بینکاری کا شعبہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں مضبوط اور مستحکم رہا، اسٹیٹ بینک
- جائزے کے مطابق اس عرصے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو طویل مدتی قرضوں میں اضافہ جاری رہا
پاکستان کے شعبہ بینکاری کی کارکردگی اور مضبوطی 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران برقرار رہی، جبکہ شعبے کی بیلنس شیٹ میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جاری کردہ رپورٹ میں یہ بات کہی۔
ایس بی پی کے بینکاری شعبے کی وسط سالہ کارکردگی کے جائزے کے مطابق بیلنس شیٹ میں توسیع بنیادی طور پر حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری بڑھنے کے باعث ہوئی، جبکہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں بینکوں کے قرضوں میں بھی اضافہ ہوا۔
اس عرصے کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے طویل مدتی فنانسنگ میں مسلسل اضافہ ہوا، جبکہ حکومت کی سبسڈی اسکیم کے باعث رہائشی قرضوں میں بھی مزید بہتری دیکھی گئی۔
فنڈنگ کے حوالے سے بینکوں نے 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 3.673 ٹریلین روپے کے اضافی ڈپازٹس حاصل کیے۔
مرکزی بینک نے کہا کہ اس عرصے میں کریڈٹ رسک نے مالیاتی استحکام کے لیے کوئی سنگین تشویش پیدا نہیں کی۔ مجموعی قرضوں میں نادہندہ قرضوں (این پی ایل) کا تناسب دسمبر 2025 کے 6.1 فیصد سے کم ہوکر جون 2026 میں 5.5 فیصد رہ گیا، جس کی بنیادی وجہ این پی ایل میں نمایاں کمی اور قرضوں میں اضافہ ہے۔
پروویژننگ کوریج ریشو بھی دسمبر 2025 کے 107.7 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 110.2 فیصد ہوگیا۔
تاہم بینکاری شعبے کی آمدنی میں اضافہ معتدل رہا۔ اثاثوں پر منافع (آر او اے) ایک سال قبل کے 1.3 فیصد سے کم ہوکر جون 2026 میں 1.1 فیصد جبکہ ایکویٹی پر منافع (آر او ای) 21.3 فیصد سے کم ہوکر 19 فیصد رہ گیا۔
بینکاری شعبے کی مالیاتی مضبوطی برقرار رہی اور 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران کیپیٹل ایڈیکوسی ریشو (سی اے آر) 19.6 فیصد رہا۔
ایس بی پی نے کہا کہ اس کے حالیہ میکرو اسٹریس ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق بینکاری شعبہ، بالخصوص نظام کے لیے اہم بڑے بینک، آئندہ دو سال کے متوقع عرصے میں مضبوط مالی حیثیت برقرار رکھنے اور شدید نوعیت کے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جائزے میں کہا گیا کہ 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران ایکویٹی مارکیٹ میں دباؤ بڑھا، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں ناموافق جغرافیائی سیاسی پیش رفت تھی، جبکہ زرمبادلہ اور منی مارکیٹ میں حالات نسبتاً پُرسکون رہے۔
حالیہ سسٹمک رسک سروے میں تیل سمیت اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا، جس کے بعد عالمی جغرافیائی سیاسی خطرات دوسرے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئے۔
ان خطرات کے باوجود سروے میں شامل افراد نے مالیاتی نظام کے استحکام اور مالیاتی استحکام یقینی بنانے کے لیے ریگولیٹرز کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔


Comments