اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- صبح 11 بجکر 5 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 165,075.01 پوائنٹس پر آگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج جمعرات کو میں فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے ابتدائی اوقات میں ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 800 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔
صبح 11 بجکر 5 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 855.97 پوائنٹس یا 0.52 فیصد کمی سے 165,075.01 پوائنٹس پر آگیا۔
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، پاور جنریشن اور ریفائنریز سمیت اہم شعبوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، ایچ بی ایل اور یو بی ایل بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی دیکھی گئی، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی تازہ خریداری، امریکا اور ایران کے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کی امید اور آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے سے متعلق توقعات نے انڈیکس کو سہارا دیا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 779.34 پوائنٹس یا 0.47 فیصد اضافے سے 165,930.99 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی منڈیوں میں جمعرات کو ایشیائی حصص ابتدائی کاروبار کے دوران مندی سے نکلنے کی کوشش کرتے رہے، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منافع سے متعلق مثبت توقعات نے عارضی سہارا دیا، تاہم اے آئی کے حوالے سے خدشات اور خلیجی خطے میں غیر یقینی صورتحال بدستور سرمایہ کاروں کے لیے باعثِ تشویش رہی۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کی نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد گرگیا جس کے نتیجے میں مسلسل چوتھے ہفتے بھی اس میں کمی کا امکان ہے۔ جاپان کا نکئی اسٹاک انڈیکس ابتدائی اضافے کے بعد اپنی برتری کھو بیٹھا اور 0.4 فیصد کمی کے ساتھ کاروبار کرنے لگا جبکہ جنوبی کوریا کے حصص میں ایک فیصد سے زیادہ گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
امریکی اسٹاک فیوچرز، ایس اینڈ پی 500 ای منیز، 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 7,765.8 پوائنٹس پر آگئے۔ ادھر گزشتہ شب وال اسٹریٹ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل نیسڈیک انڈیکس نے مارکیٹ کو اضافے کے ساتھ بند ہونے میں نمایاں مدد دی۔ بڑی کمپنیوں کی توقعات سے بہتر مالی نتائج کی رپورٹس نے اے آئی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے تسلسل اور اس سے منافع حاصل ہونے کی صلاحیت سے متعلق بعض خدشات کم کرنے میں مدد دی۔
اسپیس ایکس نے بطور عوامی کمپنی اپنا پہلا منافع ریکارڈ کیا جبکہ میٹا کی تیسری سہ ماہی کی آمدنی توقعات سے بڑھ گئی۔ اسی طرح اے آئی سرور بنانے والی کمپنی سپر مائیکرو نے آئندہ سہ ماہی کی آمدنی اور منافع کی شرح سے متعلق جو پیش گوئیاں کیں وہ بھی اندازوں سے بہتر رہیں۔
تاہم میٹا کی جانب سے ووٹنگ کے حق سے محروم کلاس سی کے عام حصص جاری کرنے کے منصوبے کے باعث مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر بھاری اخراجات سے متعلق خدشات ایک بار پھر زیرِ بحث آگئے۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments