لالا لینڈ میں ڈالر آموں کی طرح
- پاکستان کی تاریخ میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاہدے دن دہاڑے ہونے والی سب سے بڑی ڈکیتی تھے
معاشی خودمختاری کے بغیر قومی خودمختاری ممکن نہیں، اور معاشی خودمختاری دراصل فیصلوں کا ایک سلسلہ ہے، جن میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ خریداری پر خرچ کی جانے والی رقوم ملک کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں یا اس کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاہدے دن دہاڑے ہونے والی سب سے بڑی ڈکیتی تھے۔ کاروباری شخصیات کے بھیس میں موجود دھوکے بازوں نے، مدبرین کا روپ دھارے سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی ملی بھگت سے، کھربوں روپے نکال لیے۔ اس کا طریقۂ کار سادہ تھا۔ ادائیگیوں کی ذمہ داریاں ڈالر میں اور آمدنی روپے میں۔ روپے کی قدر میں ہر کمی نے قرض بڑھایا، قرض میں ہر اضافے نے بجلی کے نرخ بڑھائے اور اس کا بوجھ غریبوں نے برداشت کیا۔
اب یہی طریقۂ کار مکمل تیار شدہ (سی بی یو) اور پرزوں کی صورت میں درآمد کی جانے والی (سی کے ڈی) گاڑیوں کے معاملے میں دہرایا جا رہا ہے۔ پاکستان نے مالی سال 2025-26 میں گاڑیوں اور ان کی اسمبلنگ کٹس کی درآمد پر 2.496 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ اس سے پچھلے سال یہ رقم 1.38 ارب ڈالر تھی۔ اس طرح 81 فیصد اضافہ ہوا اور صرف ایک سال میں مزید 1.116 ارب ڈالر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
زرمبادلہ کے اس بڑے اور محدود ذخیرے کو اس طرح خرچ کرنے کا کون سا قابلِ پیمائش قومی فائدہ ہے جو اس کی توجیہ پیش کرسکے؟ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب ملک آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تھا۔ ناموافق شرائط پر قسطوں کی صورت میں اس پروگرام سے تقریباً 4.6 ارب ڈالر حاصل کرنے کے اثرات ملک میں بجلی کے ہر بل اور تنخواہ کی ہر پرچی تک پہنچے ہیں۔ پاکستان ہر جائزے کے بعد ایک ارب ڈالر قرض لے رہا ہے، جبکہ سالانہ ڈھائی ارب ڈالر گاڑیوں پر خرچ کررہا ہے۔
یہ رقم نہ برآمدات پر خرچ ہورہی ہے، نہ ترقیاتی کاموں پر اور نہ ہی صنعت قائم کرنے کے لیے مشینری کی خریداری پر۔
اسمبلنگ لائنوں پر بھی نظر ڈالیں۔ آئی پی پیز کے یہی سرپرست گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کررہے ہیں۔ وہی سرپرست، وہی چالیں۔ ریاست کی جانب سے دی گئی رعایت، ڈالر میں قیمت ادا کرکے درآمدات، روپے میں منافع اور زرمبادلہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ملک کے حصے میں مزید قرض لینا۔
اب اس مالی بوجھ کو دیکھیے۔ پاکستان نے رواں ماہ دو مرحلوں پر مشتمل یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر 7.9 فیصد تک شرح سود پر حاصل کیے۔ یہ رقم اپریل میں لیے گئے سعودی عرب کے تین ماہ کے قرض کی ادائیگی کے لیے حاصل کی گئی، جو خود متحدہ عرب امارات کا قرض چکانے کے لیے لیا گیا تھا۔ یہی پاکستان کے لیے اضافی ایک ڈالر حاصل کرنے کی قیمت ہے۔ اگر اسی نوعیت کے 2.5 ارب ڈالر 7.9 فیصد شرح سود پر حاصل کیے جائیں تو صرف سالانہ سود کی مد میں 197.5 ملین ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ اس میں فیس شامل نہیں اور اصل قرض کی ادائیگی تو ابھی باقی ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں 280 روپے کی شرح مبادلہ کے حساب سے یہ رقم 55.3 ارب روپے بنتی ہے، جو تنخواہ دار طبقے کی اوسط ماہانہ انکم ٹیکس ادائیگی سے ذرا زیادہ ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق سال بھر میں تنخواہ دار طبقے کی انکم ٹیکس ادائیگی 633 ارب روپے رہی۔
