روس سے ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا ٹرمپ کا دفاع، دونوں جماعتوں کے ارکانِ کانگریس کی تنقید
- ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے معاہدے پر دونوں جماعتوں کا احتجاج، ناقدین کا انتباہ کہ اس سے روس پر پابندیاں اور یوکرین کے لیے امداد متاثر ہوگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایندھن کی بلند قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم، دونوں جماعتوں کے ارکانِ کانگریس نے معاہدے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت ماسکو کی یوکرین کے خلاف جارحیت ختم ہونے تک روسی توانائی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جو 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت کی کامیابی کے امکانات کو متاثر کر رہی ہیں۔ سات ماہ قبل ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم ٹرمپ اس کی ایک بڑی وجہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر یوکرین کے حملوں کو قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’میں نے امریکی عوام کے لیے درست فیصلہ کیا ہے—ہمیشہ امریکہ اول! صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔‘‘
ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ روس عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرنے پر رضامند ہوگیا ہے۔ ان کی انتظامیہ نے روسی ایندھن پر عائد امریکی پابندیاں بھی عارضی طور پر نرم کردیں، جن کا مقصد یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے ماسکو کی آمدنی محدود کرنا ہے۔
اتوار کو امریکی سینیٹ کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے ایک گروپ نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے سے ’’پیچھے ہٹ جائیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ 2022 کے اس قانون کی خلاف ورزی ہوسکتا ہے، جس کا مقصد روسی حملہ آوروں کو پسپا کرنے کی یوکرین کی کوششوں میں مدد دینا ہے۔
ریپبلکن سینیٹر جیری موران نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہمیں پابندیاں مزید سخت کرنی چاہییں، نہ کہ روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دے کر انہیں بے اثر کرنا چاہیے۔ اس سے ہمارا دباؤ ڈالنے کا مؤثر ذریعہ ختم ہونے، اتحادیوں کے سامنے ہماری ساکھ کو نقصان پہنچنے اور مخالفین کے حوصلے بڑھنے کا خطرہ ہے۔‘‘
ہفتے اور اتوار کے دوران ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر یوکرین کے حملوں کے معاملے پر لفظی تکرار ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو نئے صدر کی ضرورت ہے، جبکہ زیلنسکی نے وعدہ کیا کہ اگر روس 60 روزہ جنگ بندی پر رضامند ہوجائے تو وہ انتخابات کرائیں گے۔
ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ معاہدہ برقرار رہ سکے گا۔
زیلنسکی نے پیر کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر یوکرین کے حملے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کی بنیادی وجہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’سب جانتے ہیں کہ ڈیزل کی قیمتوں کا تعلق روس میں ڈیزل کی تنصیبات پر ہمارے حملوں سے نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے۔‘‘


Comments