تمام الیکٹرک گاڑیاں یکساں نہیں، نئی آٹو پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت
- الیکٹرک گاڑیوں کی مختلف ٹیکنالوجیز کے حوالے سے پالیسی کے طریقہ کار میں زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے
پاکستان کی مجوزہ آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 مجموعی طور پر درست سمت کا تعین کرتی ہے: ٹرانسپورٹ کو برقی بنانا، ملک کے پٹرولیم درآمدی بل میں کمی لانا، زرمبادلہ کی بچت کرنا اور برآمدات پر مبنی آٹو موٹیو صنعت تشکیل دینا، یہ سب قابلِ قدر مقاصد ہیں۔
برآمدات، زیادہ مقامی ویلیو ایڈیشن، زیادہ مسابقت، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کی جانب مجوزہ منتقلی پاکستان کے آٹو موٹیو شعبے کے لیے ایک اہم ساختی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔
لیکن الیکٹرک گاڑیوں کی مختلف ٹیکنالوجیز کے حوالے سے پالیسی کے طریقہ کار میں زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے۔ بنیادی کمزوری یہ ہے کہ مراعات کے معاملے میں بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ای ایچ ویز) کو ایک دوسرے کے برابر سمجھا گیا ہے۔
موجودہ تجویز میں تینوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح یکساں طور پر 1 فیصد رکھنے کے ساتھ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ود ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، حالانکہ ان کی پروپلژن ٹیکنالوجی، بجلی پر چلنے کی صلاحیت اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی لانے کی استعداد میں نمایاں فرق ہے۔
تاہم اس کا حل یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مضبوط ترین مراعات صرف بی ای ویز تک محدود کر دی جائیں۔ پاکستان کی پالیسی کو بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو الیکٹرک پروپلژن ٹیکنالوجیز کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے، جبکہ پی ای ایچ ویز کو ایک علیحدہ عبوری زمرے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
بی ای وی مکمل طور پر برقی طاقت سے چلتی ہے۔ مناسب طور پر متعین کردہ آر ای ای وی بھی مکمل طور پر ایک الیکٹرک ٹریکشن موٹر کے ذریعے چلتی ہے، جبکہ اس کا اندرونی احتراقی انجن صرف گاڑی میں موجود جنریٹر کے طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے اور پہیوں کو براہِ راست میکانکی طاقت فراہم نہیں کرتا۔ اس طرح آر ای ای ویز برقی پروپلژن کے فوائد فراہم کر سکتی ہیں جبکہ پاکستان میں بی ای ویز کو ابتدائی طور پر اپنانے کی ایک بڑی رکاوٹ، یعنی محدود چارجنگ انفراسٹرکچر اور گاڑی کی رینج ختم ہونے کے خدشے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہیں۔
پی ای ایچ ویز مختلف ہیں۔ ان کا اندرونی احتراقی انجن بھی براہِ راست گاڑی چلانے میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس لیے انہیں خودکار طور پر بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کے برابر مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔ اس کے بجائے پی ای ایچ ویز کے لیے مراعات کو قابلِ پیمائش کارکردگی سے منسلک کیا جانا چاہیے، جس میں صرف بجلی پر چلنے کی رینج، بیٹری کی گنجائش، ایندھن کا استعمال، اخراج اور پٹرولیم کے استعمال میں ثابت شدہ کمی شامل ہو۔
اس سے مراعات کا ایک زیادہ منطقی ڈھانچہ تشکیل پائے گا، جس کے ذریعے ان ٹیکنالوجیز کو قبل از وقت خارج کیے بغیر پاکستان کی برقی منتقلی کو تیز کیا جا سکے گا جو اس منتقلی میں مدد دے سکتی ہیں۔ مقصد صرف بیٹری یا پلگ کی موجودگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی برق کاری اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کی سطح کو انعام دینا ہونا چاہیے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر کے چیلنج پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسودے میں چارجنگ اسٹیشنز پر درآمدی ڈیوٹی کم کرکے 1 فیصد کرنے اور بیٹری سوئپنگ انفراسٹرکچر کے لیے وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ مثبت اقدامات ہیں، لیکن انہیں ایک وسیع تر قومی چارجنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے جس میں شاہراہیں، شہر، کمرشل فلیٹس، رہائشی مقامات اور تیز رفتار چارجنگ کوریڈورز شامل ہوں۔ مناسب چارجنگ انفراسٹرکچر کے بغیر خالص الیکٹرک گاڑیوں کو صارفین کی جانب سے اپنانا محدود رہے گا۔
