BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.29 Decreased By ▼ -1.44 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.15 Decreased By ▼ -2.76 (-1.22%)
PRL 93.30 Increased By ▲ 0.28 (0.3%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.84 Increased By ▲ 0.04 (0.51%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
رائے

پاکستان کو حکمرانی کرنے والے صوبوں نہیں، ترقی کرنے والے شہروں کی ضرورت

  • مزید صوبے زیادہ دارالحکومت اور زیادہ بیوروکریسی تو پیدا کرسکتے ہیں، لیکن بااختیار اور خودمختار مسابقتی شہر سرمایہ کاری، پیداواریت اور معاشی ترقی پیدا کریں گے، پاکستان کو صوبائی انتظامیہ کی ایک اور سطح کی ضرورت نہیں، اسے میئر کی قیادت میں چلنے والی معیشت کی ضرورت ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی بحث ہی غلط بنیاد سے شروع ہوتی ہے۔ ہم مسلسل یہ سوال کرتے ہیں کہ ملک میں کتنے صوبے ہونے چاہییں، جبکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کے ان شہروں کو جہاں لوگ، کاروبار، سرمایہ اور خیالات حقیقتاً ایک دوسرے سے جڑتے ہیں، اپنے معاملات خود چلانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟

نئے صوبوں کا مطالبہ قابلِ فہم ہے۔ موجودہ صوبے وسیع، مرکزی نظام کے حامل اور غیر مساوی ہیں، جبکہ صوبائی دارالحکومت اکثر وسائل پر حاوی رہتے ہیں اور دیگر شہروں کے پاس مقامی معاملات پر بھی بہت کم اختیار ہوتا ہے۔

لیکن نئے صوبے لازماً اس صورتِ حال کو تبدیل نہیں کریں گے، ممکن ہے کہ وہ اسی مرکزیت کو صرف ایک چھوٹے نقشے پر دوبارہ قائم کر دیں۔ہر نئے صوبے کے ساتھ ایک اور گورنر، وزیراعلیٰ، اسمبلی، سیکریٹریٹ اور بیوروکریسی کا اضافہ ہوگا۔ اس کا مطلب بہتر طرزِ حکمرانی کے بجائے مزید حکومت بھی ہوسکتا ہے۔

حقیقی اصلاح اس سے کہیں بنیادی ہے: ایسے بااختیار، خودمختار، پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے اور جمہوری طور پر جواب دہ شہری حکومتوں کا قیام جو اپنے فیصلے خود کرسکیں۔

یہ معاملہ صرف بلدیاتی خدمات تک محدود نہیں بلکہ معاشی ترقی سے متعلق ہے۔ شہر وہ مقامات ہیں جہاں کاروبار قائم ہوتے، کارکن اپنی صلاحیتیں نکھارتے اور جامعات، سرمایہ کار، سپلائرز اور منڈیاں ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔ پیداوار کا انحصار اسی قربت اور باہمی روابط پر ہوتا ہے۔

اس کے باوجود پاکستان اب بھی شہروں کو معاشی نظام کے بجائے محض انتظامی اکائیوں کے طور پر دیکھتا ہے۔

بین الاقوامی تجربہ اس خلا کو مزید واضح کرتا ہے۔ کیو جن چین کے ماڈل کو سیاسی مرکزیت، معاشی عدم مرکزیت قرار دیتی ہیں۔ بیجنگ نے قومی سمت اور ترجیحات طے کیں، جبکہ مقامی حکومتوں نے سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کو عملی شکل دی۔

اس میئرل اکانومی میں مقامی عہدیدار سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کرتے، زمین کا بندوبست کرتے، صنعتی مراکز قائم کرتے اور اپنے علاقوں کو وسیع تر منڈیوں سے جوڑتے تھے۔

یون یوئن اینگ اسے ہدایت یافتہ اختراع قرار دیتی ہیں، یعنی وسیع قومی اہداف کے اندر رہتے ہوئے تجربات، ان سے حاصل ہونے والی معلومات اور ضروری اصلاح کا عمل۔

اس ماڈل میں سنگین خامیاں بھی تھیں، جن میں زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری، مقامی قرضوں میں اضافہ اور غیر ضروری بنیادی ڈھانچے پر اخراجات شامل ہیں۔ تاہم اس کا بنیادی سبق آج بھی اہم ہے: مقامی حکومتوں کو ترقی کے لیے اختیار اور ترغیبات دونوں درکار ہوتی ہیں۔

ایسا میئر جو زمین کے استعمال، ٹرانسپورٹ، بنیادی ڈھانچے، تعمیراتی منظوریوں، مقامی ٹیکسوں یا بلدیاتی انتظامیہ پر اختیار نہ رکھتا ہو، دراصل شہر کی حکمرانی نہیں کر رہا ہوتا، وہ صرف ایک انتظامی ڈھانچے کو چلا رہا ہوتا ہے۔

امریکا بھی ایک مختلف نظام کے ذریعے اسی اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ واشنگٹن قومی قوانین اور مالی معاونت کے فریم ورک طے کرتا ہے، ریاستیں قانونی اور مالیاتی ڈھانچے تشکیل دیتی ہیں، لیکن معاشی سرگرمی کا اصل محرک بڑے شہری و میٹروپولیٹن خطے ہیں۔

کیلیفورنیا کی معاشی طاقت سلی کون ویلی، سان فرانسسکو اور لاس اینجلس سے جڑی ہے، میساچوسٹس کا انحصار بوسٹن اور کیمبرج پر ہے، ٹیکساس کی معیشت ہیوسٹن، ڈلاس، فورٹ ورتھ اور آسٹن سے تقویت پاتی ہے جبکہ نارتھ کیرولائنا کی ترقی ریلی، ڈرہم، چیپل ہل کے کوریڈور سے وابستہ ہے۔

اصل معاشی اکائی اکثر ریاست نہیں بلکہ شہر اور اس کے گرد و نواح پر مشتمل شہری خطہ ہوتا ہے۔ایڈورڈ گلیزر اس کی وجہ بیان کرتے ہیں: شہر کارکنوں، کاروباری اداروں، جامعات اور خیالات کو ایک جگہ مجتمع کرکے پیداواریت میں اضافہ کرتے ہیں۔ جب شہری گنجان آبادی کو بہتر طرزِ حکمرانی کے ساتھ منظم کیا جائے تو یہی گنجانی معاشی اثاثہ بن جاتی ہے۔پاکستان نے بڑی حد تک اس سبق کو نظر انداز کیا ہے۔

ملک کے شہر آبادی کے لحاظ سے تو پھیلتے گئے، لیکن انہیں ادارہ جاتی اختیارات نہیں مل سکے۔ اختیارات صوبائی محکموں، ترقیاتی اداروں، کنٹونمنٹس، وفاقی اداروں اور بلدیاتی ایجنسیوں کے درمیان بکھرے ہوئے ہیں، جس کے باعث شہر کی مجموعی کارکردگی کا کوئی ایک ادارہ جواب دہ نہیں۔

کوئی شہر اس وقت تک مسابقت نہیں کرسکتا جب تک اسے ان نظاموں پر اختیار حاصل نہ ہو جو اس کی مسابقتی صلاحیت کا تعین کرتے ہیں۔

زمین کے استعمال، تعمیراتی منظوریوں، جائیداد کے ریکارڈ، ٹرانسپورٹ، نکاسیٔ آب، پانی، کچرے کے انتظام، عوامی مقامات اور تجارتی ضوابط کا براہِ راست اثر اس بات پر پڑتا ہے کہ کاروبار سرمایہ کاری کریں گے یا نہیں، کارکن شہر میں رہیں گے یا نہیں اور شہری نظام مؤثر انداز میں چلیں گے یا نہیں۔

مگر پاکستان کا طرزِ حکمرانی انہی صلاحیتوں کو کمزور کرتا ہے۔عمومی نوعیت کے سرکاری افسران مختلف عہدوں پر گردش کرتے رہتے ہیں جبکہ اختیارات مرکز میں برقرار رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی مہارت کو ایک مستقل پیشہ ورانہ شعبے کے طور پر فروغ نہیں مل پاتا۔

شہری ٹرانسپورٹ کے منصوبہ ساز، اراضی کے ماہرینِ معاشیات، صفائی و نکاسیٔ آب کے انجینئرز، بلدیاتی قوانین کے ماہرین، جائیداد کے ماہرین اور شہری مالیات کے ماہرین کو شہری اداروں کی بنیاد بنانا چاہیے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی شہر کی مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

اسی لیے شہروں اور اضلاع کو چاہیے کہ وہ اپنی پیشہ ور انتظامیہ خود بھرتی کریں، تربیت دیں اور برقرار رکھیں۔ یہ انتظامیہ صوبائی بیوروکریسی کی توسیع کے بجائے اپنی جگہ خودمختار اور مسابقتی عوامی اداروں کے طور پر کام کرے۔

آئینی بنیاد پہلے ہی موجود ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140 اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔

لیکن صوبوں نے بامعنی اختیارات کی منتقلی کی بارہا مزاحمت کی ہے، جس کے باعث مقامی حکومتوں کے اختیارات محدود، مدتِ کار غیر یقینی اور وسائل ناکافی رہے ہیں۔

اسی لیے نئے صوبوں کی بحث اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتی ہے۔چھوٹا صوبہ بھی اپنے سیکریٹریٹ، بھرتی کے قواعد، مالیاتی کنٹرول اور منصوبہ بندی کے اختیارات کے ذریعے اقتدار کو مرکز میں رکھ سکتا ہے۔

