سخت گیر ریاست اور شکستہ معاشرہ
- شکستہ سماجی معاہدے کے نتیجے میں 10 میں سے 4 بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، بنیادی سہولیات زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ میرٹ کی جگہ مراعات یافتہ طبقے نے لے لی ہے، جس سے پاکستان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے
پاکستان کا سب سے گہرا بحران اب محض معاشی نہیں رہا۔ بگڑتی ہوئی سرکاری مالیاتی صورتِ حال بتدریج معیارِ زندگی کو گرا رہی ہے، شہری ہونے کے وعدے کو کمزور کر رہی ہے اور معاشرے کو ایک ایسی گہری اور ممکنہ طور پر خطرناک دراڑ کی جانب دھکیل رہی ہے۔
ہم زرِمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف پروگرامز، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب، گردشی قرضے، برآمدات اور مالیاتی خسارے پر نہ ختم ہونے والی گفتگو کرتے ہیں، گویا پاکستان ایک فعال ریاست ہے جسے صرف بیلنس شیٹ کے ایک مشکل مسئلے کا سامنا ہے۔ یہ ایک تسلی بخش مگر خوش فہمی پر مبنی تصور ہے۔
معاشی ہنگامی صورتِ حال کے پس پردہ ایک زیادہ گہرا بحران موجود ہے: شہری اور ریاست کے باہمی تعلق کو زوال کا سامنا ہے، جبکہ عدم مساوات، بدعنوانی، بدنظمی اور انسانی محرومی معمول بنتی جا رہی ہے۔
جو ریاست بنیادی خدمات کی مالی ضروریات پوری نہیں کر سکتی، وہ اپنی ناکامی کا بوجھ گھرانوں پر منتقل کر دیتی ہے۔ خاندان بجلی، گیس، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے لیے زیادہ ادائیگی کرتے ہیں، جبکہ اجرتیں اور مواقع اس رفتار سے نہیں بڑھتے۔ مشکلات صرف مالی بوجھ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وقار، صبر اور مستقبل پر یقین بھی مجروح ہونے لگتا ہے۔
جب معیارِ زندگی سال بہ سال گرتا رہے تو معاشرہ ساکت نہیں رہتا۔ مایوسی گہری ہوتی ہے، اعتماد ختم ہوتا ہے اور غصہ اپنا ہدف تلاش کرنے لگتا ہے۔ اگر معاشی ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ مسلسل انہی لوگوں پر ڈالا جاتا رہا جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں تو پاکستان کو ایک ایسے سماجی بحران کا خطرہ ہے جس کے انتہائی ناخوشگوار نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پاکستان بتدریج کمزوروں کے لیے ایک سخت گیر اور طاقتوروں کے لیے غیر معمولی طور پر رعایت دینے والی ریاست بن گیا ہے۔
لاکھوں عام شہریوں کے لیے ریاست بنیادی طور پر پولیس اہلکار، ٹیکس وصول کرنے والے، بجلی کا بل، ایک بیوروکریٹک رکاوٹ یا جبر کے آلے کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس دولت، اثر و رسوخ یا روابط رکھنے والوں کو ایک مختلف پاکستان دکھائی دیتا ہے؛ ایسا پاکستان جہاں قواعد پر گفت و شنید کی جا سکتی ہے، فائلیں آگے بڑھائی جا سکتی ہیں، ٹیکس سے بچا جا سکتا ہے، زمین حاصل کی جا سکتی ہے، پولیس کو قابو میں کیا جا سکتا ہے اور نتائج کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
یہ تضاد اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی زندگیوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ڈپٹی کمشنرز، سیکریٹریز اور دیگر بااثر افسران اکثر سرکاری رہائش گاہوں، عملے، گاڑیوں، ایندھن، سکیورٹی، کلبوں، پروٹوکول اور صوابدیدی اختیارات کی دنیا میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے برعکس عام شہری دفاتر کے باہر انتظار کرتا ہے، بھاری بھرکم بل ادا کرتا ہے، ناقص خدمات کے نظام سے گزرنے کی مشقت اٹھاتا ہے اور ایسے فیصلوں کے لیے منت سماجت کرتا ہے جو دراصل اس کا معمول کا حق ہونے چاہئیں۔ عوام کی خدمت کے لیے تشکیل دی گئی سول سروس اکثر ایک ایسے مراعات یافتہ طبقے میں تبدیل ہو چکی ہے جو اس نظام کے نتائج سے محفوظ ہے جسے چلانے کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
یہ محض روایتی معنوں میں بدعنوانی نہیں کہ رشوت کا لین دین ہو رہا ہو۔ یہ مفاد پرستانہ طرزِ عمل پر مبنی ایک سیاسی معیشت ہے۔
جب قوانین کا اطلاق منتخب انداز میں ہونے لگے تو ضابطوں کی پابندی سے زیادہ اثر و رسوخ اہم ہو جاتا ہے۔ اگر قانون توڑنے والے خوشحال ہوں اور قانون کی پابندی کرنے والے مشکلات کا شکار رہیں تو بددیانتی معاشی فائدے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ سرکاری عہدہ مراعات کے حصول کا راستہ بن جاتا ہے، سرپرستی میرٹ کی جگہ لے لیتی ہے اور بدعنوانی نظام کے کام کرنے کے طریقوں میں سے ایک بن جاتی ہے۔
اس کے نتائج ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان ٹیکنالوجی کے دور میں ایسے محرومی کے ساتھ داخل ہو رہا ہے جو سیاسی طور پر ناقابلِ قبول ہونی چاہیے: پانچ سال سے کم عمر تقریباً ہر 10 میں سے 4 بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت یا اس کے قریب زندگی گزار رہا ہے اور لاکھوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں۔
نشوونما کی کمی کا شکار بچہ محض قد میں چھوٹا نہیں ہوتا۔ طویل عرصے تک غذائی قلت اس کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے۔ لاکھوں بچوں کے معاملے میں پاکستان اپنے مستقبل کے انسانی سرمائے کو اس وقت ہی نقصان پہنچا رہا ہے جب ان میں سے بہت سے بچے ابھی کلاس روم یا روزگار کی منڈی میں داخل بھی نہیں ہوئے۔
کوئی بھی ملک دہائیوں تک غذائیت اور تعلیم کو اس پیمانے پر نظرانداز کرنے کے بعد یہ توقع نہیں کر سکتا کہ اسے حیرت ہوگی کہ پیداواریت کم کیوں ہے، ٹیکس کا دائرہ محدود کیوں ہے، برآمدات میں پیچیدگی کیوں پیدا نہیں ہو رہی اور اقتصادی نمو بار بار ساختی حدود سے کیوں ٹکرا رہی ہے۔
روزگار کا منظرنامہ بھی تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت پیداواریت میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ ابتدائی اور درمیانی سطح کی ملازمتوں کو بھی محدود کر رہی ہے جن کے ذریعے نوجوان اور عام پیشہ ور افراد ماضی میں تجربہ، اعتماد اور ترقی کے مواقع حاصل کرتے تھے۔ جب ترقی کی سیڑھی کا پہلا زینہ ہی غائب ہو جائے اور درمیانی سطح کے کیریئر غیر محفوظ ہو جائیں تو نقصان صرف معاشی نہیں رہتا۔ یہ قومی نفسیات میں بے چینی، احساسِ محرومی اور اس احساس کی صورت میں سرایت کر جاتا ہے کہ مستقبل کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔
کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں روزگار پاکستان کے لیے ایک سماجی حفاظتی والو کا کردار ادا کرتا رہا۔ اس نے خاندانوں کو سہارا دیا، ایسے کارکنوں کو روزگار فراہم کیا جنہیں ملکی معیشت کھپا نہیں سکتی تھی اور ترسیلاتِ زر پیدا کیں جنہوں نے خود ملک کو بھی سہارا دیے رکھا۔ ایران جنگ اور خلیج میں جاری عدم استحکام کے بعد اب یہ منظرنامہ زیادہ تشویش ناک ہے۔ کارکنوں کی واپسی اور نئی ملازمتوں کا حصول مشکل ہونے کی صورت میں ترسیلاتِ زر تیزی سے کم ہو سکتی ہیں، جس سے ان چند سہارا دینے والے ذرائع میں سے ایک ختم ہو جائے گا جنہوں نے گھرانوں اور ریاست دونوں کو ملکی معاشی ناکامی کے مکمل اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھا ہے۔
غربت اس لیے خاص طور پر ناگوار محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان یکساں طور پر غریب نہیں ہے۔ شدید محرومی کے ساتھ ساتھ دولت کے جزیرے بھی موجود ہیں۔ مہنگی ایس یو ویز ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والے بچوں کے پاس سے گزرتی ہیں؛ نجی سکیورٹی، جنریٹرز، پانی اور سرسبز و شاداب مناظر سے آراستہ محفوظ رہائشی بستیاں ان آبادیوں کے ساتھ موجود ہیں جہاں لوگ نکاسیٔ آب، صاف پانی اور محفوظ رہائش کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
دولت مند طبقے نے ریاست کے نجی متبادل خرید لیے ہیں: نجی اسکول، نجی اسپتال، شمسی توانائی، پانی کے ٹینکر، بور اور سکیورٹی گارڈز۔ انہیں جائیداد کے تحفظ اور اثر و رسوخ تک رسائی کے علاوہ عوامی ریاست سے بہت کم کچھ درکار ہے۔ غریب اس نظام سے الگ ہونے کا اختیار نہیں رکھتے؛ وہ انہی اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جو سب سے بدتر انداز میں کام کر رہے ہیں۔
توانائی کا شعبہ ظاہر کرتا ہے کہ عدم مساوات بنیادی خدمات میں کس طرح سرایت کر چکی ہے۔ صرف تقریباً 23 فیصد گھرانوں کو پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب ہے؛ باقی زیادہ تر ایل پی جی، لکڑی، بایوماس، کوئلے اور دیگر ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عوامی بحث میں اکثر پائپ لائن گیس کو ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے وہ ہر شہری کا حق ہو۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
یہ عدم مساوات انتہائی غیرمنصفانہ ہے۔ گیس کے نیٹ ورک سے باہر رہنے والے گھرانے اکثر ان گھرانوں سے زیادہ غریب ہوتے ہیں جنہیں گیس کی سہولت حاصل ہے، لیکن مفید توانائی کے لیے انہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایل پی جی کی قیمت ریگولیٹڈ پائپ لائن گیس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ غریب دیہی اور نیم شہری خاندان لکڑی، فصلوں کی باقیات، گوبر یا کوئلہ جلانے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے بالخصوص خواتین اور بچوں کو گھروں کے اندر آلودہ ہوا کے مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ محض توانائی کی پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کا مسئلہ بھی ہے۔ گھر کا محلِ وقوع یہ طے کر سکتا ہے کہ وہ پائپ لائن گیس پر کھانا پکائے گا، اس کی کئی گنا قیمت پر ایل پی جی خریدے گا یا گندا ایندھن جلائے گا کیونکہ ایل پی جی بھی اس کی استطاعت سے باہر ہے۔ غریب ترین لوگ اکثر بدترین سہولت کی سب سے زیادہ حقیقی قیمت ادا کرتے ہیں۔
ایک سنجیدہ سماجی معاہدہ صاف ستھری کھانا پکانے کی توانائی کو انسانی وقار کا حصہ سمجھے گا۔ مقصد تمام گھرانوں، بشمول ان اکثریت کے جنہیں کبھی گیس کنکشن نہیں ملا، کے لیے سستی اور صاف توانائی تک رسائی یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
رہائش بھی یہی تقسیم ظاہر کرتی ہے۔ باقاعدہ شہری رہائش آبادی کے ایک بڑے حصے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے، جبکہ زمین اور جائیداد بدستور قیاس آرائی اور دولت جمع کرنے کے ذرائع بنی ہوئی ہیں۔ نتیجتاً غیر رسمی آبادیاں، گنجان رہائشی علاقے اور کچی بستیاں وجود میں آتی ہیں، اور پھر ہم انہی غریبوں کو ان میں رہنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
پاکستان حقیقی ترقی کے بجائے زمین کی ترقی کرنے والا ملک بنتا جا رہا ہے۔ شہری پھیلاؤ پلاٹوں، محفوظ رہائشی کالونیوں اور قیاس آرائی پر مبنی رئیل اسٹیٹ کے گرد منظم ہے، جس میں غریبوں کے لیے بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے اور ایسے منصوبہ بند تجارتی مراکز بھی بہت کم ہیں جہاں جدت، تجارت اور پیداواری سرگرمیاں پھل پھول سکیں۔ زمین مواقع کا پلیٹ فارم بننے کے بجائے دولت محفوظ رکھنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔
یہ عدم توازن مالیاتی شعبے میں بھی موجود ہے۔ دیہی پاکستان سے بڑے پیمانے پر بچتیں جمع کی جاتی ہیں، مگر ان کا صرف ایک معمولی حصہ قرضوں کی صورت میں واپس آتا ہے۔ اگر تقریباً 80 فیصد ڈپازٹس دیہی علاقوں سے جمع کیے جاتے ہیں لیکن ان علاقوں کو 10 فیصد سے بھی کم قرض واپس ملتا ہے تو بینکاری نظام بھی ایک ایسا ذریعہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے وسائل دیہات اور چھوٹے شہروں سے بڑے شہری مراکز کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ دیہی پاکستان سرمایہ فراہم کرتا ہے؛ شہری پاکستان اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
عوامی مقامات بھی یہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ کچرا، گندا پانی، ٹوٹی ہوئی فٹ پاتھیں، تجاوزات، گردوغبار، آلودہ آبی گزرگاہیں اور بے ہنگم تعمیرات اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ ہم میں سے بیشتر انہیں اب محسوس بھی نہیں کرتے۔ یہ محض خوب صورتی یا بدصورتی کا مسئلہ نہیں۔ عوامی مقامات کی حالت سماجی معاہدے کی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔
جب کسی کو یقین نہ ہو کہ سڑک، پارک، نالہ یا فٹ پاتھ سب کی مشترکہ ملکیت ہے تو ہر فرد کے لیے اسے اپنے مفاد میں استعمال کرنے یا نظرانداز کرنے کی ترغیب پیدا ہوتی ہے۔ دولت مند لوگ دیواروں کے پیچھے پناہ لے لیتے ہیں جبکہ مشترکہ عوامی جگہیں زوال پذیر ہوتی جاتی ہیں۔
ریاست کا بحران انصاف کے شعبے میں سب سے زیادہ سنگین ہے۔ ایک فعال معاشرے کے لیے صرف کاغذ پر موجود قوانین کافی نہیں؛ مؤثر نفاذ اور تنازعات کے فوری حل کا قابلِ اعتماد نظام بھی ضروری ہے۔ جب مقدمات برسوں چلیں تو انصاف ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہو جاتا ہے۔ تاخیر ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔ طاقتور لوگ وکلا، اثر و رسوخ اور وقت کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں، غریب نہیں کر سکتے۔
یہ تضاد خطرناک ہے: ایک ایسا عدالتی نظام جو اکثر بروقت انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے، دوسری طرف ایسے جبری اداروں کے ساتھ موجود ہے جنہیں وسیع صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ ملک میں انسدادِ دہشت گردی کے ادارے ایک اہم ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ لیکن عین اس وجہ سے کہ انہیں غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں، جواب دہی، قانونی طریقۂ کار اور بیرونی نگرانی ناگزیر ہیں۔
ریاست قانون کی پاسداری کا مطالبہ نہیں کر سکتی اگر اس کے اپنے ادارے بامعنی جواب دہی سے بالاتر دکھائی دیں۔ اس سے ریاست کی ساکھ اور عوامی قبولیت مجروح ہوتی ہے۔
یہی زوال سیاست اور انتظامیہ میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ پاکستان کے حکومتی نظام کا بہت بڑا حصہ رسائی کے گرد گھومتا ہے: صحیح سیاست دان، بیوروکریٹ، پولیس افسر، کاروباری شخصیت، صحافی یا واسطہ رکھنے والے شخص تک رسائی۔
خاندانی سیاست بھی اسی معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ عوامی عہدہ اکثر خاندانی وراثت، حلقۂ انتخاب نجی جاگیر اور جماعتی قیادت خاندانی حق سمجھ لی جاتی ہے۔ جب سیاست ہی یہ سبق دے کہ رسائی قابلیت سے حاصل کرنے کے بجائے وراثت میں ملتی ہے تو عوام کا یہ یقین مزید گہرا ہوتا ہے کہ ادارے شہریوں کی خدمت کے بجائے مراعات کے تحفظ کے لیے قائم ہیں۔
شہری ایک تباہ کن سبق سیکھتا ہے: ادارے تعمیر نہ کرو، تعلقات بناؤ۔ سیاست دان مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کاروباری افراد استثنیٰ چاہتے ہیں، افسران من پسند تعیناتیوں کے خواہش مند ہوتے ہیں، پیشہ ور افراد سرپرستی تلاش کرتے ہیں اور شہری کسی ایسے شخص کی تلاش میں رہتے ہیں جو ’’کسی کو جانتا ہو‘‘۔ میرٹ اس لیے تخریبی بن جاتا ہے کہ وہ صوابدید پر قائم نیٹ ورکس کے لیے خطرہ ہے۔
یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان مگر غلط ہوگا کہ پاکستانی فطری طور پر بدعنوانی کی طرف مائل ہیں۔ انہی پاکستانیوں کو بیرون ملک فعال ادارہ جاتی ماحول میں رکھیں تو ان میں سے بہت سے قوانین کی پابندی کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، عوامی مقامات کی حفاظت کرتے ہیں اور کامیاب کاروبار قائم کرتے ہیں۔ لوگ ترغیبات کے مطابق ردعمل دیتے ہیں۔ پاکستان نے کئی دہائیوں میں ایسی ترغیبات پیدا کی ہیں جو انتہائی خراب ہیں۔
اگر عمارت کے ضابطے کی خلاف ورزی سے منافع بخش پلازہ بنانا ممکن ہو جبکہ قانون کی پابندی سے تاخیر اور اخراجات بڑھیں تو خلاف ورزیاں بڑھیں گی۔ اگر ٹیکس چوری مسابقتی فائدہ فراہم کرے تو دیانت دار ٹیکس دہندگان سزا پائیں گے۔ اگر سیاسی وفاداری قابلیت سے زیادہ تیزی سے ترقی دلاتی ہو تو ادارے وفاداروں سے بھر جائیں گے۔ اگر تجاوزات کو بعد ازاں قانونی حیثیت دے دی جائے تو قانون پسندی غیرمعقول عمل بن جاتی ہے۔
یہیں سے پاکستان کا مسئلہ مزید گہرا ہوا ہے۔ بار بار کی جانے والی موافقت بالآخر ثقافت بن جاتی ہے۔ شارٹ کٹ کو ذہانت، اثر و رسوخ کو ’’سورس‘‘، ٹیکس چوری کو کاروباری ہوشیاری، تجاوزات کو کاروباری سرگرمی اور سرکاری املاک کو کسی کی ملکیت نہ ہونے کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہم نے ادارہ جاتی ناکامی کو قابلِ قبول ظاہر کرنے کے لیے ایک شاندار لغت تیار کر لی ہے۔
دریں اثنا، انسانی ترقی کے پیمانوں پر پاکستان ان ممالک کے مقابلے میں مسلسل خراب کارکردگی دکھا رہا ہے جنہوں نے اسی جیسے یا اس سے بھی کمزور معاشی حالات سے آغاز کیا تھا۔ یہ تقابل ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہونا چاہیے۔ قوموں کو آخرکار موٹرویز، جائیدادوں کی ترقی یا سرکاری جی ڈی پی سے نہیں پرکھا جاتا۔ ترقی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ انسانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
اصل پیمانے سادہ ہیں: کیا ایک بچہ مناسب غذا حاصل کر سکتا ہے، اچھے اسکول میں جا سکتا ہے، مالی تباہی کے بغیر علاج کرا سکتا ہے، پیداواری روزگار حاصل کر سکتا ہے، انصاف پا سکتا ہے، محفوظ سفر کر سکتا ہے، باعزت زندگی گزار سکتا ہے، صاف ہوا میں سانس لے سکتا ہے اور ایسے شہر میں چل پھر سکتا ہے جو کچرے میں نہ ڈوبا ہو۔
پاکستان اپنی ناکامیوں کا جواز ہمیشہ نوآبادیاتی دور، جغرافیائی سیاست، دہشت گردی، بھارت، آئی ایم ایف، غیرملکی سازشوں یا سابقہ حکومتوں کو قرار دے کر پیش نہیں کر سکتا۔ ان سب نے ملک کے سفر پر اثر ڈالا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی کئی دہائیوں پر محیط اندرونی فیصلوں سے بری نہیں کر سکتا۔
اس کے لیے پاکستان کے اشرافیہ کو وہ بات تسلیم کرنا ہوگی جس سے وہ کئی دہائیوں سے گریز کرتے رہے ہیں: قوانین ان پر بھی اسی طرح لاگو ہونے چاہئیں۔
پاکستان کو ایک زیادہ منصفانہ اور باصلاحیت ریاست کی ضرورت ہے؛ ایسی ریاست جو امیر اور غریب سب پر یکساں قوانین نافذ کرنے کے لیے کافی مضبوط ہو، مافیاز کو سہارا دینے کے بجائے ختم کرے، جائیداد کا تحفظ کرے مگر مراعات کا نہیں، مؤثر پولیسنگ کرے لیکن خود بھی قانون کے سامنے جواب دہ رہے۔
اور سب سے بڑھ کر ایسی ریاست جو یہ سمجھتی ہو کہ بچوں کو غذا اور تعلیم فراہم کرنا فلاحی اخراجات نہیں بلکہ قوم کی تعمیر ہے۔
ہم نے غذائی قلت، اسکولوں سے باہر بچوں، کچی بستیوں، کچرے، لامتناہی مقدمہ بازی، مراعات اور بدعنوانی کو معمول بنا لیا ہے۔ ہم نے یہاں تک کہ اس غیرمعمولی تصور کو بھی معمول سمجھ لیا ہے کہ کچھ پاکستانیوں کو قانون کی پابندی کرنا ہوگی جبکہ دوسرے اس سے گفت و شنید کر سکتے ہیں۔
ممالک شاذونادر ہی ایک ہی ڈرامائی لمحے میں تباہ ہوتے ہیں۔ زیادہ تر وہ بتدریج زوال پذیر ہوتے ہیں: سرکاری مالیات کمزور ہوتی ہیں، خدمات بگڑتی ہیں، گھرانے اس کی قیمت ادا کرتے ہیں اور ہر نسل اپنی توقعات کو مزید کم کرتی جاتی ہے۔
پہلے ٹوٹی ہوئی فٹ پاتھ ہمیں پریشان کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ پھر کچرا۔ پھر بغیر اساتذہ کے اسکول۔ پھر بغیر ادویات کے اسپتال۔ پھر رشوت۔ پھر ناانصافی۔ بالآخر بدانتظامی معمول کی زندگی بن جاتی ہے۔
ملک کے پاس بے پناہ نجی دولت، کاروباری صلاحیت، پیشہ ورانہ استعداد اور ادارہ جاتی تجربہ موجود ہے۔ جس چیز کی کمی ہے وہ ذہانت یا وسائل نہیں بلکہ اس بات پر اتنا مضبوط اتفاقِ رائے ہے کہ موجودہ نظام اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول اور معاشی طور پر ناقابلِ دوام ہے۔
ایک ایسا ملک معاشی طاقت بننے کی سنجیدہ بات نہیں کر سکتا جہاں 10 میں سے 4 بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہوں، لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہوں، انصاف تک رسائی مشکل ہو اور محفوظ و مراعات یافتہ خوشحالی غیر رسمی محرومی کے ساتھ ساتھ موجود ہو۔
ان تضادات کی قیمت ضرور چکانا پڑے گی۔ ایسے معاشرے سے، جسے مسلسل گرتے معیارِ زندگی، غیرمساوی قربانی اور کھلی چھوٹ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، ہمیشہ پُرسکون رہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایسا بارود ہے جو کسی چنگاری کا منتظر ہے۔
آسکر وائلڈ کے ناول ’’دی پکچر آف ڈورین گرے‘‘ میں انکار کی ایسی ہی کیفیت کو پیش کیا گیا ہے۔ ایک معاشرہ معمول کی ظاہری صورت برقرار رکھ سکتا ہے جبکہ اصل نقصان کہیں اور جمع ہوتا رہتا ہے—بھوک سے دوچار بچوں، تباہ حال اسکولوں، بگڑتی خدمات، قبضے میں لیے گئے اداروں اور سکڑتی امید کی صورت میں۔ لیکن حقیقت چھپانا اس سے فرار نہیں۔ بالآخر اس تصویر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور جب حقیقت کا ادراک ہوتا ہے تو وہ کسی بھاری بھرکم ضرب کی طرح آتا ہے۔
لہٰذا پاکستان کی سب سے اہم اصلاح کوئی نیا ٹیکس، ٹیرف، سبسڈی یا انتظامی ردوبدل نہیں۔ اصل ضرورت شہری اور ریاست کے درمیان باہمی معاہدے کی ازسرِنو تشکیل ہے۔
ایک قانون۔ ایک معیار۔ ایک شہریت۔
جب تک پاکستان اس منزل تک نہیں پہنچتا، معاشی بحران مختلف شکلوں میں بار بار واپس آتے رہیں گے اور ہر بار عام شہریوں کی زندگی مزید سکڑتی جائے گی۔ بیلنس شیٹ کا بحران محض ایک علامت ہے؛ اصل خطرہ وہ اثر ہے جو طویل زوال معاشرے پر مرتب کرتا ہے۔
رخ تبدیل کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ یہ اشرافیہ، اداروں، کاروباری اداروں، پیشہ ور افراد اور شہریوں سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کا مطالبہ کریں، اصلاحات کی حقیقی قیمت ادا کریں، جہاں مراعات اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچائیں وہاں انہیں مسترد کریں اور ایسی ریاست کی ازسرِنو تعمیر کریں جو شہریوں سے صرف وصولی نہ کرے بلکہ ان کی خدمت کرے۔ بصورتِ دیگر ہم ایک ایسے بحران کی جانب بڑھتے رہیں گے جو محض اعداد و شمار، بجٹ یا مذاکراتی کمروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سڑکوں تک پھیل جائے گا۔


Comments