ہوزری مینوفیکچررز کا اصل ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم بحال کرنے کا مطالبہ
- پالیسی میں تبدیلیوں سے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی لاگت بڑھ گئی ہے، چیئرمین سید ضیا علمدار حسین
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے حکومت سے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی میں تبدیلیوں سے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی لاگت بڑھ گئی ہے اور نقد رقوم کی دستیابی سے متعلق مسائل مزید سنگین ہوگئے ہیں۔
پی ایچ ایم اے نے نشاندہی کی کہ اسکیم سے خام کپاس، سوتی دھاگے اور گرے فیبرک کو خارج کرنے، اہل مقامی سپلائیز پر زیرو ریٹنگ کی سہولت واپس لینے اور سیلز ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر کے باعث برآمد کنندگان پر اضافی مالی دباؤ پڑا ہے جبکہ اس سے ٹیکسٹائل کی پوری ویلیو چین بھی متاثر ہوئی ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت کی توجہ ٹیکسٹائل برآمدات میں حالیہ کمی کی جانب بھی مبذول کرائی۔
پی ایچ ایم اے کے مرکزی چیئرمین سید ضیا علمدار حسین نے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) جاری رکھنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم مطالبہ کیا کہ اسے ایس آر او 957(I)/2021 کے تحت اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے، جیسا کہ وفاقی بجٹ 2024-25 میں تبدیلیوں سے قبل نافذ تھی۔
انہوں نے کہا کہ 20 اگست 2024 کو جاری کردہ ایس آر او 1281(I)/2024 کے تحت اہل مقامی سپلائیز پر زیرو ریٹنگ کی سہولت واپس لینے کے بعد، 5 اگست 2025 کو جاری کردہ ایس آر او 1435(I)/2025 کے ذریعے خام کپاس، سوتی دھاگے اور گرے فیبرک کو ای ایف ایس 2021 سے خارج کردیا گیا۔ ان تبدیلیوں کے باعث کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا اور ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کو نقد رقوم کی دستیابی کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
سابقہ طریقہ کار کے تحت مجاز برآمد کنندگان کو اہل مقامی سپلائیز پر زیرو ریٹنگ کی سہولت حاصل تھی، جس کے باعث مینوفیکچررز سیلز ٹیکس کی ادائیگیوں میں اپنا بڑا ورکنگ کیپیٹل پھنسائے بغیر ضروری خام مال خرید سکتے تھے۔ یہ سہولت ختم کیے جانے کے بعد برآمد کنندگان کو قابلِ ٹیکس مقامی خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس سے پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے اور اسکیم کے تحت اہل درآمدی خام مال کے مقابلے میں مقامی طور پر حاصل کیے جانے والے خام مال کو مسابقتی نقصان کا سامنا ہے۔
سید ضیا علمدار حسین نے کہا کہ برآمدات میں حالیہ کمی کا جائزہ ان پالیسی تبدیلیوں کے تناظر میں بھی لیا جانا چاہیے، جنہوں نے برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقد رقوم کی دستیابی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے۔ برآمدی مال کی تیاری، پراسیسنگ اور ترسیل کے عمل میں تقریباً 180 دن لگ سکتے ہیں جبکہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے جس کے باعث برآمد کنندگان کی رقوم طویل عرصے تک پھنسی رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو اجرتوں، بجلی، گیس، خام مال، مال برداری اور دیگر کاروباری اخراجات کی ادائیگیاں جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی بھاری رقوم اپنے وسائل یا بینکوں سے قرض لے کر ادا کرنا پڑتی ہیں۔ ورکنگ کیپٹل پھنسنے سے قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے، پیداواری صلاحیت محدود ہوتی ہے اور برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی میں مسابقتی قیمتوں پر آرڈرز پورے کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق ایس ایم ایز اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اضافی ٹیکسوں کے بوجھ اور ریفنڈز میں طویل تاخیر برداشت کرنے کے لیے محدود مالی وسائل ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ برآمدات میں اضافہ اس وقت تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا جب تک کاروباری اداروں کو اپنی رقوم تک بروقت رسائی اور ایک مستحکم، کاروبار دوست ٹیکس اور سہولت کاری کا نظام میسر نہ ہو۔
پی ایچ ایم اے کے چیئرمین نے حکومت پر زور دیا کہ مناسب تصدیقی اور آڈٹ کے انتظامات کے ساتھ ای ایف ایس 2021 کے تحت مجاز برآمد کنندگان کو اہل مقامی سپلائیز پر زیرو ریٹنگ کی سہولت بحال کی جائے۔ انہوں نے خام کپاس، سوتی دھاگے اور گرے فیبرک کو بھی اسکیم میں دوبارہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا، خصوصاً ایسی صورت میں جب مقامی سپلائرز برآمد کنندگان کی معیار، مقدار، ترسیل کے مقررہ وقت یا مسابقتی قیمتوں سے متعلق ضروریات پوری نہ کر سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments