ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کا منصوبہ ناکام، انفینٹینو کو زیورخ میں فیفا کے باغیوں کا سامنا
- فیفا کونسل کے اجلاس میں انفینٹینو کو قیادت کے حوالے سے چیلنج کا سامنا ہے، جہاں مخالفین ان کے اختیارات محدود کرنے یا 2027 کے انتخابات سے قبل انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں
جیانی انفینٹینو جمعرات کو ان فٹ بال رہنماؤں کا سامنا کریں گے جو انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ یہ جولائی میں ورلڈ کپ سمیت فیفا کے مختلف ٹورنامنٹس میں حصص فروخت کرنے کا منصوبہ ناکام ہونے کے بعد فیفا کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کا پہلا اجلاس ہوگا۔
یورپی فٹ بال کنفیڈریشن (یوئیفا)، ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) اور شمالی و وسطی امریکا اور کیریبین کی فٹ بال کنفیڈریشن (کونکاکاف) کے سربراہان انفینٹینو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کنفیڈریشنز کے نمائندے زیورخ میں فیفا کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ان کے علاوہ افریقا، جنوبی امریکا اور اوشیانا کی فٹ بال کنفیڈریشنز کے ہم منصب بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں فیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای) کے ناکام منصوبے پر بحث بھی شامل ہے، جسے انفینٹینو نے جولائی میں متعارف کرانے کے چند ہی روز بعد ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
اس منصوبے کے تحت انفینٹینو نے فیفا کی ایک تجارتی ذیلی کمپنی کے اقلیتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز دی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی جوشوا کشنر کی قائم کردہ کمپنی کو اس منصوبے میں مرکزی سرمایہ کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
فیفا کی 37 رکنی کونسل کھیل کے عالمی ادارے کے طرزِ حکمرانی پر بھی غور کرے گی۔ فٹ بال کی بعض بااثر ترین شخصیات نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اگر وہ انفینٹینو کو عہدے سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوئیں تو ان کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کریں گی۔
56 سالہ انفینٹینو مارچ 2027 میں دوبارہ انتخاب لڑیں گے، جبکہ ممکنہ امیدواروں کے لیے نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 18 نومبر قریب آ رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ اور ٹوٹنہم ہاٹسپر کے سابق دفاعی کھلاڑی رامون ویگا نے اعلان کیا تھا کہ وہ انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا انہیں انتخابی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے درکار پانچ قومی فٹ بال ایسوسی ایشنز کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔
ایف ایف ای منصوبے نے عالمی فٹ بال میں اختلافات کو نمایاں کر دیا۔ یوئیفا، اے ایف سی اور کونکاکاف کے صدور الیگزینڈر سیفرین، سلمان آل خلیفہ اور وکٹر مونٹاگلیانی نے کہا کہ فیفا کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔
تاہم، انفینٹینو اقتدار برقرار رکھنے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ ہفتے کیپ وردے میں افریقی فٹ بال رہنماؤں سے ملاقات کے دوران انہیں کھڑے ہو کر بھرپور داد دی گئی۔
توقع ہے کہ اگلے سال مراکش کے شہر رباط میں ہونے والے انتخابات میں جنوبی امریکا بھی ان کی حمایت کرے گا۔ اے ایف سی کی جانب سے ان کی قیادت پر تنقید کے باوجود ایشیا کے متعدد ممالک، جن میں عرب ممالک کا ایک گروپ بھی شامل ہے، ان کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔
امن انعام
معاملے سے واقف افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ اگرچہ انفینٹینو کی جگہ کسی دوسرے امیدوار کو لانے کے امکانات نہایت کم ہیں، تاہم ان کے مخالفین انہیں مزید تنہا کرنے اور ان کے اختیارات محدود کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ایف ایف ای منصوبے کا جائزہ لینے کے علاوہ کونسل کے ارکان سے توقع ہے کہ وہ فیفا کے مالی ذخائر اور رکن ایسوسی ایشنز کو جاری کی جانے والی رقوم، تادیبی طریقۂ کار، طرزِ حکمرانی کے ڈھانچے اور فیفا کے امن انعام پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔ یہ انعام گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا گیا تھا، جس پر تنازع کھڑا ہوا تھا۔
گزشتہ ماہ یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کی تمام 211 رکن ایسوسی ایشنز میں سے ہر ایک کو ایک کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں۔ یہ مطالبہ انفینٹینو کی ایف ایف ای تجویز کے متبادل کے طور پر سامنے آیا تھا، جس کے تحت ہر ایسوسی ایشن کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے دو کروڑ ڈالر مل سکتے تھے اور مزید دو کروڑ ڈالر تک رسائی کا امکان بھی تھا۔
کھیلوں میں بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے کام کرنے والے دباؤ کے گروپ اسپورٹ انٹیگریٹی گلوبل الائنس کے بانی اور عالمی چیف ایگزیکٹو ایمانویل میڈیروس نے کہا کہ فیفا کو زیورخ میں ’’کھل کر بات چیت‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پوری دنیا کی نظریں ان پر ہیں۔ فٹ بال کی دنیا توقع کرتی ہے کہ کونسل اس غیرمعمولی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طرزِ حکمرانی کا جامع، شفاف اور حقیقی معنوں میں آزادانہ جائزہ لینے کا انتظام کرے گی۔ ہم یقیناً نئی تحریک اور نئے اندازِ کار کے خواہاں ہیں۔‘‘
تاہم، وکیل اور سیاست دان میگوئل مادورو، جو 2016 میں فیفا کی گورننس کمیٹی کے چیئرمین تھے اور جنہیں انفینٹینو نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا، نے کہا کہ انہیں جمعرات کے اجلاس سے کسی بامعنی پیش رفت کی توقع نہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے کہ وہ کسی ورکنگ گروپ کے قیام یا فیفا کے طرزِ حکمرانی کے آزادانہ جائزے کا اعلان کر دیں، لیکن فیفا کے سابقہ ریکارڈ کے پیش نظر ان میں سے کسی بھی اقدام کی ساکھ بہت محدود ہوگی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ایسا جائزہ حقیقی معنوں میں آزادانہ اور قابلِ عمل نہ ہوا تو یہ محض وہی پرانا طریقہ ثابت ہو سکتا ہے؛ یعنی عوامی دباؤ کم کرنے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کہ ادارے نے اپنے مسائل سے نمٹ لیا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ صرف دکھاوے کی کارروائی ہوگی۔‘‘


Comments