کپاس کے مستقبل کی سائنسی بنیادوں پر ازسرِنو تشکیل
- ٹیکسٹائل اسپننگ ملز کے لیے صرف لمبائی کے بجائے فائبر کی یکسانیت زیادہ اہم، جو دھاگے کی ٹوٹ پھوٹ روک کر تجارتی منافع بڑھاتی ہے
جب کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ خانپور نے 6 اگست 2026 کو اپنی اہم بین الاقوامی ویب کانفرنس کا انعقاد کیا تو اس میں دنیا بھر سے کپاس کے محققین اور زرعی ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مرکزی مقرر ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری تھے، جو انٹرنیشنل کاٹن ریسرچرز ایسوسی ایشن کے بانی اور واشنگٹن ڈی سی میں انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی میں ٹیکنیکل انفارمیشن کے سابق سربراہ ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر معروف سائنس دان ڈاکٹر چوہدری کپاس کے موضوع پر متعدد اہم کتابوں، ابواب اور 200 سے زائد اعلیٰ معیار کی سائنسی تحقیقی تحریروں کے مصنف اور مدیر رہ چکے ہیں۔ انہیں بڑے احترام سے کپاس کے شعبے کا ایک ادارہ اور حقیقی معنوں میں ’’فادر آف کاٹن‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔
ایک گھنٹے پر مشتمل اپنی تفصیلی گفتگو میں ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری نے دنیا بھر میں اپنے طویل تجربے کی روشنی میں کپاس کی پیداوار سے متعلق ایک واضح سائنسی فریم ورک پیش کیا۔ انہوں نے ان زرعی، جینیاتی اور پروسیسنگ سے متعلق پیچیدہ مسائل پر روشنی ڈالی جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں طویل عرصے سے کپاس کی پیداوار میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
پیداوار ایک مرکب خصوصیت اور ہدفی افزائشِ نسل کی طرف منتقلی
ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری کے بنیادی مؤقف میں سے ایک یہ ہے کہ کپاس کی پیداوار کو روایتی افزائشِ نسل کے پروگراموں میں درست طور پر نہیں سمجھا گیا۔ پیداوار کسی ایک جین کی خصوصیت نہیں ہے اور نہ ہی اسے صرف ایک پودے پر بننے والی پھلیوں کی تعداد یا بڑی پھلیوں کے انتخاب سے جانچا جا سکتا ہے۔ کپاس کی پیداوار مختلف خصوصیات کے باہمی پیچیدہ تعلق کا نتیجہ ہے، جن میں پھلیوں کی کثافت، پھلی کا وزن، روئی کا تناسب، بیج کا وزن اور فائبر کی خصوصیات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روایتی طریقے سے کراسنگ اور تجرباتی بنیاد پر انتخاب اب ایک ارتقائی رکاوٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ کپاس کی جینیاتی ترقی کا مستقبل ’’ڈائریکٹڈ بریڈنگ‘‘ میں ہے۔
یہ ایک چار مرحلوں پر مشتمل حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا عمل ہے، جس میں سائنس دان پہلے مطلوبہ ظاہری خصوصیت کی نشاندہی کرتے ہیں، پھر اس خصوصیت کے ذمہ دار مخصوص جینز کی شناخت کرتے ہیں، اس کے بعد مطلوبہ جینیاتی امتزاج تیار کرتے اور آخر میں مطلوبہ جینیاتی خصوصیات رکھنے والی اقسام براہِ راست تیار کرتے ہیں۔
اس طریقے سے کپاس کی افزائشِ نسل تجربہ اور غلطی کی روایتی روش سے نکل کر ایک پیش گوئی پر مبنی سائنسی اور انجینئرنگ کے عمل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
جینیاتی علیحدگی کی رکاوٹ اور ہائبرڈ کپاس کا مفروضہ
ہائبرڈ کپاس کے بارے میں جاری بحث پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری نے پاکستان کے لیے شواہد اور تحقیق کی بنیاد پر ایک اہم حقیقت واضح کی۔ دنیا بھر کی پیداواری معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس مفروضے کو چیلنج کیا کہ F1 ہائبرڈ اقسام لازماً زیادہ تجارتی پیداوار دیتی ہیں۔ ہائبرڈ نظام میں بیج کی افزائش کے لیے A لائن، B لائن، ریسٹورر لائن اور زرخیزی بڑھانے والی لائنوں سمیت ایک پیچیدہ طریقہ کار درکار ہوتا ہے، تاہم تجارتی کھیتوں کے حالات میں F1 ہائبرڈ اقسام نے اعلیٰ معیار کی معیاری اقسام کے مقابلے میں مسلسل زیادہ پیداوار ثابت نہیں کی۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری نے ایکسٹرا لانگ اسٹپل یعنی انتہائی لمبے فائبر والی کپاس کی افزائشِ نسل میں موجود دیرینہ سائنسی رکاوٹ کی وضاحت کی۔ جب ماہرین Gossypium barbadense، جو بہترین لمبے فائبر کے لیے مشہور ہے، کو Gossypium hirsutum کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں، جو زیادہ پیداوار اور مختلف ماحول میں بہتر موافقت رکھتی ہے تو جینیاتی علیحدگی کی انتہائی شدید کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ لمبے فائبر اور زیادہ پیداوار رکھنے والی درمیانی جینیاتی قسم میں مستحکم ہونے کے بجائے نئی نسلوں کی خصوصیات تیزی سے دوبارہ یا تو hirsutum یا barbadense والدین کی خصوصیات کی طرف تقسیم ہو جاتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری نے زور دیا کہ ٹیکسٹائل اسپننگ ملیں صرف فائبر کی لمبائی کی بنیاد پر کپاس کا انتخاب نہیں کرتیں۔ جدید تیز رفتار اسپننگ مشینری سب سے زیادہ فائبر کی یکسانیت کو ترجیح دیتی ہے۔ فائبر کی یکساں تقسیم سے دھاگے کے ٹوٹنے اور پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والی تبدیلیوں میں کمی آتی ہے، جس کی وجہ سے اسپنرز کے لیے صرف فائبر کی لمبائی کے مقابلے میں یکسانیت زیادہ تجارتی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
کیڑوں کے تدارک پر نظرِثانی : شامی ماڈل
ایک اور پرانے تصور کو چیلنج کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری نے اس خیال کو مسترد کیا کہ کپاس کی زیادہ پیداوار کے لیے بڑی مقدار میں کیمیائی کیڑے مار ادویات کا استعمال ضروری ہے۔ دنیا بھر میں کیڑے مار ادویات کی فروخت کی مجموعی مالیت میں کپاس کا حصہ صرف تقریباً 3.9 فیصد ہے، تاہم 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں حکومتی سبسڈی نے کسانوں کو مصنوعی طور پر کیڑے مار ادویات پر انحصار کرنے پر مجبور کیا۔
یہ ثابت کرنے کے لیے کہ شدید کیمیائی استعمال کے بغیر بھی پائیدار اور زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، انہوں نے 1990 کی دہائی کے آخر میں شام کے پیداواری ماڈل کی مثال دی۔ شامی کسانوں نے 2 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر رقبے پر فی ہیکٹر 1,200 کلوگرام سے زیادہ روئی کی شاندار اوسط قومی پیداوار حاصل کی، جبکہ ایک سیزن میں اوسطاً صفر سے ایک مرتبہ کیڑے مار دوا کا اسپرے کیا جاتا تھا۔
یہ اس بات کا عالمی ثبوت ہے کہ مربوط پیداواری نظام، حیاتیاتی طریقوں سے کیڑوں کا کنٹرول اور پودوں کی مضبوط قدرتی مزاحمت کے ذریعے وسیع پیمانے پر کیمیائی ادویات پر انحصار کیے بغیر بھی عالمی معیار کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
جننگ : ویلیو چین کا نظرانداز شدہ اہم حصہ
ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری نے جننگ کو کپاس کی ویلیو چین کا ان حصوں میں سے ایک قرار دیا جس پر تحقیق سب سے کم ہوئی ہے اور جسے انتہائی نظرانداز کیا گیا ہے۔ روایتی سا جننگ میں مشینی طور پر کپاس کو پیٹنے اور کھینچنے کا عمل شامل ہوتا ہے، جس سے اکثر فائبر کے معیار کو نقصان پہنچتا ہے، چھوٹے فائبر کی شرح بڑھ جاتی اور نیپس کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگرچہ فائبر کی لمبائی کو محفوظ رکھنے کے لیے پہلے لمبے فائبر کو الگ کرنے، ہوا کے بہاؤ اور گھومتے ہوئے پنجروں کے ذریعے جننگ اور Templeton Ginning جیسے تجرباتی طریقے تیار کیے گئے، لیکن زیادہ لاگت اور مشینی کارکردگی سے متعلق مسائل کے باعث ان میں سے کوئی بھی تجارتی سطح پر کامیاب نہ ہو سکا۔
جننگ ٹیکنالوجی کو جدید بنانا اب بھی تحقیق کا اک اہم اور کھلا میدان ہے، جس کے ذریعے کپاس کے قدرتی فائبر کے معیار کو فوری طور پر بہتر طور پر محفوظ کیا جا سکتا ہے اور جننگ فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملوں کے لیے ضائع ہونے والی معاشی قدر کو دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بیج کے معیار کا تحفظ اور آگے بڑھنے کا راستہ
آخر میں ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری نے زور دیا کہ بہترین جینیاتی انجینئرنگ بھی ایک مکمل اور مؤثر بیج کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کے بغیر بے فائدہ ہے۔ چاہے نجی بیج کا نظام استعمال کیا جائے، جیسا کہ امریکا میں رائج ہے، کاشتکاروں کی ملکیت والا نظام، جیسا کہ آسٹریلیا میں ہے، یا سرکاری سرٹیفکیشن کا نظام، جیسا کہ مصر میں رائج ہے، جینیاتی خالص پن اور قسم کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے ماہرینِ افزائشِ نسل اور بیج کی افزائش کرنے والے اداروں کے درمیان مکمل اور مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری کی گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی پیش کردہ ہر بات مضبوط سائنسی تحقیق اور معاشی حقائق کی بنیاد پر عملی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔ ان کے 40 سالہ عالمی تجربے کو منفرد بنانے والی چیز واضح سوچ اور سائنسی اعتماد ہے۔ زرعی پالیسی میں ابہام کی کوئی گنجائش نہیں؛ کوئی حکمتِ عملی یا تو تجارتی اور عملی حالات میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔
ان کے شواہد پر مبنی واضح نتائج ہمارے تحقیقی اداروں کو ایک واضح سمت فراہم کرتے ہیں جسے بلا جھجھک اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں کپاس کی فصل کی حقیقی اور دیرپا بحالی کے لیے پالیسی سازوں، کپاس کے سائنس دانوں اور زرعی اداروں کو ڈاکٹر محمد رفیق چوہدری کے زندگی بھر کے تجربے کو ملکی کپاس کی معیشت کی بحالی کے لیے ایک جامع رہنما اصول کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments