BR100 Increased By (0.03%)
BR30 Decreased By (-0.21%)
KSE100 Decreased By (-0%)
KSE30 Decreased By (-0.04%)
BAFL 55.16 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
BIPL 24.48 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 28.45 Decreased By ▼ -0.37 (-1.28%)
CNERGY 12.26 Decreased By ▼ -0.03 (-0.24%)
DFML 16.30 Increased By ▲ 0.07 (0.43%)
DGKC 180.65 Decreased By ▼ -1.23 (-0.68%)
FABL 91.45 Increased By ▲ 0.06 (0.07%)
FCCL 51.41 Decreased By ▼ -0.37 (-0.71%)
FFL 13.90 Decreased By ▼ -0.03 (-0.22%)
GGL 18.32 Increased By ▲ 0.26 (1.44%)
HBL 286.00 Decreased By ▼ -0.95 (-0.33%)
HUBC 192.54 Increased By ▲ 0.06 (0.03%)
HUMNL 9.26 Decreased By ▼ -0.14 (-1.49%)
KEL 5.89 Increased By ▲ 0.04 (0.68%)
LOTCHEM 26.39 Increased By ▲ 0.33 (1.27%)
MLCF 89.51 Decreased By ▼ -0.55 (-0.61%)
OGDC 297.48 Decreased By ▼ -1.48 (-0.5%)
PAEL 33.43 Decreased By ▼ -0.07 (-0.21%)
PIBTL 13.76 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 231.79 Increased By ▲ 1.32 (0.57%)
PPL 215.80 Decreased By ▼ -1.63 (-0.75%)
PRL 93.35 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SNGP 89.34 Decreased By ▼ -0.39 (-0.43%)
SSGC 22.48 Decreased By ▼ -0.10 (-0.44%)
TELE 7.10 Increased By ▲ 0.05 (0.71%)
TPLP 12.01 Decreased By ▼ -0.09 (-0.74%)
TRG 54.26 Increased By ▲ 0.32 (0.59%)
UNITY 8.80 Increased By ▲ 0.12 (1.38%)
WTL 0.96 No Change ▼ 0.00 (0%)
بی آر ریسرچ

چھوٹے کاروبار ترقی کیوں نہیں کررہے؟

  • تجرباتی شواہد مائیکرو کریڈٹ کو معاشی تبدیلی کا ذریعہ سمجھنے کی حمایت نہیں کرتے
شائع اپ ڈیٹ

ایک مائیکرو فنانس ادارہ اپنے قرضوں کے حجم کو دوگنا کرسکتا ہے، قرض لینے والوں کی تعداد بڑھا سکتا ہے اور ایک اور کامیاب سال کی رپورٹ پیش کرسکتا ہے، لیکن اس دوران اس کا ایک بھی صارف ترقی کرکے بڑے اور زیادہ پیداواری کاروبار میں قدم نہ رکھ سکے۔

ادارے نے ترقی کی ہے، لیکن آیا اس کے قرض لینے والوں کی معاشی حالت بھی بہتر ہوئی ہے یا نہیں، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ یہ وہ فرق ہے جس سے پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے حوالے سے ہونے والی بحث تقریباً تین دہائیوں سے گریز کرتی آئی ہے۔

اس صنعت کی کارکردگی کو لوگوں تک رسائی، قرضوں کی فراہمی، قرضوں کے حجم میں اضافے اور قرضوں کی واپسی کی شرح کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ یہ مالیاتی خدمات کی فراہمی کے جائز پیمانے ہیں۔ تاہم، ان میں سے کوئی بھی اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ قرض نے پیداواری صلاحیت بہتر بنائی، سرمایہ جمع کرنے کے قابل بنایا یا بار بار قرض لینے پر انحصار کم کیا ہے۔ ایسا قرض لینے والا جو ہر چھ ماہ بعد بنیادی طور پر اسی معاشی سرگرمی کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے واپس آتا ہے، قرض فراہم کرنے والے ادارے کے لیے ایک تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل صارف رہتا ہے۔

اس معاملے میں ترغیبات کا نظام بھی کسی واضح ہم آہنگی کا حامل نہیں۔ مالیاتی اداروں کو اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے اور انہیں برقرار رکھنے پر فائدہ حاصل ہوتا ہے، جب کہ معاشی ترقی کے نتیجے میں صارف بالآخر ان مصنوعات اور خدمات کی ضرورت سے آگے نکل سکتا ہے جو یہ ادارے فراہم کرتے ہیں۔ یوں ایک صنعت اپنے قرض لینے والوں کی غربت میں کوئی کمی لائے بغیر بھی ترقی اور خوشحالی حاصل کرسکتی ہے۔

تجرباتی شواہد بھی مائیکرو کریڈٹ کو معاشی تبدیلی کا ذریعہ سمجھنے کی حمایت نہیں کرتے۔ سنہ 2015 میں ابھیجیت بنرجی، ڈین کارلان اور جوناتھن زنمین نے چھ بے ترتیب تجرباتی جائزوں کے نتائج یکجا کرکے ایک تجزیہ پیش کیا۔ اس میں مثبت اثرات عموماً محدود پائے گئے، جب کہ بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانے والے نتائج کے شواہد بہت کم تھے۔

پاکستان کے تناظر میں، زیویئر گینی اور غزالہ منصوری نے دیہی علاقوں میں مائیکرو فنانس کے صارفین کو درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ شرکا کو کاروباری تربیت اور اوسط قرض کے حجم سے سات گنا تک بڑے قرضوں تک رسائی کی پیشکش کی گئی۔ بڑے قرضوں کے اثرات محدود رہے۔ تاہم، کاروباری تربیت سے کاروباری طریقۂ کار بہتر ہوا، کاروبار ناکام ہونے کے امکانات کم ہوئے اور مالیاتی فیصلوں میں بہتری آئی، اگرچہ اس کے فوائد زیادہ تر مردوں تک محدود رہے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ زیادہ قرض ہی لازماً وہ بنیادی ضرورت نہیں تھا جس کی کمی محسوس کی جارہی تھی۔

پاکستان کا معاشی ڈھانچہ ان نتائج کو سمجھنے کے لیے ضروری پس منظر فراہم کرتا ہے۔

اقتصادی مردم شماری 2023 کے مطابق ملک میں 71 لاکھ 40 ہزار کاروباری و معاشی ادارے موجود تھے، جن میں سے تقریباً 95 فیصد میں دس سے کم کارکن کام کرتے تھے۔ اس کے ساتھ گھروں کی سطح پر چلنے والی معاشی سرگرمیوں کی تعداد ایک کروڑ 9 لاکھ تھی۔ زرعی مردم شماری 2024 میں 1 کروڑ 11 لاکھ فارموں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے تقریباً پانچ میں سے چار فارم پانچ ایکڑ سے کم رقبے پر مشتمل تھے۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق برسرِ روزگار افراد میں سے 36.1 فیصد اپنے ذاتی کھاتے پر کام کرنے والے تھے، جب کہ مزید 19.1 فیصد ایسے خاندانی کارکن تھے جو خاندان کے کاروبار میں معاوضے کے بغیر حصہ ڈالتے تھے۔ آجر افراد کا تناسب محض 1.3 فیصد تھا۔

یہ اعداد و شمار ایسی معیشت کی تصویر پیش کرتے ہیں جس پر چھوٹے کاروباری اداروں، تقسیم شدہ زرعی زمینوں اور خود روزگاری کا غلبہ ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ قرضوں نے انفرادی کاروباروں کی حالت بہتر بنائی ہے یا نہیں۔ تاہم، یہ ان کاروباروں کی مالی معاونت کے گرد تشکیل پانے والے ترقیاتی ماڈل کے بارے میں ایک غیر آرام دہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں۔

کیا مائیکرو فنانس کے تین دہائیوں پر محیط سفر نے ان معاشی اکائیوں کو اپنی محدود حد سے نکلنے میں مدد دی ہے، یا محض ان کے وجود کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے؟

ترقی سے متعلق بیشتر بیانیوں میں خود روزگاری کی معاشیات کی جگہ کاروبار اور کاروباری صلاحیت کی زبان نے لے لی ہے۔ کوئی شخص مناسب معاوضے والی ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو کریانے کی دکان کھول لیتا ہے، مرغیوں کی افزائش شروع کردیتا ہے یا گھر سے اشیا کی خرید و فروخت کرنے لگتا ہے، اور فوراً اسے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر سراہا جانے لگتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور قرض آتا ہے، جس کے ساتھ کاروبار کے قیام کی کامیابی کی ایک اور کہانی بھی بیان کی جاتی ہے۔

لیکن مستقل طور پر انتہائی چھوٹے پیمانے پر کاروبار چلانا لازماً کاروباری صلاحیت اور جدت پسندی کا مظہر نہیں ہوتا۔ یہ محض بے روزگاری بھی ہوسکتی ہے، جو خود روزگاری کے بھیس میں قرض کے ذریعے مالی اعانت حاصل کرتی ہے اور خاندان کے افراد کی بلا معاوضہ محنت کے سہارے برقرار رہتی ہے۔

چھوٹا کاروبار چلانے میں کوئی عار نہیں۔ تاہم، ضرورت کے تحت اختیار کی جانے والی خود روزگاری کو حقیقی کاروباری سرگرمی اور متحرک کاروباری صلاحیت سمجھنے سے پہلے اس کے بنیادی معاشی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایسا کاروبار جو پائیدار اضافی آمدنی پیدا نہ کرسکے، پیداواری سرمایہ جمع نہ کرسکے یا آمدنی کو محض گزر بسر کی سطح سے بلند نہ کرسکے، اسے صرف اس کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاحات تبدیل کرکے ترقی نہیں دی جاسکتی۔

بلاشبہ، کامیاب معیشتوں کا انحصار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر بھی ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ بہت سے چھوٹے کاروبار بڑے پیداواری نیٹ ورکس کے اندر مخصوص نوعیت کے سامان اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انہیں منظم خریداری، ٹیکنالوجی اور منڈیوں تک رسائی سے فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کی مسابقتی صلاحیت کا انحصار ان پیداواری زنجیروں کی کارکردگی پر ہوتا ہے جن کا وہ حصہ ہیں، نہ کہ اس بات پر کہ انہیں چھوٹے کاروبار کا نام دیا گیا ہے۔

کریانے کی ایک دکان کسی خاندان کے اخراجات پورے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ لیکن اسی محلے میں ایک اور کریانے کی دکان کھولنے کے لیے قرض فراہم کرنا لازماً قوتِ خرید میں اضافہ نہیں کرتا۔ جہاں طلب محدود ہو، وہاں اضافی قرض کے نتیجے میں تجارت بڑھنے کے بجائے موجودہ کاروبار مزید دکانداروں کے درمیان تقسیم ہوسکتی ہے۔

معیشتیں پیداواری صلاحیت، تخصص اور بڑے پیمانے پر مؤثر سرگرمیوں کو فروغ دے کر ترقی کرتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ چھوٹی فرمیں لازماً بڑی بن جائیں، لیکن ان کی معاونت کرنے والے پیداواری نظاموں کی کارکردگی بہتر ہونا ضروری ہے۔ کسان اپنی زمین کا رقبہ بڑھائے بغیر بھی پیداوار کو یکجا کرنے، مشینری کی خدمات اور منظم منڈیوں تک رسائی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ چھوٹے صنعتی ادارے صنعتی سپلائی چینز میں مخصوص مصنوعات کی تیاری اور خدمات کی فراہمی میں مہارت حاصل کرسکتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر کام کرنے کے فوائد پوری پیداواری زنجیر میں موجود ہوسکتے ہیں۔

تاہم پاکستان کا مالیاتی شمولیت کا بیشتر نظام اب بھی انفرادی معاشی اکائیوں کو قرض فراہم کرنے پر مرکوز ہے، جب کہ ان پیداواری انتظامات پر محدود توجہ دی جاتی ہے جو ان اکائیوں کو ترقی کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے معاملے میں یہ تضاد مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔

ایک اور بھینس، چند بکریوں یا مرغبانی کے کاروبار کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کو معمول کے مطابق خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری ترقی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی خاتون کے نام پر قرض جاری ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اثاثے پر اختیار کس کا ہے، اس کی پیداوار کون فروخت کرتا ہے یا حاصل ہونے والی آمدنی کس کے پاس رہتی ہے۔ تازہ ترین لیبر فورس سروے کے مطابق، برسرِ روزگار خواتین میں سے 49.7 فیصد ایسی خاندانی کارکن ہیں جو خاندان کے کاروبار میں حصہ ڈالتی ہیں۔ اس لیے گھریلو پیداوار میں اضافے کے لیے مالی معاونت خواتین کے کام کا بوجھ تو بڑھا سکتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ان کی معاشی خودمختاری میں بھی اضافہ ہو۔

مویشیوں کی ملکیت سے گھرانوں کی فلاح و بہبود بہتر ہوسکتی ہے، اور اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ مناسب انداز میں تیار کیے گئے اثاثوں کی منتقلی کے پروگرام دیرپا بہتری پیدا کرسکتے ہیں۔ 2015 میں سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں پاکستان سمیت چھ ممالک کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں ایسے پروگراموں کے دیرپا فوائد سامنے آئے جن میں پیداواری اثاثوں کے ساتھ تربیت، ضروریاتِ زندگی کے اخراجات کے لیے معاونت اور دیگر مدد بھی فراہم کی گئی تھی۔ ان نتائج کو صرف مویشیوں کی ملکیت سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔

خواتین کے لیے معاشی ترقی کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کا مطلب یہ بھی ہونا چاہیے کہ انہیں اپنی آمدنی پر زیادہ اختیار حاصل ہو، بہتر معاوضے والے روزگار تک رسائی ملے اور وہ زیادہ پیداواری سرگرمیوں کی طرف منتقل ہونے کی آزادی رکھتی ہوں۔ ایسی مالیاتی شمولیت جو بلا معاوضہ گھریلو محنت پر انحصار کو برقرار رکھے، بااختیار بنانے کے ایک محدود تصور کی عکاسی کرتی ہے۔

ان میں سے کسی بات کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کے منتشر پیداواری ڈھانچے کی ذمہ داری مائیکرو فنانس پر عائد ہوتی ہے۔ توانائی کی غیر قابلِ اعتماد فراہمی، کمزور بنیادی ڈھانچہ، منڈیوں تک محدود رسائی اور پیداواری روزگار کی کمی ایسی رکاوٹیں ہیں جو کاروبار کی ترقی کو محدود کرتی ہیں اور جنہیں صرف قرض کے ذریعے دور نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح نقد رقم کی دستیابی اور اخراجات میں اتار چڑھاؤ کو متوازن رکھنے سے حاصل ہونے والے فلاحی فوائد کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

لیکن روزگار اور ذریعۂ معاش کو برقرار رکھنے کے اقدامات کا جائزہ اسی مقصد کے تحت لیا جانا چاہیے۔ انہیں خودبخود معاشی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لانے والے اقدامات کے درجے اور ان سے وابستہ کارکردگی کے دعووں کا مستحق نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہی فرق اس بات کا تعین کرے کہ ترقیاتی مالی وسائل کس طرح مختص کیے جائیں اور ان کی کارکردگی کیسے جانچی جائے۔

پاکستان کا قرضوں سے متعلق معلوماتی نظام اس سلسلے میں ایک ابتدائی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو (ای سی آئی بی)، لائسنس یافتہ کریڈٹ بیوروز کی معاونت سے، اس بات کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتا ہے کہ قرض لینے والے مائیکرو فنانس سے نکل کر بڑے رسمی قرضوں کی سہولتوں تک کیسے پہنچتے ہیں۔ تاہم، اس سے پہلے رپورٹنگ کے تقاضوں اور معلومات کی کوریج میں موجود فرق کو دور کرنا ہوگا، بالخصوص غیر بینکاری قرض دہندگان کے معاملے میں۔

