95.12 Decreased By ▼ -4.76 (-4.77%)
SNGP 90.65 Decreased By ▼ -1.18 (-1.28%)
SSGC 22.55 Decreased By ▼ -0.66 (-2.84%)
TELE 6.74 Decreased By ▼ -0.24 (-3.44%)
TPLP 11.28 Decreased By ▼ -0.13 (-1.14%)
TRG 54.73 Decreased By ▼ -2.10 (-3.7%)
UNITY 7.69 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
WTL 0.90 Decreased By ▼ -0.03 (-3.23%)
اداریہ

معاشی اشاریوں میں بہتری

شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتِ حال اور بیرونی مالیاتی تحفظات میں بہتری آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام جے پی مورگن، سٹی بینک، ڈوئچے بینک، بارکلیز، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور مٹسوبشی فنانشل گروپ نے کیا تھا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے 2023 کے بعد معاشی ترقی میں ہونے والی پیش رفت اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر میں بہتری بڑی حد تک اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری کے باعث ممکن ہوئی جس میں جاری کھاتے کا متوازن ہونا معاون ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک کی جانب سے متعارف کرائی گئی ضابطہ جاتی اصلاحات، جن میں ایکسچینج کمپنیوں سے متعلق اقدامات بھی شامل تھے اور ترسیلاتِ زر کی باضابطہ ذرائع سے آمد نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے بیان میں 2023 کا حوالہ اس دور کی جانب اشارہ کرتا ہے جب ناقص پالیسیوں پر عملدرآمد کے باعث اہم معاشی اشاریوں کی کارکردگی انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ ان پالیسیوں میں سرکاری سطح پر ڈالر اور روپے کی شرحِ تبادلہ کو غیر پائیدار سطح پر برقرار رکھنے کے لیے زرمبادلہ کی مارکیٹ میں مداخلت بھی شامل تھی۔ اس کے نتیجے میں شرحِ تبادلہ کے متعدد نرخ رائج ہوئے جبکہ ترسیلاتِ زر کی باضابطہ ذرائع سے آمد میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی اور 2023 کے اوائل میں زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے۔اس صورتِ حال کے باعث اس وقت جاری آئی ایم ایف قرض پروگرام معطل ہوگیا۔ بعد ازاں نو ماہ پر مشتمل اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کی منظوری کیلئے ضروری تھا کہ زرمبادلہ کی مارکیٹ میں مداخلت ترک کی جائے اور ضابطہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔

ستمبر کے اواخر تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی تسلی بخش سطح پر پہنچ چکے ہیں، تاہم تیل کی عالمی قیمتوں میں بھاری اضافے، مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت میں رکاوٹوں اور روس یوکرین جنگ کے تناظر میں یہ ذخائر بمشکل تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ درآمدات کے لیے کم از کم تین ماہ کے ذخائر برقرار رکھنا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مقرر کردہ بنیادی ضرورت ہے۔

برآمدات میں اضافہ درآمدات کے مقابلے میں کہیں سست رفتار سے ہورہا ہے جبکہ ملکی تجارتی توازن مسلسل اتار چڑھاؤ کے اس چکر کا شکار ہے جس میں انتظامی اقدامات کے ذریعے درآمدات محدود کرکے جاری کھاتے کا خسارہ تو کم کیا جاتا ہے، لیکن اس سے معاشی نمو متاثر ہوتی ہے۔ خام مال اور نیم تیار مصنوعات پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی پیداوار سست پڑجاتی ہے، یہاں تک کہ درآمدی پابندیاں ہٹا دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد درآمدات دوبارہ بڑھنے لگتی ہیں اور جاری کھاتے کا خسارہ پھر بڑھ جاتا ہے۔ حکام کے لیے یہ صورتِ حال باعثِ تشویش ہونی چاہیے کہ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2026) میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ کر 874 ملین ڈالر ہوگیا جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 755 ملین ڈالر تھا۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے کے باعث متعدد ممالک کو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑتا ہے اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

آزاد ماہرینِ معیشت سے منسوب رپورٹس کے مطابق، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرحِ تبادلہ حیران کن حد تک مستحکم رہی ہے، حالانکہ اس استحکام کی وجوہات واضح نہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں بھی برقرار رہی جب ان بیشتر کرنسیوں کی قدر میں کمی ہو رہی ہے جن کے ساتھ روپے کی شرحِ تبادلہ منسلک سمجھی جاتی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان سے متعلق اپنی تمام دستاویزات اور پریس ریلیزوں میں آئی ایم ایف کی مسلسل تاکید بھی اس کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ 7 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں بھی فنڈ نے کہا تھا کہ شرحِ تبادلہ میں لچک کو معاشی جھٹکوں کے اثرات زائل کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر برقرار رہنا چاہیے جبکہ زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافہ، زرمبادلہ نظام کو بتدریج آزاد بنانا اور ملکی مالیاتی منڈیوں کو مزید گہرا کرنا معیشت کی مضبوطی میں اضافہ اور نجی شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

گزشتہ مالی سال پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محض 1.6723 ارب ڈالر رہی جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کا خالص حجم منفی 1.186 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس کے باوجود ملکی اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 3.51 فیصد بڑھا۔ نتیجتاً گزشتہ سال خالص سرمایہ کاری کی آمد صرف 486.1 ملین ڈالر رہی۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کا سرمایہ کاری کے لیے موزوں درجے سے نیچے رہنا بھی بلاشبہ اسی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔

گورنر نے مزید کہا کہ جی ڈی پی کے مقابلے میں سرکاری قرضوں کا تناسب مسلسل کم ہورہا ہے۔ یہ بات درست ہے، تاہم اس کمی کی وجہ قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا ہے جس پر شرحِ سود زیادہ ہے، البتہ ادائیگی کی مدت آگے بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت قرض کے حصول کے لیے قرضی سیکیورٹیز پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے دو مرحلوں پر مشتمل 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا جس کی ادائیگی ڈالر میں کرنا ہوگی۔ اس میں سے 1.75 ارب ڈالر کے بانڈ ساڑھے پانچ سال کے لیے 7.5 فیصد منافع پر، جبکہ 1.25 ارب ڈالر کے بانڈ 10 سال کے لیے 7.9 فیصد منافع پر جاری کیے گئے۔ اگر روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو اس قرض کی ادائیگی مالیاتی گنجائش کو مزید محدود کردے گی۔ سرکاری قرضوں کے اعدادوشمار میں چینی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے واجب الادا 498 ارب روپے اور توانائی کے شعبے کا 2 ہزار ارب روپے سے زائد کا گردشی قرضہ بھی شامل نہیں ہے۔

منزل تک پہنچنے سے پہلے کئی رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں، اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ حکومت محض آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرنے کے بجائے اپنی معاشی صورتِ حال کے بہتر ادراک کی بنیاد پر روایتی طریقوں سے ہٹ کر مؤثر پالیسیاں مرتب کرے گی۔ آئی ایم ایف پروگراموں کی افادیت پر سوال اٹھانے کے لیے یہی حقیقت کافی ہے کہ پاکستان اس وقت اپنے 25ویں پروگرام میں شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف