BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.29 Decreased By ▼ -1.44 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.15 Decreased By ▼ -2.76 (-1.22%)
PRL 93.30 Increased By ▲ 0.28 (0.3%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.84 Increased By ▲ 0.04 (0.51%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
اداریہ

بچوں کے تحفظ میں ریاستی ناکامی

  • پاکستان بھر میں بچوں کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے 1,914 واقعات کا رپورٹ ہونا محض ایک مرتبہ پھر تشویش اور مذمت کے اظہار سے کہیں زیادہ ردعمل کا متقاضی ہونا چاہیے
شائع اپ ڈیٹ

صرف 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان بھر میں بچوں کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے 1,914 واقعات کا رپورٹ ہونا محض ایک مرتبہ پھر تشویش اور مذمت کے اظہار سے کہیں زیادہ ردعمل کا متقاضی ہونا چاہیے۔ سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار بچوں کے تحفظ کے اس بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جسے اس کی سنگینی کے بار بار سامنے آنے کے باوجود بہت طویل عرصے سے برقرار رہنے دیا گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران روزانہ تقریباً چار واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کے تحفظ کو اپنی بنیادی ترین ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیتی ہے، اس کے لیے اپنے سب سے زیادہ کمزور شہریوں کے تحفظ میں مسلسل ناکامی کا دفاع ممکن نہیں۔

تفصیلات صورتِ حال کو مزید تشویش ناک بناتی ہیں۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 43 فیصد ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے، جبکہ تقریباً 45 فیصد واقعات بچوں کے گھروں کے اندر پیش آئے۔ رپورٹ شدہ واقعات میں 80 فیصد پنجاب سے سامنے آئے، جبکہ 57 فیصد واقعات شہری علاقوں اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔ اس طرح بدسلوکی ان حدود سے ماورا ہے جنہیں حکومتیں بعض اوقات سماجی مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرتے وقت سہولت کے لیے قائم کرتی ہیں۔ اور جب مبینہ بدسلوکی کرنے والا بچے کا جاننے والا ہو یا بدسلوکی گھر کے اندر ہو رہی ہو تو اس بارے میں روایتی تصورات کہ تحفظ کہاں سے شروع ہوتا ہے، خطرناک حد تک ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔

جب بھی انتہائی ہولناک نوعیت کے واقعات قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنے، تو شدید غم و غصے کی کوئی کمی نہیں رہی۔ حکومتیں کارروائی کا وعدہ کرتی ہیں، سیاست دان ملزمان کی مذمت کرتے ہیں، کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور بالآخر توجہ کسی دوسرے معاملے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ مسئلے کا برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی غم و غصہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی کے طور پر بری طرح ناکام رہا ہے۔ پاکستان کو ایسے فعال نظام کی ضرورت ہے جو کمزور بچوں کی نشاندہی کریں، شکایت درج کرانے کو محفوظ بنائیں، الزامات کی پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات کریں، پورے عمل کے دوران متاثرین کا تحفظ کریں اور ملزمان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کریں۔ یہ نظام ہر روز مؤثر انداز میں کام کرنے چاہئیں، اس وقت بھی جب ٹیلی ویژن کے کیمرے کسی اور طرف منتقل ہوچکے ہوں۔

پولیس کے پاس 89 فیصد مقدمات کا اندراج حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن یہ صرف ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ کتنی شکایات کے نتیجے میں قابل اور مؤثر تحقیقات ہوتی ہیں؟ کتنی جلدی مقدمات سماعت کے مرحلے تک پہنچتے ہیں؟ جہاں شواہد جرم ثابت کرتے ہیں، وہاں کتنے مقدمات میں استغاثہ سزا دلوانے میں کامیاب ہوتا ہے؟ متاثرین کو دھمکیوں اور مزید صدمے سے کتنے مؤثر طریقے سے محفوظ رکھا جاتا ہے؟ اور ایسے بچے کے لیے کیا معاونت دستیاب ہے جسے بدسلوکی کا شکار ہونے کے بعد پولیس اسٹیشنوں، طبی معائنے اور عدالتی کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے بغیر ایف آئی آر اس بات کی سرکاری تصدیق سے زیادہ کچھ نہیں بن سکتی کہ کوئی خوفناک واقعہ پیش آیا تھا۔

چنانچہ ذمہ داری ریاستی مشینری کے پورے ڈھانچے تک پھیلی ہوئی ہے۔ صوبائی حکومتوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ بچوں کے تحفظ کے اداروں کے پاس مناسب عملہ، فنڈز اور مؤثر رسائی موجود ہو۔ پولیس کو بچوں سے متاثرہ افراد کے ساتھ معاملہ کرنے اور شواہد محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی تربیت درکار ہے۔ استغاثہ کے اداروں کو ان مقدمات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں، جبکہ عدالتوں کو کارروائی کو اس قدر طویل ہونے سے روکنا چاہیے کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ اس عمل سے ہی تھک کر رہ جائیں۔ اسکولوں، صحت کے اداروں اور سماجی بہبود کے محکموں کو بھی قابلِ اعتماد رپورٹنگ اور متعلقہ اداروں تک متاثرین کی رسائی کے نظام کی ضرورت ہے۔ جہاں ادارے غفلت کے باعث ناکام ہوں، وہاں اس ناکامی کے بھی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔

خاندانوں اور معاشروں کا بھی اتنا ہی اہم کردار ہے، خصوصاً اس لیے کہ مبینہ طور پر بہت سے ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے ہوتے ہیں۔ تاہم والدین کی جانب سے زیادہ نگرانی کی اپیلیں ریاستی تحفظ کے کمزور نظام کا بہانہ نہیں بننی چاہئیں۔ بچوں میں اکثر بدسلوکی کی اطلاع دینے کی صلاحیت، اعتماد یا موقع موجود نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب ملزم ان پر اختیار رکھتا ہو۔ لہٰذا تحفظ کے نظام اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے وضع کیے جانے چاہئیں کہ ایک خوف زدہ اور کمزور بچہ کس صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے، نہ کہ اس ادارے کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو شکایت وصول کرتا ہے۔

پاکستان کئی برسوں سے بچوں سے بدسلوکی کے معاملے پر بحث کرتا آرہا ہے۔ صدمے، تشویش اور زیرو ٹالرنس کی اصطلاحات اب تک بہت اچھی طرح دہرائی جاچکی ہیں۔ لیکن جو چیز نمایاں طور پر کم متاثر کن ہے، وہ روک تھام، قانونی کارروائی، تحفظ اور انصاف کے حوالے سے ریکارڈ ہے۔

ملک کو قابلِ پیمائش نتائج کی ضرورت ہے: بدسلوکی کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد میں کمی، زیادہ متاثرین کا تحفظ، تیز تر تحقیقات، مؤثر قانونی کارروائی اور جہاں جرم ثابت ہو وہاں سزا۔ اس سے کم کوئی بھی نتیجہ بچوں کے تحفظ کو ریاست کے ایک اور وعدے میں تبدیل کردے گا، جسے ریاست ہر مرتبہ اس وقت یاد کرتی ہے جب تازہ ترین اعداد و شمار کو مزید نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف