BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

پاک بحریہ: ہر دم تیار، ہمہ وقت بیدار

  • بحریہ کی طاقت اس کے جوانوں کے کردار، تربیت کے معیار اور فرض کی ادائیگی کے لیے ان کے عزم و حوصلے میں مضمر ہے
شائع اپ ڈیٹ

حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

یہ الفاظ طویل عرصے سے ان مرد و خواتین کے لیے قوت کا سرچشمہ ہیں جو پاکستان کے سمندری پانیوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ان کے لیے ایمان اور فرضِ منصبی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ سمندر میں ملک کی خدمت کے لیے درکار حوصلہ، نظم و ضبط اور عزم میں ایمان بھی شامل ہے۔

8 ستمبر ان بہادر بحری اہلکاروں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے پاکستان کا دفاع کیا اور اس کے مشکل ترین اوقات میں اس کے سمندری پانیوں کی حفاظت کے لیے فولادی دیوار بن کر کھڑے رہے۔

کسی بحریہ کی طاقت کا اندازہ صرف اس کے پاس موجود جنگی جہازوں کی تعداد سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی حقیقی طاقت اس کے اہلکاروں کے کردار، تربیت کے معیار اور فرض کی ادائیگی کے لیے ان کے حوصلے میں مضمر ہوتی ہے۔ ایک چھوٹی قوت بھی بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے، بشرطیکہ وہ نظم و ضبط کی پابند، پوری طرح تیار اور واضح مقصد پر متحد ہو۔ پاک بحریہ نے اپنی تاریخ میں اس حقیقت کو بارہا ثابت کیا ہے۔

6 ستمبر 1965 کی شب، پاکستان نیوی کے سات جنگی جہازوں پر مشتمل بیڑا بھارتی ساحلی شہر دوارکا کی جانب روانہ ہوا۔ اس ٹاسک گروپ میں پی این ایس بابر، پی این ایس خیبر، پی این ایس بدر، پی این ایس جہانگیر، پی این ایس عالمگیر، پی این ایس شاہ جہاں اور پی این ایس ٹیپو سلطان شامل تھے۔ ان کا مشن اہم ساحلی تنصیبات اور بھارتی فوجی کارروائیوں میں معاونت کرنے والے ایک ریڈار اسٹیشن کو نشانہ بنانا تھا۔

یہ بحری جہاز رات کی تاریکی میں آگے بڑھے، اپنے ساتھ ایک نئی قوم کی امیدیں اور اس کے وقار کے دفاع کی ذمہ داری لیے ہوئے۔ جب وہ اپنے ہدف کے قریب پہنچے تو ہر بحری اہلکار جانتا تھا کہ اس کارروائی کے لیے غیر معمولی حوصلے، درست نشانہ اور ایک دوسرے پر مکمل اعتماد درکار ہے۔ گولہ باری سے ریڈار اسٹیشن اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا، جبکہ اچانک کیے گئے اس حملے سے بھارتی ساحلی علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

آپریشن سومناتھ کے نام سے کی جانے والی یہ کارروائی ایک جرأت مندانہ کارنامہ تھی۔ پاک بحریہ کو عددی برتری حاصل نہیں تھی، لیکن اس کے اہلکاروں کے پاس اتنی ہی اہم تین چیزیں موجود تھیں: تیاری، نظم و ضبط اور عزم۔ اس مشن کی کامیابی محض تعداد یا عسکری طاقت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ محتاط منصوبہ بندی اور مشکل حالات میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے حوصلے کا ثمر تھی۔

جب یہ جہاز واپس لوٹے تو وہ اپنے ساتھ ایک کامیاب کارروائی کی یاد سے کہیں بڑھ کر کچھ لے کر آئے تھے۔ انہوں نے ثابت کردیا تھا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے والوں کا حوصلہ، نظم و ضبط اور عزم بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔

تاہم 1965 کے بعد سمندری جنگ کا منظرنامہ بہت تبدیل ہوچکا ہے۔ جدید بحری جنگ اب صرف توپوں، جنگی جہازوں اور آبدوزوں تک محدود نہیں رہی۔ آج بحری افواج کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، بغیر پائلٹ طیاروں، سائبر خطرات، سیٹلائٹ نگرانی، الیکٹرانک جنگ اور تیزی سے تبدیل ہوتے اطلاعاتی نظاموں سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔

پاک بحریہ مختلف مشقوں کے ذریعے اپنی اس تیاری کو برقرار رکھتی ہے، جن میں جنگی جہازوں، آبدوزوں، طیاروں، میرینز، اسپیشل فورسز اور بغیر پائلٹ نظاموں کو ایک ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ ان مشقوں کے ذریعے عملے کو اپنے سازوسامان کی جانچ، باہمی رابطے کو بہتر بنانے اور ایسے حالات سے نمٹنے کی تربیت ملتی ہے جن میں بیک وقت کئی خطرات سامنے آسکتے ہیں۔

تیاری کے اسی عزم کا مظاہرہ سی اسپارک 2026 کے ذریعے بھی ہوا، جو کراچی میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بحری مشق تھی۔ اس مشق میں پاک بحریہ کے جنگی جہازوں، آبدوزوں، طیاروں، بغیر پائلٹ نظاموں، میرینز اور اسپیشل فورسز نے حصہ لیا۔ مشق کے دوران تیزی سے تبدیل ہوتے سکیورٹی ماحول میں مختلف شعبوں کی مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو جانچا گیا، جس میں سمندر میں روایتی عسکری کارروائیوں کے ساتھ اطلاعاتی محاذ پر سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔

سی اسپارک 2026 محض عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں تھی بلکہ باہمی رابطے، بروقت فیصلوں اور ثابت قدمی کی بھی آزمائش تھی۔ ہر نقل و حرکت، رابطے اور ردعمل کا جائزہ لیا گیا تاکہ کمزوریوں کی نشاندہی اور کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ مشق نے ثابت کیا کہ جدید بحری طاقت صرف نئے جنگی پلیٹ فارمز سے نہیں بلکہ مسلسل تربیت اور ایک متحد قوت کی حیثیت سے ردعمل دینے کی صلاحیت سے بھی تشکیل پاتی ہے۔

آپریشنل تیاری کا مطلب کشیدگی کے اوقات میں پاکستان کے بحری مفادات کا تحفظ بھی ہے۔ ملک کی تجارت، توانائی کی فراہمی اور مواصلاتی روابط کا انحصار بڑی حد تک سمندر پر ہے۔ چنانچہ بحری راستوں کو کھلا اور بندرگاہوں کو محفوظ رکھنا قومی اہمیت کی ذمہ داری ہے۔ پاک بحریہ صرف ساحلی پٹی ہی کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ ان معاشی شہ رگوں کی بھی نگہبانی کرتی ہے جو پاکستان کو دنیا سے جوڑتی ہیں۔

معرکۂ حق کے دوران دنیا نے ان صلاحیتوں کی مکمل جھلک دیکھی۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے دوران پاک بحریہ نے بیک وقت ہر محاذ پر ملک کے سمندری پانیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ آبدوزیں سطحِ آب کے نیچے اپنی پوزیشنوں پر موجود رہیں اور کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار تھیں، جبکہ تیز رفتار حملہ آور کشتیوں اور سطحِ آب پر موجود جنگی جہازوں نے بحیرۂ عرب میں مسلسل موجودگی برقرار رکھی۔ بحری نگرانی کرنے والے طیاروں نے ساحلی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے مسلسل پروازیں کیں اور حساس علاقوں میں بھی دشمن کو کسی قسم کی پیش قدمی کا موقع نہیں دیا گیا۔

بھارت کے اپنے بحری اثاثے، کئی برسوں کی توسیع کے باوجود، پاکستانی پانیوں سے دور رہے اور ایسی ساحلی پٹی کو آزمانے سے قاصر رہے جو پہلے ہی مکمل طور پر محفوظ بنائی جاچکی تھی۔ اس پورے عرصے کے دوران پاکستان کی بندرگاہیں بلا تعطل فعال رہیں اور سمندر پر منحصر تمام تجارتی راستوں پر آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہی۔ معرکۂ حق حقیقی وقت میں آپریشنل تیاری کے عملی مظاہرے کا نام تھا؛ وہی نظم و ضبط جس نے 1965 میں جہازوں کو دوارکا کی جانب بڑھایا تھا، اب ایسے میدانِ جنگ میں بروئے کار آیا جس میں جہازوں اور آبدوزوں کے ساتھ ڈرونز، سیٹلائٹس اور اطلاعاتی محاذ بھی شامل ہیں۔

ایک مضبوط بحریہ کا وجود صرف جنگیں لڑنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ امن کے قیام میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔ کثیر ملکی مشقوں اور بحری تعاون کے ذریعے پاک بحریہ اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر قزاقی، دہشت گردی، اسمگلنگ اور تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کام کرتی ہے۔

پاک بحریہ کے جنگی جہاز پاکستان کے ساحل سے دور بین الاقوامی بحری سلامتی اور انسدادِ قزاقی کی گشت میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔ یہ مشن ان بحری راستوں کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں جن سے عالمی تجارت گزرتی ہے۔ اگرچہ انہیں ہمیشہ عوامی سطح پر نمایاں توجہ نہیں ملتی، تاہم یہ پاکستان کے اپنی علاقائی سمندری حدود سے باہر بھی امن اور استحکام کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

جب بھی قوم پکارتی ہے، پاک بحریہ ہمیشہ لبیک کہتی ہے، خواہ معاملہ قدرتی آفات کا ہو یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ہنگامی صورتِ حال کا۔ جب طوفان، سیلاب یا دیگر بحران ساحلی آبادیوں کو متاثر کرتے ہیں تو پاک بحریہ ہر ممکن طریقے سے امداد پہنچانے کے لیے سرگرم ہوجاتی ہے۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں کے لیے بھی وہی اوصاف درکار ہوتے ہیں جو فوجی خدمت کا تقاضا ہیں: نظم و ضبط، حوصلہ اور دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت۔ ایک جنگی جہاز ہتھیار لے جاسکتا ہے تو امدادی سامان بھی پہنچا سکتا ہے۔ نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا ہیلی کاپٹر پھنسے ہوئے خاندانوں کی تلاش کے لیے بھی کام آسکتا ہے۔ ملک کے دفاع کی تربیت پانے والا بحری اہلکار اپنے ہم وطنوں کی جان خطرے میں دیکھ کر امدادی کارکن کا کردار بھی ادا کرسکتا ہے۔

یہ پاک بحریہ کا انسانی چہرہ ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف جنگ کے لمحات تک محدود نہیں بلکہ جب بھی پاکستان کو مدد کے ہاتھ کی ضرورت ہو، یہ خدمت جاری رہتی ہے۔

ہر سال 8 ستمبر کو قوم ان بحری اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جو رات کی تاریکی میں دوارکا کی جانب روانہ ہوئے اور ایسی کارروائی مکمل کی جو جرأت کی علامت بن گئی۔ قوم ان شہدا اور سابق اہلکاروں کو بھی سلام پیش کرتی ہے جن کی قربانیوں نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا۔ ساتھ ہی آج ملک کی سمندری حدود کی حفاظت پر مامور ان مرد و خواتین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے جو اکثر اپنے خاندانوں سے دور اور عوام کی نظروں سے اوجھل رہ کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

سمندر کبھی نہیں سوتا۔ وہ تاریکی، طوفانوں اور ایسے لمحات میں قوم کو آزماتا ہے جب کوئی اسے دیکھ بھی نہیں رہا ہوتا۔ لیکن جہاں بھی سمندر میں پاکستان کا پرچم لہراتا ہے، وہاں اس کے بحری اہلکار ایک ہی عہد اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں: مادرِ وطن کا جرأت کے ساتھ دفاع کرنا، اس کے عوام کی عزت و وقار کے ساتھ خدمت کرنا اور ہر چیلنج کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا۔

جہاز بدل سکتے ہیں، ٹیکنالوجی ترقی کرسکتی ہے اور خطرات نئی شکلیں اختیار کرسکتے ہیں، لیکن جذبہ غیر متزلزل رہتا ہے۔ پاک بحریہ دل میں ایمان، عمل میں حوصلہ اور وجود میں وطن سے محبت لیے ملک کی حفاظت پر مامور ہے۔

Comments

200 حروف