BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.29 Decreased By ▼ -1.44 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.15 Decreased By ▼ -2.76 (-1.22%)
PRL 93.30 Increased By ▲ 0.28 (0.3%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.84 Increased By ▲ 0.04 (0.51%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
بی آر ریسرچ

بیرونی سرمای کاری میں تیزی، اصل امتحان باقی ہے

  • اگست میں ہونے والے اضافے کے باعث مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی خالص ایف ڈی آئی 49 کروڑ 45 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) نے اگست 2026 میں رفتار پکڑی، جس کے دوران خالص سرمایہ کاری کا حجم 31 کروڑ 59 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جو دو سال کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ یہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ اور جولائی کے مقابلے میں 77 فیصد زائد ہے، جس کی مدد زیادہ مضبوط آمد اور ماہ کے دوران کم اخراج سے ہوئی۔

اگست میں ہونے والے اضافے کے باعث مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی خالص ایف ڈی آئی 49 کروڑ 45 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 39 کروڑ 86 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر 24.1 فیصد زیادہ ہے۔

مجموعی سرمایہ کاری کی آمد سالانہ بنیاد پر 18.4 فیصد اضافے سے 70 کروڑ 59 لاکھ ڈالر ہوگئی، جبکہ سرمایہ کاری کا اخراج تقریباً 7 فیصد اضافے کے ساتھ 21 کروڑ 15 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ دوسرے الفاظ میں، اب تک بہتری بنیادی طور پر زیادہ سرمایہ آنے کی وجہ سے ہوئی ہے، نہ کہ کم سرمایہ باہر جانے کی وجہ سے۔

چین اگست 2026 اور مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ، دونوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ متحدہ عرب امارات بھی مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران ایک اہم سرمایہ کار رہا۔ کینیڈا بھی ماہ کے دوران سرمایہ کاری کا ایک نمایاں ذریعہ رہا۔

معمول کے بڑے سرمایہ کاروں سے ہٹ کر بھی کچھ بہتری دیکھنے میں آئی۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں برطانیہ سے خالص سرمایہ کاری تقریباً دگنی ہوگئی، جبکہ کویت کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر 63 فیصد بڑھ گئی۔ دوسری جانب ہانگ کانگ اور سوئٹزرلینڈ سے سرمایہ کاری میں کمی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی رجحان اب بھی یکساں نہیں ہے۔

شعبہ جاتی صورتحال بھی اسی طرح کی تصویر پیش کرتی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ کے دوران مالیاتی کاروبار نے سب سے زیادہ خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جو تقریباً 30 فیصد بڑھ گئی۔ اس کے بعد بجلی کا شعبہ رہا، اگرچہ اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی ہوئی۔

زیادہ نمایاں اضافہ تجارت اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں ہوا۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں تجارت کے شعبے میں خالص ایف ڈی آئی آٹھ گنا سے زیادہ بڑھ کر 8 کروڑ 94 لاکھ ڈالر ہوگئی، جبکہ الیکٹرانکس کے شعبے نے 4 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 27 گنا زیادہ ہے۔ ان اضافوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی بنیاد کو وسیع کرنے میں مدد دی۔

تاہم مجموعی صورتحال یکساں طور پر مضبوط نہیں ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں کان کنی اور کھدائی، مواصلات، اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں خالص سرمایہ کاری کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر خالص اخراج والے شعبوں سے مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں 9 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کا سرمایہ باہر گیا، جبکہ ایک سال قبل یہ رقم 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔

یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ ایف ڈی آئی کے تازہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں بہتری کے آثار بھی دیکھے جارہے ہیں۔ جہاں سرکاری شعبے کے اثاثوں میں غیر ملکی شمولیت بتدریج دوبارہ بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جسے پی آئی اے کے لین دین اور فیسکو کی نجکاری کے عمل میں دلچسپی سے مدد مل رہی ہے، وہیں اسے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی بحالی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

ایف ڈی آئی اب بھی چند ممالک اور شعبوں تک محدود ہے، جبکہ مجموعی حجم معیشت کے حجم کے مقابلے میں اب بھی معمولی ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں مختصر مدت کے لیے تیزی دیکھ چکا ہے؛ اصل چیلنج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ان اضافوں کو ایک مستقل سرمایہ کاری کے چکر میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

فی الحال سمت حوصلہ افزا ہے۔ اگست میں دو سال کی بلند ترین ماہانہ ایف ڈی آئی ریکارڈ ہوئی، مجموعی سرمایہ کاری کی آمد میں اضافہ ہوا اور کچھ نئے شعبے زیادہ مقدار میں غیر ملکی سرمایہ حاصل کررہے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ ایک وقتی اضافہ ثابت ہوگا یا اس رفتار کو برقرار رکھا جاسکے گا، اور آیا یہ سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ، برآمدات، ٹیکنالوجی اور معیشت کے دیگر پیداواری شعبوں تک بھی پھیل سکے گی۔

Comments

200 حروف