قرض لینے والوں کی ترقی کی پیمائش کے لیے ایک پیمانہ وضع کیا جاسکتا ہے، جس سے معلوم ہو کہ انتہائی چھوٹے کاروباروں کے کتنے قرض دار تین سے پانچ سال کے دوران بڑے قرضوں کی سہولتوں تک پہنچتے ہیں، کتنے افراد مسلسل چھوٹے قرضوں پر انحصار کرتے رہتے ہیں اور کتنے رسمی قرضوں کے نظام سے باہر نکل جاتے ہیں۔

بڑا قرض حاصل کرنا بذاتِ خود معاشی ترقی کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کا ثبوت نہیں۔ اسی طرح، مزید قرض نہ لینے کا مطلب سرمایہ جمع کرنے میں کامیابی بھی ہوسکتا ہے اور کاروبار کی ناکامی بھی۔ اس لیے قرضوں کی تاریخ کو وقتاً فوقتاً کیے جانے والے کاروباری اداروں اور گھرانوں کے سروے سے منسلک کرنا ہوگا، جن میں منافع، پیداواری اثاثوں اور روزگار کی پیمائش کی جائے۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان نتائج کو رعایتی مالی معاونت، سرکاری ضمانتوں اور ترقیاتی مقاصد کے لیے فراہم کیے جانے والے دیگر خطرہ برداشت کرنے والے سرمائے کی تقسیم پر اثر انداز ہونا چاہیے۔ کاروباری ترقی میں معاونت کے لیے بنائے گئے پروگراموں کو پیداواری صلاحیت میں بہتری، تجارتی اعتبار سے پائیدار ہونے اور بڑی پیداواری زنجیروں کا حصہ بننے کی جانب ایک قابلِ اعتبار راستہ دکھانا چاہیے۔ ان پروگراموں کی کارکردگی کو انہی مقاصد کی بنیاد پر جانچنا چاہیے اور وقت کے ساتھ قرض لینے والوں کی پیش رفت کی پیمائش بھی کرنی چاہیے۔

جہاں مقصد ذریعۂ معاش کا تحفظ ہو، وہاں مداخلت کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ اس نے مالیاتی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، آمدنی کے استحکام اور مجبوری میں نقصان دہ فیصلے کرنے سے بچاؤ میں کتنا کردار ادا کیا۔ دونوں طرح کے اقدامات کے لیے ایک جائز جواز موجود ہے۔ لیکن انہیں ایک دوسرے کا متبادل سمجھنے سے ان کے معاشی مقاصد دھندلا جاتے ہیں اور سرکاری معاونت کے استعمال کے حوالے سے جواب دہی کمزور پڑ جاتی ہے۔

سرمائے کی تقسیم کے لیے اس کے مضمرات واضح ہیں۔ اگر مقصد معاشی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لانا ہے تو پیداواری سامان اور خدمات فراہم کرنے والوں، پراسیسنگ کے اداروں، پیداوار کو یکجا کرنے والوں اور ترقی کرتے ہوئے کاروباری اداروں کی مالی معاونت پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ قرضوں کی ضمانتوں اور رعایتی مالی سہولتوں کو ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد دینی چاہیے جو قابلِ عمل کاروباروں کو وسعت اختیار کرنے سے روکتی ہیں، نہ کہ محض گزر بسر کے لیے لیے جانے والے قرضوں کی مسلسل تجدید کو غیر معینہ مدت تک مالی سہارا فراہم کرنا چاہیے۔

مالیاتی شمولیت کی صنعت اپنی سرگرمیوں کو مسلسل وسعت دے سکتی ہے، جب کہ پیداواری معیشت بدستور انتہائی چھوٹے کاروباروں تک محدود رہ سکتی ہے۔ آیا اسے کامیابی قرار دیا جائے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس صنعت سے حاصل کیا کرنا مقصود ہے۔

لوگوں کو مشکل حالات میں اپنا گزارا کرنے میں مدد دینے میں کوئی برائی نہیں۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب محض بقا کو معاشی تبدیلی کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔

Comments

200 حروف