یہ اعدادوشمار مالی بوجھ کے حجم کو سمجھنے کے لیے ایک پیمانہ ہیں، ان کا مقصد انفرادی درآمدات کو براہِ راست خودمختار قرضوں سے منسلک کرنا نہیں۔ لیکن زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے درکار اضافی وسائل بالآخر قرض لے کر ہی حاصل کیے جاتے ہیں، اور گاڑیوں کی خریداری پر خرچ ہونے والا ہر ڈالر اس خلا کو بڑھاتا ہے جسے ریاست کو اسی قیمت پر قرض لے کر پُر کرنا پڑتا ہے۔
ایندھن کی بچت کا جواز بھی عملی اعتبار سے زیادہ وزن نہیں رکھتا۔ فرض کریں کہ درآمد کی جانے والی ایک لاکھ گاڑیاں ہر سال 15 ہزار کلومیٹر چلتی ہیں اور ان کی جگہ استعمال ہونے والی گاڑیوں کے مقابلے میں ہر 100 کلومیٹر پر پانچ لیٹر ایندھن بچاتی ہیں۔ اگر فی لیٹر ایندھن کی قیمت 0.933 ڈالر ہو تو سالانہ بچت تقریباً 70 ملین ڈالر بنتی ہے۔ یہ 16.863 ارب ڈالر کے پیٹرولیم درآمدی بل کا محض 0.4 فیصد اور مثال کے طور پر بیان کردہ سودی ادائیگی کے صرف 35 فیصد کے برابر ہے۔ اس حساب میں اصل قرض کی ایک روپیہ بھی ادائیگی شامل نہیں۔ مزید یہ کہ اس مفروضے میں یہ بھی فرض کیا گیا ہے کہ گاڑیوں کا پورا بیڑا توانائی کے لحاظ سے مؤثر ہے، جبکہ انہیں چارج کرنے کے لیے درآمد کیے گئے ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کے استعمال کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی صورتحال کو مزید خراب کردیتی ہے۔ حکومت کے محصولات روپے میں وصول ہوتے ہیں، جبکہ ڈالر میں لیے گئے قرضوں کی ادائیگی بھی ڈالر ہی میں کرنا ہوتی ہے۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 280 سے کم ہوکر 308 روپے ہوجائے تو یہی 197.5 ملین ڈالر 60.8 ارب روپے کے برابر ہوجائیں گے، جبکہ اصل قرض میں ایک ڈالر کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔ ان درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی صورت میں حاصل ہونے والی آمدنی، جسے عموماً ان درآمدات کے حق میں دلیل بنایا جاتا ہے، روپے میں ہوتی ہے۔ روپے میں حاصل ہونے والی آمدنی ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی نہیں کرسکتی۔
لہٰذا پالیسی سازوں کو ان درآمدات کے باقی ماندہ فوائد ثابت کرنا ہوں گے، جن میں حقیقی مقامی قدر میں اضافہ، پیداواری روزگار، برآمدات اور عوام کے لیے قابلِ برداشت ذرائع آمدورفت شامل ہیں۔ اعدادوشمار شائع کیے جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ ان رعایتوں کے بدلے ملک کو کیا حاصل ہورہا ہے۔
ایک دیہاتی اس مسئلے کو فوراً سمجھ جائے گا۔ فرض کریں کہ ایک شخص اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔ وہ 50 ہزار روپے قرض لیتا ہے اور اگلی ہی صبح اس میں سے 25 ہزار روپے کا موبائل فون خرید لیتا ہے۔ اس کی ضروریات 8 ہزار روپے کے فون سے بھی پوری ہوسکتی تھیں، جس کے بعد اس کے پاس 42 ہزار روپے بچ جاتے۔ اس رقم سے وہ ایک ریڑھی، اوزار یا سلائی مشین خرید سکتا تھا۔ یہ تمام ایسی پیداواری چیزیں ہیں جو اسے آمدنی کمانے اور قرض واپس کرنے میں مدد دے سکتی تھیں۔ لیکن یہاں خواہشات نے وہ وسائل کھا لیے جو ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار تھے۔
لیکن یہ تو لالا لینڈ ہے، جہاں ڈالر آموں کی طرح ہیں۔ موسم آتا ہے تو ڈالر پہنچ جاتے ہیں، ہر کوئی اپنا پیٹ بھر کر کھاتا ہے، اور کوئی بھی بیج نہیں بوتا۔


Comments