BR100 Decreased By (-0.17%)
BR30 Decreased By (-0.24%)
KSE100 Decreased By (-0.17%)
KSE30 Decreased By (-0.21%)
BAFL 56.14 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
BIPL 24.64 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 29.19 Decreased By ▼ -0.06 (-0.21%)
CNERGY 12.50 Increased By ▲ 0.11 (0.89%)
DFML 16.60 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 185.30 Decreased By ▼ -0.22 (-0.12%)
FABL 92.67 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 52.10 Increased By ▲ 0.03 (0.06%)
FFL 14.05 Increased By ▲ 0.04 (0.29%)
GGL 19.21 Increased By ▲ 0.10 (0.52%)
HBL 296.61 Decreased By ▼ -3.25 (-1.08%)
HUBC 199.55 Decreased By ▼ -0.12 (-0.06%)
HUMNL 9.31 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 5.99 Increased By ▲ 0.03 (0.5%)
LOTCHEM 26.40 Decreased By ▼ -0.20 (-0.75%)
MLCF 90.68 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
OGDC 308.00 Decreased By ▼ -0.66 (-0.21%)
PAEL 33.89 Increased By ▲ 0.16 (0.47%)
PIBTL 13.60 Increased By ▲ 0.02 (0.15%)
PIOC 237.92 Increased By ▲ 1.31 (0.55%)
PPL 217.93 Decreased By ▼ -0.42 (-0.19%)
PRL 91.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
SNGP 90.82 Decreased By ▼ -0.42 (-0.46%)
SSGC 23.09 Increased By ▲ 0.05 (0.22%)
TELE 7.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.29 Increased By ▲ 0.49 (4.15%)
TRG 55.70 Increased By ▲ 0.48 (0.87%)
UNITY 7.69 Increased By ▲ 0.04 (0.52%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
اداریہ

اہم معاہدہ طے

شائع اپ ڈیٹ

سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ دو ہفتوں پر مشتمل مشن کے اختتام پر طے پایا جسے 7 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔

یہ اعدادوشمار گزشتہ مالی سال جو 30 جون کو ختم ہوا سے متعلق تھے، تاہم مہنگائی کے اعدادوشمار اس سے مستثنیٰ تھے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد رہی۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور رسد میں تعطل کے باعث معاشی نمو کی رفتار کچھ کمزور پڑی تاہم مالی سال 2026 میں شرح نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد ہے۔ مئی میں بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد عمومی مہنگائی کی شرح ستمبر میں کم ہو کر تقریباً 10.3 فیصد رہ گئی جبکہ بنیادی مہنگائی قابو میں رہی۔ مضبوط ترسیلاتِ زر کی بدولت مالی سال 2026 میں جاری کھاتے کا توازن مجموعی طور پر برقرار رہا جبکہ ستمبر کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر تقریباً 21 ارب 50 کروڑ ڈالر ہوگئے۔

دو نکات اہم ہیں۔ اول پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار کے مطابق عمومی مہنگائی مئی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر نہیں پہنچی جبکہ مئی میں اس کی شرح 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ مزید برآں عالمی بینک کے مطابق غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستان کے 44.7 فیصد شہری ستمبر میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی 10.3 فیصد شرح کو بیان کرنے کے لیے لفظ کمی یا اعتدال کے استعمال سے اتفاق کرنے کا امکان نہیں رکھتے۔ یہ شرح اگست کی 11.1 فیصد مہنگائی کے مقابلے میں 0.8 فیصد کم ہے۔

بنیادی مہنگائی جس میں خوراک اور توانائی کے علاوہ دیگر اشیا و خدمات کی قیمتوں کو شمار کیا جاتا ہے، مئی کے 9 فیصد سے کم ہوکر ستمبر میں 8.6 فیصد رہ گئی، تاہم خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا غریب اور کمزور طبقات پر سب سے زیادہ اثر پڑا۔ دوسری جانب یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ شرح نمو میں اضافہ بلاشبہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی سخت مالی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس کی وجہ کھپت کی بلند سطح، خصوصاً خوراک اور توانائی کے اخراجات میں اضافے کے علاوہ گزشتہ برسوں میں جی ڈی پی کی کم شرح نمو کی بنیاد تھی۔

اس کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پیشِ نظر ترسیلاتِ زر میں غیر متوقع اضافہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ دیگر ممالک کے شہریوں کے برعکس پاکستانی تارکینِ وطن کارکنوں نے وطن واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ جاری کھاتے کا توازن بھی مجموعی طور پر برقرار رہا، تاہم خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کے باعث یہ خدشہ پیدا ہورہا ہے کہ معیشت میں تیزی اور مندی کے بار بار آنے والے چکر کا دوبارہ آغاز ہوسکتا ہے۔

زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث پٹرولیم مصنوعات، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں یہ ذخائر پاکستان کی تقریباً 3.2 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے معیار کے مطابق زرمبادلہ ذخائر کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہونے چاہییں۔

فنڈ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی سے پالیسیوں پر اعتماد میں اضافے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالی حالات میں سختی اور تجارت میں رکاوٹوں کے باعث خطرات بدستور بلند ہیں۔ اس مؤقف کی تائید گزشتہ ماہ لندن اسٹاک ایکسچینج میں دو مراحل میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا سے بھی ہوتی ہے۔

پہلے مرحلے میں 1.75 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کیے گئے جن کی مدت ساڑھے پانچ سال اور شرح سود 7.5 فیصد ہے جبکہ باقی 1.25 ارب ڈالر کے بانڈز کی مدت 10 سال اور شرح سود 7.9 فیصد ہے۔ یہ شرحیں کثیرالجہتی اور دوطرفہ مالیاتی ذرائع سے دستیاب شرح کے مقابلے میں کم از کم دگنی ہیں۔اگرچہ خودمختار بانڈز پر اسپریڈ سے مراد وہ اضافی منافع ہے جو سرمایہ کار یہ بانڈز خریدنے کے لیے طلب کرتے ہیں اور مغربی ممالک میں بھی قرض لینے کی لاگت بڑھ رہی ہے جہاں پانچ سالہ امریکی بانڈ پر شرح سود 5.02 فیصد ہے، تاہم اس کے باوجود ان بانڈز کا اجرا ایک کامیابی ہے۔یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ 2023 میں نگراں وزیر خزانہ نے اس ذریعے سے فنڈز حاصل کرنے کو حد سے زیادہ مہنگا قرار دیتے ہوئے اسے ناقابلِ عمل سمجھا تھا، اگرچہ انہوں نے اس وقت پیش کی جانے والی شرح منافع کا ذکر نہیں کیا تھا۔

آخر میں فنڈ کی پریس ریلیز میں ایک گراف بھی شامل تھا جس کے لیے فریزر انسٹی ٹیوٹ، عالمی بینک، ورلڈ وائیڈ گورننس انڈیکیٹرز، اکنامک فریڈم آف دی ورلڈ، بودینا و دیگر ماہرین کی تحقیق اور آئی ایم ایف کے عملے کے حسابات سے اعداد و شمار لیے گئے تھے۔ گراف کا عنوان تھا: حکمرانی، کاروباری ضوابط اور بیرونی شعبے سے متعلق ساختی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کے برابر آنے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔

کیا امور زیرِ بحث آئے، کن معاملات پر اتفاق ہوا اور وقت کی پابندی سے مشروط ساختی اہداف کیا ہیں، آیا ان کے لیے پیشگی اقدامات کیے گئے یا کسی شرط سے استثنیٰ دیا گیا، ان کی تفصیلات آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر تفصیلی رپورٹ جاری ہونے کے بعد دستیاب ہوں گی۔ یہ رپورٹ عموماً مشن کے اختتام کے کم از کم ایک ماہ بعد جاری کی جاتی ہے۔ تاہم گزشتہ جائزے کے برعکس اس بار مشن کے اختتامی مرحلے پر اسٹاف لیول معاہدہ (ایس ایل اے) طے پانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فنڈ نے نہ صرف بیرونی عوامل، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے معیشت پر منفی اثرات، کو مدنظر رکھا بلکہ حکام بھی اس کی طے کردہ شرائط پر حتی الامکان مکمل طور پر عمل کر رہے ہیں۔

Comments

200 حروف