ٹمبر ٹریڈرز کا چھال سمیت لکڑی کے لاگز درآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ
- متعدد بار یہ معاملہ اٹھایا، تاہم مسئلہ بدستور حل نہیں ہوسکا، ایسوسی ایشن
پاکستان کی اربوں روپے کی لکڑی کی صنعت کو لکڑی کی درآمد پر عائد ضوابطی پابندیوں کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا ہے جس پر لکڑی کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چھال سمیت لکڑی کے گولوں (لاگز) کی درآمد کی اجازت دی جائے، تاہم آمد پر ان کی فیومیگیشن اور محکمہ تحفظِ نباتات (ڈی پی پی) کی نگرانی میں چھال اتارنے کا عمل لازمی قرار دیا جائے۔
آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ٹی اے) کے مطابق شپمنٹ سے قبل لکڑی کی چھال اتارنا تجارتی معیار اور مالیت کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے کیونکہ چھال اتارنے سے نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے دوران لکڑی کے گولے نمی سے محروم ہونے، سطح پر دراڑیں پڑنے، پھٹنے، نیلاہٹ اور گہری رنگت بدلنے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین کے نام خط میں آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ٹی اے) نے کہا کہ لازمی فیومیگیشن اور شپمنٹ سے قبل لکڑی کی چھال اتارنے کا معاملہ امپورٹ پالیسی آرڈر (آئی پی او) 2022 کے نفاذ کے بعد سے حل طلب ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ لکڑی کی صنعت نے گزشتہ چار برس کے دوران متعدد بار خط و کتابت، اجلاسوں اور اسلام آباد کے دوروں کے ذریعے متعلقہ حکام سے یہ معاملہ اٹھایا، تاہم مسئلہ بدستور حل نہیں ہوسکا۔
اے پی ٹی ٹی اے نے تجویز دی کہ لکڑی کے گولوں کو چھال سمیت پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور آمد کے فوراً بعد مقررہ طریقہ کار کے مطابق ان کی فیومیگیشن کی جائے جس کے بعد محکمہ تحفظِ نباتات (ڈی پی پی) یا دیگر مجاز حکام کی نگرانی میں مخصوص مراکز پر کنٹرول شدہ طریقے سے چھال اتاری جائے۔ مقررہ ٹریٹمنٹ، معائنے اور چھال اتارنے کے مراحل مکمل ہونے کے بعد لکڑی کے گولوں کے لیے حتمی نباتاتی صحت سے متعلق کلیئرنس جاری کی جاسکتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا تجویز کردہ طریقہ کار موجودہ نباتاتی صحت کے حفاظتی اقدامات کو برقرار رکھے گا جن میں درآمدی اجازت نامہ، فائیٹو سینیٹری سرٹیفکیٹ (پی ایس سی)، مقررہ ٹریٹمنٹ، کنٹرول شدہ ڈیبَرکنگ اور حتمی کلیئرنس شامل ہیں۔ مجوزہ طریقہ کار نباتاتی صحت اور حیاتیاتی تحفظ سے متعلق تقاضے پورے کرنے کے ساتھ نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے دوران درآمدی لکڑی کے غیر ضروری معیار میں کمی کے خطرے کو بھی کم کرے گا۔


Comments