نیپال، تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ کے 9 روز بعد ہائیڈرو پاور ٹنل سے 2 افراد زندہ نکال لیے گئے
- بالائی ٹریشولی دریا کے علاقے میں گلیشیئر کے منہدم ہونے سے دریا کے ساتھ 6 پن بجلی منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کم از کم 900 افراد پھنس گئے تھے، حکام
نیپال میں ٹریشولی دریا پر واقع ایک پن بجلی منصوبے سے منسلک سرنگ سے جمعہ کو 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا، جو 26 اگست کو برف، چٹانوں اور کیچڑ کے تودے گرنے کے 9 روز بعد ممکن ہوا ہے۔ اس تباہی میں نیپال میں کم از کم 1,252 افراد ہلاک جبکہ 4,200 سے زائد لاپتا ہیں۔
حکام کے مطابق بالائی ٹریشولی دریا کے علاقے میں گلیشیئر کے منہدم ہونے سے دریا کے ساتھ 6 پن بجلی منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کم از کم 900 افراد پھنس گئے تھے۔ چین کے زیر انتظام تبت میں بھی 21 ہلاکتوں اور 541 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔
ریسکیو اہلکاروں نے اپر ٹریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی سرنگ سے مکینیکل فورمین سنجے سہ اور مکینیکل سپروائزر کبیر مہاراجن کو نکالا۔ یہ ان منصوبوں سے زندہ نکالے جانے والے پہلے افراد ہیں۔
حکام کے مطابق سنجے سہ کی حالت تشویشناک نہیں جبکہ کبیر مہاراجن اپنے ہاتھ اور ٹانگیں حرکت نہیں دے پا رہے۔ دونوں کو مزید علاج کے لیے کھٹمنڈو کے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
ریسکیو کارروائی میں ماہرین کی ایک ٹیم واٹس ایپ گروپ کے ذریعے امدادی کارکنوں کی رہنمائی کر رہی ہے، جبکہ ہیلی کاپٹروں اور بھاری مشینری سے بھی لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔


Comments