کویت پٹرولیم کی خلیجِ ہرمز سے باہر خریداروں کو شپ ٹو شپ منتقلی کی پیشکش
- محفوظ تر ترسیل کے لیے کویت پٹرولیم کارپوریشن کی حکمتِ عملی میں تبدیلی، نیفتھا کی برآمدی ترسیل کا طریقہ بھی متاثر
کویت پٹرولیم کارپوریشن (کے پی سی ) اپنے خریداروں کو محفوظ تر ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز سے باہر ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل کی منتقلی کا اختیار دے رہی ہے۔
کے پی سی کے انٹرنیشنل مارکیٹنگ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عماد اے ایم الکنداری نے اے پی پی ای سی کانفرنس میں بتایا کہ حالات سازگار ہونے پر کچھ جہاز آبنائے ہرمز سے گزارے جا رہے ہیں، جبکہ خریداروں کو آبنائے سے باہر ایس ٹی ایس آپریشنز کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کن پٹرولیم مصنوعات کی ایس ٹی ایس بنیاد پر فروخت ہوئی۔
رائٹرز کے مطابق کے پی سی نے اگست اور ستمبر میں چند ٹینڈرز کے ذریعے نیفتھا کی ڈیلیورڈ بنیاد پر فروخت کی پیشکش کی۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض کارگوز جاپان کی قیمتوں کے مقابلے میں 60 ڈالر فی ٹن تک پریمیم پر فروخت ہوئے۔
کے پی سی عموماً نیفتھا فری آن بورڈ بنیاد پر پیش کرتی تھی، تاہم جنگ کے بعد جون میں پہلی بار برآمدی پیشکش بحال کی گئی۔
کپلر کے مطابق رواں سال کے پہلے دو ماہ میں کویت کی نیفتھا برآمدات اوسطاً 2 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جو اپریل میں صفر ہوگئیں۔ گزشتہ دو ماہ میں برآمدات جنگ سے قبل کی سطح کے نصف تک رہی ہیں۔


Comments