مسافروں کی حفاظت، ایک نظرانداز ترجیح
- ہر حادثہ پریشان کن سوالات کو جنم دیتا ہے، آخر مسافروں کو کب تک اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سفر کرنا پڑے گا
ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے المناک واقعے جس میں دو سالہ بچے سمیت پانچ افراد جاں بحق اور 49 مسافر زخمی ہوئے نے ایک بار پھر پاکستان ریلوے کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی تلخ یاد دہانی کرا دی ہے۔
اس نوعیت کا ہر حادثہ پریشان کن سوالات کو جنم دیتا ہے، آخر مسافروں کو کب تک اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سفر کرنا پڑے گا، اور حکومت ریلوے کی حفاظت کو معمول کے تعزیتی بیانات، تحقیقات اور معاوضے کے اعلانات کے بجائے کب قومی ترجیح قرار دے گی؟
بدقسمتی سے یہ سانحہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ فروری 2025 میں شاہدرہ پل، لاہور کے قریب شالیمار ایکسپریس کی تین بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں۔ مئی میں فیصل آباد کے قریب ایک غیرمحفوظ ریلوے پھاٹک پر ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرانے کے بعد اسی ٹرین کی تمام 15 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے نتیجے میں چھ مسافر زخمی ہوئے۔ اگست میں اسلام آباد ایکسپریس کو کالا شاہ کاکو کے قریب پٹری سے اترنے کے ایک بڑے حادثے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ عوام ایکسپریس لودھراں کے قریب پٹری سے اتر گئی، جس میں ایک مسافر جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے۔ مارچ 2026 میں تیزگام ایکسپریس کی سات بوگیاں لودھراں میں آدم واہن کے قریب پٹری سے اتر گئیں، جس کے نتیجے میں 26 مسافر زخمی ہوئے۔ اس سے بھی زیادہ تباہ کن واقعہ اگست 2023 میں پیش آیا جب راولپنڈی جانے والی ایک مسافر ٹرین کی دس بوگیاں نواب شاہ کے قریب پٹری سے اتر کر الٹ گئیں۔ اس حادثے میں 30 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوئے۔ پے در پے پیش آنے والے یہ حادثات ریلوے کے انتظامی امور، آلات کی دیکھ بھال اور بنیادی ڈھانچے کے انتظام میں مسلسل موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اگرچہ ان حادثات کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم ان کا مجموعی رجحان پرانی اور خستہ حال پٹریوں، ناقص ریل گاڑیوں، ناکافی دیکھ بھال اور سگنلنگ و ریلوے لائن تبدیل کرنے کے نظام میں خامیوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تازہ ترین حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں ایک مسافر بوگی سے متعلق مکینیکل خرابی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک جامع اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے یہ طے کیا جانا چاہیے کہ ٹرین پٹری سے اترنے کا سبب بوگی کی خرابی تھی، پٹری کو نقصان پہنچا تھا، ریلوے لائن تبدیل کرنے کا نظام ناقص تھا یا ان تمام خرابیوں نے مل کر حادثے کو جنم دیا۔ اتنا ہی اہم یہ معلوم کرنا بھی ہے کہ موجودہ حفاظتی جانچ پڑتال کے باوجود اس سانحے کو روکنے میں ناکامی کیوں ہوئی۔ ان بنیادی خامیوں کو دور کیے بغیر تحقیقات فوری وجوہات کی نشاندہی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کر سکیں گی۔
بدقسمتی سے حکومت کا ردعمل ایک مانوس طرزِ عمل کی پیروی کرتا ہے: افسوس کا اظہار، معاوضے کے وعدے، تحقیقات اور احتساب کی یقین دہانیاں۔ اگرچہ یہ اقدامات ضروری ہیں، لیکن ان کا متبادل حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کی یہ یقین دہانی کہ انجنوں، بوگیوں اور مال بردار ویگنوں سے متعلق مسائل 31 دسمبر تک حل کر دیے جائیں گے، مناسب مالی وسائل، ایک شفاف لائحۂ عمل اور قابلِ پیمائش حفاظتی اہداف کے ساتھ ہونی چاہیے۔ ترجیحات میں پٹریوں کی تجدید، انجنوں اور بوگیوں کا باقاعدہ معائنہ، جدید سگنلنگ نظام، ریلوے پھاٹکوں پر مؤثر حفاظتی انتظامات اور آزادانہ حفاظتی آڈٹ شامل ہونے چاہییں۔ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جانے چاہییں، جبکہ غفلت کے مرتکب پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف ان کے عہدے یا سیاسی روابط سے قطع نظر مناسب کارروائی ہونی چاہیے۔
پاکستان ریلوے اس ملک کے کروڑوں عوام کے لیے آمدورفت کا ایک سستا اور ناگزیر ذریعہ ہے، خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے جو باآسانی متبادل ذرائع سفر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ مسافر حادثات اور سرکاری وعدوں کے لامتناہی سلسلے کے بجائے محفوظ سفر کے حق دار ہیں۔ حکومت بنیادی ڈھانچے اور آلات کو درکار توجہ نہ ملنے کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہونے کے باوجود مالی مشکلات کا عذر غیرمعینہ مدت تک پیش نہیں کر سکتی۔ ریلوے کی حفاظت میں مسلسل سرمایہ کاری کوئی اختیاری خرچ نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب تک مسافروں کی حفاظت کو عملی طور پر واضح حکومتی ترجیح نہیں بنایا جاتا، ریلوے حادثات سرکاری غفلت کی قیمت کو بے نقاب کرتے رہیں گے اور ہر سفر کے ساتھ ایک ناقابلِ قبول خطرہ جڑا رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments