ٹیکس اسکیم مشکلات کا شکار
فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے تازہ ترین اعدادوشمار پاکستان کے مسلسل کم ٹیکس ادا کرنے والے ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ایک اور کوشش کی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے لیکن اب تک صرف دو ایسے تاجروں نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا انتخاب کیا ہے جو پہلے ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ نہیں تھے جبکہ مزید 315 شرکا پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ تھے۔
یہ اعدادوشمار ایک ایسی حکومت کے لیے بلاشبہ باعثِ شرمندگی ہیں جس نے تاجروں کے دیرینہ تحفظات دور کرنے کے لیے آسان ٹیکس نظام اور وسیع مراعات کی پیشکش کی تھی، تاہم اب تک کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مراعات کے ذریعے اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا ممکن نہیں ہوگا۔
یہ اعدادوشمار اس منصوبے کے بڑے پیمانے پر مقرر کیے گئے ہدف کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہیں۔ سالانہ 50 ارب روپے کی آمدن کے ہدف کے مقابلے میں اس اسکیم سے اب تک صرف تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل ہوئے ہیں یعنی فی شریک تاجر اوسطاً تقریباً 81,944 روپے۔ یہ حکومت کی اس توقع سے بہت دور ہے کہ اندازاً 35 لاکھ اہل تاجروں میں سے ایک بڑی تعداد اس اسکیم میں شامل ہوگی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس اسکیم نے پہلے سے غیر دستاویزی ریٹیل کاروبار کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے اپنے بنیادی مقصد میں تاحال معمولی پیش رفت کی ہے۔
اسکیم میں انتہائی کم شمولیت کے پیش نظر حکومت کا فوری ردِعمل یعنی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنا اور تاجروں کی رجسٹریشن میں مدد کے لیے مقامی ٹیکس بارز کو زیادہ فعال کرنا بھی ناکافی دکھائی دیتا ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اہل دکانداروں کو اسکیم کے بارے میں معلومات اور معاونت فراہم کی جائے لیکن کئی ماہ تک تشہیر کے بعد اسے محض آگاہی کا مسئلہ قرار دینا مشکل ہے۔ نہ ہی اس کم شمولیت کو مراعات کی کمی سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔
حکومت نے پہلے ہی اس اسکیم کو خاصا پرکشش بنا دیا تھا۔ سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی فروخت کرنے والے تاجروں کے لیے ایک صفحے پر مشتمل سادہ ٹیکس ریٹرن اور ٹرن اوور پر صرف ایک فیصد ٹیکس کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں ایف بی آر کی معمول کی کارروائی اور آڈٹ سے تحفظ، لازمی پوائنٹ آف سیل نظام اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی حیثیت سے رجسٹریشن کی شرائط سے بھی استثنیٰ حاصل تھا۔
لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکام مراعات اور قائل کرنے کی کوششوں کی حدود کو تسلیم کریں اور اس بنیادی حقیقت کا سامنا کریں کہ ایک ایسا شعبہ جس کا معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ خاصا زیادہ ہو، رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کرنے کے لیے زیادہ ترغیب نہیں رکھتا۔ کئی دہائیوں سے تاجروں کی مزاحمت نے ہڑتالوں، شٹر ڈاؤن اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اپنی احتجاجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ حکومتیں اکثر وسیع تر عوامی مفاد میں ایسی رکاوٹوں سے نمٹنے کے بجائے انہیں ٹالنے کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔
اس کا نتیجہ ایک ایسے گہرے غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی صورت میں نکلتا ہے جس میں پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر مالی بوجھ غیر متناسب طور پر زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مؤثر اور قابلِ اعتماد ٹیکس نفاذ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، تاہم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے لیے جو جرمانے تجویز کیے جارہے ہیں وہ شاید ہی کوئی مؤثر روک ثابت ہوں۔ پہلے ماہ 10 ہزار روپے، پھر 25 ہزار روپے اور اس کے بعد 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنا ایسے کاروبار کے لیے شاید ہی کوئی بڑا مالی بوجھ ہو جو ماہانہ لاکھوں روپے کی فروخت کررہا ہو۔ جرمانے کاروبار کے حجم کے تناسب سے ہونے چاہییں، خودکار طور پر عائد کیے جائیں اور حقیقتاً وصول بھی کیے جائیں؛ بصورتِ دیگر یہ خطرہ ہے کہ وہ بھی ایسی ہی ایک اور غیر مؤثر شق بن جائیں جو صرف کاغذوں تک محدود رہے اور کاروباری رویوں میں تبدیلی لانے میں کوئی خاص کردار ادا نہ کرے۔
حکومت کو رضاکارانہ گوشوارے جمع کرانے کے عمل سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے اعداد و شمار اور معلومات سے بھی استفادہ کرنا چاہیے جو تجارتی سرگرمیوں کی نشاندہی میں مدد دے سکیں جن میں بجلی بلوں اور جائیداد کے ریکارڈ سے لے کر بینکاری، درآمدات اور ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق ڈیٹا شامل ہے۔ ان معلومات کو خطرے کی بنیاد پر پروفائلز تیار کرنے اور مسلسل ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رجسٹریشن مہمات کے بعد منظم انداز میں تصدیق کا عمل بھی ہونا چاہیے جبکہ بار بار تعمیل سے انکار کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے۔
لیکن مؤثر ٹیکس نفاذ کے لیے سیاسی حمایت ضروری ہے۔ اگر جب بھی تاجر احتجاج یا کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کی دھمکی دیں تو مؤثر کارروائی کو نرم کردیا جائے تو کوئی بھی ٹیکس نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حکومت نے اس شعبے کو ٹیکس نظام میں شامل ہونے کے لیے غیر معمولی طور پر سہل راستہ فراہم کیا ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی خاطر خواہ شمولیت نہیں ہوتی تو اگلا قدم مزید کوئی رعایت نہیں ہونا چاہیے بلکہ مضبوط سیاسی عزم کے ساتھ ٹیکس قوانین کا سخت نفاذ ہونا چاہیے۔آسان ٹیکس اسکیم کو اب بھی مؤثر بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنی دی گئی مراعات کے ساتھ سخت ٹیکس نفاذ کو بھی یقینی بنائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments