BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے بنگلہ دیشی گارمنٹس کمپنی کا نیا لائحہ عمل

  • فیکٹریوں نے شپمنٹس میں تاخیر اور خریداروں کو رعایتی نرخوں پر آرڈرز دینے کی بھی اطلاع دی
شائع اپ ڈیٹ

بجلی و گیس بحران نے بنگلہ دیش کے بیشتر گارمنٹس مینوفیکچررز کی پیداوار متاثر کردی ہے تاہم والمارٹ، گیپ اور نیکسٹ کو مصنوعات فراہم کرنے والی کمپنی 4اے یارن ڈائنگ میں کم از کم فی الحال کارکن بلا تعطل ہوڈیز کی سلائی اور برانڈ کے لوگو لگانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

2019 سے 4اے یارن ڈائنگ اپنی بجلی خود پیدا کررہی ہے جس میں سولر پینلز سے حاصل ہونے والی بجلی بھی شامل ہے جس کے باعث یہ بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت میں ایک منفرد مثال ہے جو چین کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی برآمد کنندہ صنعت ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے اس ملک میں توانائی کی قلت مزید سنگین کردی ہے جہاں زیادہ تر بجلی قدرتی گیس، فرنس آئل اور ڈیزل سے پیدا کی جاتی ہے۔

حالیہ طور پر نٹ ویئر کی 134 فیکٹریوں کے سروے سے معلوم ہوا کہ 55 فیصد فیکٹریوں کو اگست کے اواخر سے گیس اور بجلی کی قلت کے باعث خریداروں کی جانب سے آرڈرز منسوخ یا کم کیے جانے کا سامنا کیا جبکہ 78 فیصد نے جزوی طور پر پیداوار روک دی تھی۔

فیکٹریوں نے شپمنٹس میں تاخیر اور خریداروں کو رعایتی نرخوں پر آرڈرز دینے کی بھی اطلاع دی۔

تاہم 4اے یارن ڈائنگ کو فی الحال ایسی صورتحال کا سامنا نہیں جس کی ڈھاکا کے مضافات میں واقع فیکٹری میں تقریباً 7,500 کارکن کام کرتے ہیں۔ یہ فیکٹری اپنی بجلی کی تقریباً 40 فیصد ضروریات سولر توانائی سے پوری کرتی ہے جبکہ باقی بجلی زیادہ تر اپنی گیس اور ڈیزل سے چلنے والے جنریٹرز کے ذریعے پیدا کرتی ہے۔

کمپنی کے شریک مالک عبداللہ ہل نقب نے کہا کہ ہم کبھی بھی توانائی کے کسی ایک ذرائع پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ ہمارے پاس ہر چیز کے لیے متبادل انتظام موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نہ کسی حد تک یقین دہانی درکار ہے لیکن کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ پہلے تیل کی قلت پیدا ہوئی، پھر گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ مہنگے ڈیزل کے باعث 4اے کی پیداواری لاگت میں 2 سے 3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کے ماہانہ ایندھن کے بل میں 5 ملین ٹکا (40,950 ڈالر) تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔

پیر کو فیکٹریوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا جب بنگلہ دیش نے ایندھن کی قیمتوں میں 17.4 فیصد تک اضافہ کردیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں اور فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث شپنگ اخراجات میں اضافے کے پیش نظر ضروری تھا۔

مستقبل میں پیداوار میں رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے 4اے ایک صنعتی پیمانے کا بیٹری سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو بجلی کے ذرائع میں خرابی کی صورت میں کئی گھنٹوں تک پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد دے گا۔ نقب نے کہا کہ ہم اضافی اخراجات برداشت کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن ہر فیکٹری کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ ان کی فیکٹری کی تقریباً تمام چھتیں سولر پینلز سے ڈھکی ہوئی ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں بھاری اضافہ، دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ

بنگلہ دیش کے وزیرِ بجلی نے گزشتہ ہفتے کہا کہ گیس کی درآمدی لاگت میں تیزی سے اضافے کے باعث ملک کی صنعتی ترقی کی رفتار سست ہورہی ہے، بجلی کی بندش میں اضافہ ہورہا ہے اور گیس پر زیادہ سبسڈی دینے کے باعث ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات بھی متاثر ہورہے ہیں۔

بنگلہ دیش کا ریڈی میڈ گارمنٹس شعبہ برآمدی آمدنی میں 80 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے، تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔

توانائی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث بعض مینوفیکچررز کو مقررہ مدت میں ترسیل یقینی بنانے کے لیے اشیا ہوائی جہاز کے ذریعے بھیجنے یا رعایت دینے کی صورت میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔

گارمنٹس کے برآمد کنندہ شاہداللہ عظیم نے کہا کہ ہمارے منافع کا مارجن پہلے ہی بہت کم ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے اس پر مزید دباؤ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسابقت برقرار رکھتے ہوئے پیداواری اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرنا ہمارے لیے دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے۔

عظیم نے بتایا کہ کینیڈا کے ایک خریدار سے 25 ہزار ملبوسات کا آرڈر ملنے کی توقع تھی، تاہم اس نے بالآخر صرف 8 ہزار ملبوسات کا آرڈر دیا۔ ان کے مطابق اس کی وجہ بنگلہ دیش کو درپیش معاشی اور توانائی مسائل کے باعث خریداروں کے اعتماد میں کمی ہے۔

ایچ اینڈ ایم سمیت مختلف برانڈز کو مصنوعات فراہم کرنے والی کمپنی ڈینم ایکسپرٹ لمیٹڈ کے ایڈیشنل منیجنگ ڈائریکٹر محی الدین روبیل نے کہا کہ کمپنیاں ایندھن کی زیادہ قیمت برداشت کرنے کے قابل ہوسکتی ہیں لیکن بعض کمپنیوں کے لیے گیس کی قلت اور بجلی کی بندش زیادہ تشویش کا باعث ہیں کیونکہ ویتنام اور بھارت جیسے مسابقتی ممالک میں یہ مسائل اتنے شدید نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیگر ممالک سے سورسنگ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں یا ان سے پیچھے رہ جاتے ہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس صورتحال سے کتنے مؤثر انداز میں نمٹتے ہیں۔

Comments

200 حروف