نئے صوبوں کے مطالبے کا ایک بڑا حصہ بہتر حکمرانی کے بجائے وسائل کی تقسیم سے متعلق بھی ہے۔

قابلِ تقسیم محاصل کے پول کو کون کنٹرول کرے گا، دارالحکومت کہاں ہوگا، بجٹ کا انتظام کون سی بیوروکریسی کرے گی اور سرکاری عہدے و ترقیاتی منصوبے کس کو ملیں گے، یہ بنیادی طور پر سیاسی سودے بازی کے سوالات ہیں، ترقی کے نہیں۔

ترقی کا مطلب پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے، یعنی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری، جدت اور برآمدات کو آسان بنانا اور کارکنوں کو زیادہ ہنرمند اور پیداواری بننے کے مواقع فراہم کرنا۔

اس لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ سرکاری پیسہ کس کو ملتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری، زمین، بنیادی ڈھانچے، آمدورفت اور کاروبار کے قیام سے متعلق قواعد پر اختیار کس کا ہے۔

شہروں کو چاہیے کہ وہ بہتر ٹرانسپورٹ، تیز تر منظوریوں، صاف ستھرے ماحول اور قابلِ اعتماد خدمات کی فراہمی کے ذریعے کاروباری اداروں، باصلاحیت افراد، جامعات، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کریں اور جب ان کی معیشتیں ترقی کریں تو انہیں اس کامیابی کے ثمرات میں بھی حصہ ملنا چاہیے۔

پاکستان میں اس کے برعکس نظام رائج ہے، حکومتیں سرمایہ کاری کے لیے شہروں کے درمیان مسابقت کے بجائے وسائل کی منتقلی اور فنڈز کے حصول کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔

ایمیزون کی جانب سے دوسرے ہیڈکوارٹر کے قیام کی تلاش اس متبادل نظام کی ایک مثال ہے۔ مختلف شہروں نے اپنی افرادی قوت، بنیادی ڈھانچے، جامعات اور کاروباری ماحول کو معاشی مواقع کے طور پر پیش کیا۔

پاکستانی میئر اس طرح مؤثر انداز میں مسابقت نہیں کرسکتے جب تک انہیں اپنے شہروں کے بنیادی اختیارات حاصل نہ ہوں۔

ذمہ داریوں کی تقسیم بھی واضح ہونی چاہیے: شہروں اور اضلاع کو مقامی امور سنبھالنے چاہییں، صوبوں کو معیارات مقرر کرنے، وسائل میں توازن پیدا کرنے اور مختلف بلدیاتی علاقوں سے متعلق مشترکہ معاملات میں رابطہ کاری کرنی چاہیے جبکہ وفاق کو دفاع، زرِی پالیسی، خارجہ امور، تجارت، قومی سطح کے بنیادی ڈھانچے اور ضابطہ کاری پر توجہ دینی چاہیے۔

اس نظام کی بنیاد اصولِ تفویضِ اختیار ہونا چاہیے، فیصلے اسی نچلی ترین سطح پر کیے جائیں جہاں انہیں مؤثر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہو۔

اس سے جواب دہی کا نظام بھی واضح ہوگا۔ آج میئر صوبوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، صوبے اداروں کو، ادارے محکموں کو اور بیوروکریسی فنڈز کی کمی کو۔ یوں ہر کسی کے پاس کچھ نہ کچھ اختیار ہے، مگر مکمل طور پر کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔

شہروں کو اختیارات، قابلِ پیش گوئی آمدنی، پیشہ ور انتظامیہ اور حقیقی انتظامی و انتظامی فیصلوں کے اختیارات دیے جائیں، پھر ان سے ان کی کارکردگی پر جواب طلبی کی جائے۔

مقامی حکومت کوئی معمولی انتظامی معاملہ نہیں، یہ ملک کی معاشی تنظیم کا بنیادی حصہ ہے۔

شہر جدید معاشی زندگی کے پلیٹ فارم ہیں، جہاں لوگ، کاروباری ادارے، سرمایہ اور خیالات ایک دوسرے سے جڑتے ہیں اور یوں پیداواریت، جدت، روزگار اور معاشی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔

پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں صوبے کم ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جہاں معیشت حقیقتاً سرگرم ہے، وہاں مؤثر حکمرانی بہت کم ہے۔

مزید صوبے زیادہ دارالحکومت اور زیادہ بیوروکریسی تو پیدا کرسکتے ہیں، لیکن بااختیار اور خودمختار مسابقتی شہر سرمایہ کاری، پیداواریت اور معاشی ترقی پیدا کریں گے۔

پاکستان کو صوبائی انتظامیہ کی ایک اور سطح کی ضرورت نہیں، اسے میئر کی قیادت میں چلنے والی معیشت کی ضرورت ہے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

Nadeem ul Haque

Nadeem ul Haque is Vice Chancellor at PIDE. Twitter Handle: @nadeemhaque

Comments

200 حروف