ایران جنگ، اوپیک پلس کا تیل مارکیٹ پر اثر و رسوخ کم، چین کا کردار بڑھ گیا
- سعودی عرب اور روس سمیت اوپیک پلس کے 7 بنیادی پیداواری ممالک کا عالمی تیل پیداوار میں حصہ جولائی میں صرف ایک چوتھائی رہ گیا۔
ایران جنگ کے 6 ماہ مکمل ہونے پر دنیا کا سب سے طاقتور تیل اتحاد اوپیک پلس ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر محدود کردیا ہے۔
جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی ایک اہم برآمدی گزرگاہ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے، جبکہ اوپیک کے متعدد رکن ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتحال نے اوپیک پلس کے تیل کی عالمی پیداوار میں حصے کو کم کردیا ہے اور قیمتوں پر اس کے اثر و رسوخ کو محدود کردیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جولائی میں اوپیک پلس کا تیل کی عالمی پیداوار میں حصہ تقریباً 40 فیصد رہا، جو فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران پر حملے سے قبل 48 فیصد سے زیادہ تھا۔ اس کمی میں تقریباً 4 سے 5 فیصد پوائنٹس متحدہ عرب امارات کی مئی میں اوپیک سے علیحدگی کے باعث بھی آئے۔
سعودی عرب اور روس سمیت اوپیک پلس کے 7 بنیادی پیداواری ممالک کا عالمی تیل پیداوار میں حصہ جولائی میں صرف ایک چوتھائی رہ گیا۔
جنگ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات متاثر کرکے اوپیک پلس کی فوری طور پر پیداوار بڑھانے یا کم کرنے کی صلاحیت محدود کردی ہے۔ مارچ سے بنیادی اوپیک پلس گروپ نے تیل پیداوار میں 6 مرتبہ اضافے کا اعلان کیا، تاہم ہرمز کی بندش کے باعث ان میں سے بیشتر فیصلے عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
اس کے برعکس 2026 میں چین کی خام تیل درآمدات میں نمایاں کمی عالمی مارکیٹ کے لیے اہم عنصر بن گئی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد چین نے گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 400 ملین بیرل کم تیل خریدا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایندھن کی برآمدات پر پابندی، ریفائننگ سرگرمیوں میں کمی اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے استعمال نے چینی تیل طلب کو کم کیا، جس سے رواں سال عالمی قیمتوں پر دباؤ محدود رکھنے میں مدد ملی۔
اسپارٹا کموڈیٹیز کی تجزیہ کار جون گوہ نے کہا کہ چین اب تیل کی طلب کا نیا سوئنگ سینٹر بن چکا ہے، جو ماضی میں بنیادی طور پر اوپیک پلس کا کردار سمجھا جاتا تھا۔


Comments