بھارت میں کاکروچ تحریک کے بانی، طلبہ رہنما گرفتار
- نئی دہلی سمیت ممبئی، بنگلورو اور پٹنہ میں مظاہرے، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
بھارتی پولیس نے جمعہ کو نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے، طلبہ رہنماؤں اور متعدد حامیوں کو حراست میں لے لیا۔ دوسری جانب سینکڑوں مظاہرین نے نئی دہلی کے وسطی علاقے میں قومی پرچم لہراتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے رواں ماہ تقریباً روزانہ احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اس عمل کے دوران 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے گئے۔
الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹروں کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی نے مخالفین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ابھیجیت دیپکے نے جمعہ کو احتجاج کی اپیل سی جے پی کے ان دو رہنماؤں سے اظہار یکجہتی کے لیے کی تھی جنہیں رواں ہفتے ممنوعہ احتجاجی مقام پر مظاہرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے پانچ روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ سی جے پی اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ شام کے وقت نئی دہلی کے مصروف تجارتی و تفریحی مرکز کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جمع ہوکر قومی پرچم لہرائیں۔
پولیس نے جمعے کو احتجاج سے قبل دیپکے سے ملاقات کرکے انہیں مظاہرے سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ بعدازاں سیکیورٹی سخت کردی گئی اور سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے حفاظتی سازوسامان کے ساتھ وسطی دہلی کے مختلف مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیں جبکہ شہری انتظامیہ نے سینٹرل پارک بند کردیا۔
اس کے باوجود تقریباً 500 مظاہرین مختلف گروپوں کی صورت میں کناٹ پلیس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے سینٹرل پارک کے اطراف تقریباً نصف درجن مقامات پر قومی پرچم لہرا کر نعرے لگائے۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے کر گاڑیوں میں منتقل کردیا۔
دیپکے کو وسطی دہلی میں ایک گھر سے باہر نکلتے ہی حراست میں لیا گیا۔ پولیس اہلکاروں نے مختصر تلخ کلامی کے بعد انہیں گاڑی میں بٹھایا اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔ احتجاجی مظاہروں میں نمایاں کردار ادا کرنے والی طلبہ کارکن نیہا بورا کو بھی اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ درجنوں حامیوں کے ہمراہ کناٹ پلیس پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
پولیس کے سینئر افسر سچن شرما نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ دیپکے اور بورا کو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے۔ سی جے پی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ابھیجیت کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ یہ حکومت نوجوانوں کے قومی پرچم لہرانے سے اتنی خوف زدہ کیوں ہے؟‘
حراست میں لیے جانے سے قبل ڈیٹا اینالسٹ سورَو کمار نے کہا کہ اگر ملک میں ترنگا لہرانا جرم بن گیا ہے تو انہیں جیل جانے پر بھی خوشی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے احتجاج کے لیے جگہ فراہم نہ کرنا اور نظام کی خامیوں کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا جمہوریت کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔
نئی دہلی کے علاوہ بھارت کے مالیاتی مرکز ممبئی اور ٹیکنالوجی کے مرکز بنگلورو میں بھی مختصر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مشرقی شہر پٹنہ میں طلبہ تنظیموں نے احتجاج کیا، جہاں شرکا اپنی تنظیموں کے پرچم لہراتے ہوئے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو دھکیلتے رہے۔


Comments