ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ کی حالت ’انتہائی تشویشناک‘، اہل خانہ اسپتال میں ان کے پاس موجود
- یورپ کے معمر ترین زندہ بادشاہ اور 1991 سے ناروے کے رسمی سربراہِ مملکت ہیرالڈ کو 17 اگست کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا
شاہی دربار نے بتایا ہے کہ ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ کی حالت جمعرات کو اسپتال میں ’’انتہائی تشویشناک‘‘ تھی جبکہ اہل خانہ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس جمع ہوگئے۔
دارالحکومت اوسلو کے مرکزی علاقے میں واقع شاہی محل کے باہر سیکڑوں افراد جمع ہوگئے اور کئی لوگوں نے بادشاہ کی صحت سے متعلق مزید اطلاعات کے انتظار میں پھول رکھے۔
یورپ کے معمر ترین زندہ بادشاہ اور 1991 سے ناروے کے رسمی سربراہِ مملکت ہیرالڈ کو 17 اگست کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ شاہی محل کے مطابق ان کے خون میں بیکٹیریا کے انفیکشن کا علاج جاری ہے۔
شاہی محل نے ایک بیان میں بتایا کہ ولی عہد ہاکون اور بادشاہ ہیرالڈ کی اہلیہ ملکہ سونیا نے اپنی تمام طے شدہ مصروفیات منسوخ کردی ہیں۔
بادشاہ کے اہل خانہ، جن میں ولی عہد اور ملکہ بھی شامل ہیں، کو اوسلو یونیورسٹی اسپتال پہنچتے ہوئے صحافیوں نے دیکھا، جہاں بادشاہ زیرِ علاج ہیں۔
وزیراعظم جوناس گار اسٹورے نے بھی بادشاہ کی تشویشناک حالت کے باعث جرمنی کا دورہ منسوخ کردیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’’پوری قوم ہمارے ساتھ ہے اور بادشاہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں کر رہی ہے۔‘‘
ناروے کی پارلیمنٹ کے اسپیکر مسعود قرہ خانی نے آئس لینڈ کا سرکاری دورہ مختصر کرکے وطن واپسی کا سفر شروع کردیا۔ خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی نے بھی کہا کہ اس کے ارکان جنوبی کوریا سے واپس وطن روانہ ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ناروے کے لوتھرن چرچ کے بشپوں کی کونسل، جو پوپ سے ایک غیر معمولی ملاقات کے لیے روم میں موجود تھی، نے بھی جلد از جلد وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔
بادشاہ نے 2024 میں کہا تھا کہ عمر کے پیشِ نظر وہ سرکاری سرگرمیوں میں اپنی شرکت محدود کردیں گے، تاہم انہوں نے تخت سے دستبردار ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بطور بادشاہ ان کا حلف تاحیات ہے۔


Comments