پالیسی کی فنانسنگ سے متعلق تجویز ایک اور خوش آئند قدم ہے۔ این ای وی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنا اور فنانسنگ کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنا گاڑیوں کی استطاعت میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے اور صارفین کی جانب سے انہیں اپنانے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔ اس طرح کی فنانسنگ سپورٹ حقیقی این ای وی ٹیکنالوجیز پر مرکوز رہنی چاہیے اور اسی طرح برق کاری کی سطح اور ماحولیاتی کارکردگی کے مطابق مختلف کی جا سکتی ہے۔
وسیع تر پالیسی فریم ورک میں بھی قابلِ قدر خصوصیات موجود ہیں۔ لازمی برآمدی ذمہ داریاں پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت کو تقریباً مکمل طور پر مقامی مارکیٹ پر انحصار کرنے کے رجحان سے دور لے جائیں گی۔ کاروں، جیپوں اور ایس یو ویز کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ برآمدات 2029-30 تک فیکٹری گیٹ پیداوار کی مالیت کے 12 فیصد تک بڑھائی جائیں، جبکہ اس کے بعد بھی اسی طرح کی شرائط برقرار رہیں گی۔ او ای ایمز اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے پالیسی میں 2026-31 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 4.59 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
برآمدات سے منسلک سپورٹ میکانزم کی تجویز بھی حوصلہ افزا ہے۔ اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو خالص ایف او بی برآمدی مالیت کا 10 فیصد دیا جا سکتا ہے، جبکہ برآمدی مالیت میں سالانہ کم از کم 5 فیصد اضافہ ہونے کی صورت میں مزید 5 فیصد دیا جائے گا۔ اس طرح کی سپورٹ کو حقیقی برآمدی آمدنی اور تھرڈ پارٹی آڈٹس سے منسلک کرنا ایک اہم حفاظتی اقدام ہے۔
تاہم، برآمدی مراعات میں بتدریج صرف برآمد کی جانے والی مصنوعات کے حجم کے بجائے اضافی برآمدات، زیادہ مقامی ویلیو ایڈیشن اور عالمی سپلائی چینز میں حقیقی انضمام کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر پاکستان کو اپنی آٹو موٹیو صنعت کو صرف اسمبلنگ پر مبنی صنعت سے ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے تو یہ امر انتہائی ضروری ہے۔
اسی لیے مجوزہ کم از کم مقامی ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے۔ روایتی گاڑیوں کے لیے 2030-31 تک 40 فیصد ایم ڈی وی اے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ این ای ویز کے لیے مجوزہ شرط ابتدائی طور پر 10 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہو جائے گی۔ این ای وی صنعت کو اپنے ابتدائی ترقیاتی مرحلے کے دوران معقول حد تک زیادہ لچک کی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم مقامی پیداوار کو بتدریج صرف آخری مرحلے کی اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر بیٹریوں، بیٹری مینجمنٹ سسٹمز، الیکٹرک موٹرز، پاور الیکٹرانکس، وائرنگ سسٹمز، تھرمل مینجمنٹ سسٹمز اور دیگر اسٹریٹجک پرزہ جات تک لے جانا چاہیے۔
مجوزہ ٹیرف میں معقولیت پیدا کرنا ایک اور بڑی ساختی اصلاح ہے۔ پالیسی میں ٹیرف میں نمایاں کمی، بالآخر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کے خاتمے اور زیادہ شفاف، قواعد پر مبنی طریقہ کار کے حق میں ایس آر او پر مبنی مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگر اسے مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو اس سے مسابقت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور مینوفیکچررز کو پیداواری صلاحیت، قیمتوں، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے معیار میں بہتری لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
تاہم مالیاتی اثرات این ای وی مراعات کو زیادہ بہتر انداز میں ہدف بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پالیسی میں ڈی ایل ٹی ایل اخراجات اور این ای وی سے متعلق ٹیکس مراعات کے مقابلے میں تقریباً 349.9 ارب روپے کی اضافی ایف ای ڈی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 21.1 ارب روپے کا مجموعی متوقع مالیاتی سرپلس بنتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سالانہ مالیاتی پوزیشن 2026-27 میں 46.8 ارب روپے کے سرپلس سے 2030-31 تک 44.1 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہونے کا تخمینہ ہے۔
اس لیے یہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ محدود مالی وسائل ان ٹیکنالوجیز کی جانب مختص کیے جائیں جو برق کاری، ایندھن کی بچت اور اخراج میں کمی کے قابلِ پیمائش فوائد فراہم کرتی ہیں۔
لہٰذا پاکستان کو ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار لیکن کارکردگی پر مبنی این ای وی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو الیکٹرک پروپلژن ٹیکنالوجیز کے طور پر مضبوط معاونت ملنی چاہیے، جبکہ پی ای ایچ ویز کو قابلِ پیمائش الیکٹرانک ڈرائیونگ کی صلاحیت، ایندھن کے متبادل استعمال اور اخراج سے متعلق کارکردگی کی بنیاد پر مراعات کے لیے اہل قرار دیا جانا چاہیے۔ روایتی نان پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو الگ زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔
پالیسی میں آر ای ای وی کی ایک واضح تکنیکی تعریف بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر ریگولیٹری اداروں کی جانب سے یکساں طریقے سے اس کی درجہ بندی کی جا سکے۔ درجہ بندی گاڑی میں موجود اندرونی احتراقی انجن کی محض موجودگی کے بجائے گاڑی کے حقیقی پروپلژن ڈھانچے کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
مجوزہ آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل، گاڑیوں کے زیادہ مضبوط معیارات، یو این ای سی ای کے معیارات کو اپنانا اور ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کا قیام بھی درست سمت میں اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات پاکستان کے پرزہ جات بنانے والے مینوفیکچررز کو بین الاقوامی سپلائی چینز میں ضم ہونے میں مدد دے سکتے ہیں اور ملک کو برآمدات پر مبنی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے وسیع تر مقصد کی حمایت کر سکتے ہیں۔
لہٰذا پاکستان کی آٹو موٹیو پالیسی کا مقصد قبل از وقت کسی ایک ٹیکنالوجی کا انتخاب کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد درست سمت کا انتخاب اور برقی کاری کی جانب قابلِ پیمائش پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔
بی ای ویز گاڑی کے ایگزاسٹ سے صفر اخراج کی جانب حتمی راستے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حقیقی آر ای ای ویز موجودہ انفراسٹرکچر اور رینج کی حدود سے نمٹتے ہوئے الیکٹرک پروپلژن فراہم کر سکتی ہیں۔ پی ای ایچ ویز عبوری ٹیکنالوجی کے طور پر کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے مراعات میں برق کاری اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کے لیے ان کے حقیقی کردار کی عکاسی ہونی چاہیے۔
اگر حکومت اس مختلف نوعیت کے حامل این ای وی فریم ورک کو برآمدی ذمہ داریوں، زیادہ مضبوط مقامی پیداوار، شفاف ٹیرف، چارجنگ انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کارکردگی پر مبنی مراعات کے ساتھ یکجا کرتی ہے تو آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 محض ایک صنعتی پالیسی سے بڑھ کر حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو ایک محفوظ اور محدود مقامی اسمبلنگ مارکیٹ سے مسابقتی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز آٹو موٹیو صنعت میں منتقلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔


Comments