کپاس درآمد، زیرِ زمین پانی برآمد: پسپائی کا حساب
- ہم ٹیکسٹائل مصنوعات کے بدلے چینی نہیں لے رہے؛ ہم ایک عالمی سطح پر مسابقتی صنعت کو ایسے آبی نظام کے عوض قربان کر رہے ہیں جو زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہا ہے۔ یہ حساب اتفاقاً غلط نہیں ہوا، اسے دانستہ طور پر غلط بنایا گیا ہے
پاکستان اب خام کپاس درآمد کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کا کپاس پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا تھا اور اس کی صنعتی بنیاد مقامی ’’سفید سونے‘‘ پر استوار تھی، مگر آج یہی ملک اپنی بنیادی خام مال بیرونِ ملک سے خرید رہا ہے۔ درآمد شدہ کپاس کو ملکی زیرِ زمین پانی سے دھاگے میں بدلا، رنگا اور تیار کیا جاتا ہے اور پھر برآمد کردیا جاتا ہے۔ یوں کراچی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے دھاگے، ڈینم اور تیار ملبوسات کے ہر کنٹینر کے ساتھ پنجاب اور سندھ کے آبی ذخائر کا ہزاروں لیٹر پانی بھی ملک سے باہر چلا جاتا ہے۔
یہ محض سپلائی چین نہیں بلکہ پانی کے ذخائر کی ’’ہائیڈرولوجیکل منی لانڈرنگ‘‘ ہے۔ ہم کسی اور ملک کی خام کپاس درآمد کرتے ہیں، اسے تیزی سے ختم ہوتے اپنے زیرِ زمین آبی ذخائر کے پانی سے پروسیس کرتے ہیں اور حاصل ہونے والے زرمبادلہ کو قومی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ اسی دوران پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن وفاقی حکومت سے 6 لاکھ ٹن فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ رہی ہے۔ حساب اتنا سادہ ہے کہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے: ہم اپنی سب سے بڑی صنعت کا خام مال درآمد کر رہے ہیں تاکہ ایسی فصل کی اضافی پیداوار برآمد کرسکیں جو ہمارے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہی ہے۔ یہ مارکیٹ کی ناکامی نہیں بلکہ پالیسی کا انتخاب ہے۔
کپاس کا زوال
2004-05 میں پاکستان نے ریکارڈ 1 کروڑ 46 لاکھ گانٹھ کپاس پیدا کی تھی اور یہ فصل ملکی برآمدی آمدن میں تقریباً 60 فیصد حصہ ڈالتی تھی۔ مگر اب یہ بنیاد تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ 2022-23 میں ملکی کپاس کی پیداوار 49 لاکھ 10 ہزار گانٹھ رہ گئی، یعنی 66 فیصد کمی ہوئی۔ پنجاب میں کپاس کا زیرِ کاشت رقبہ 2010 کے 55 لاکھ ایکڑ سے کم ہوکر 2025 میں 26 لاکھ ایکڑ رہ گیا۔ فیصل آباد میں 50 ہزار سے زیادہ پاور لومز بند ہوچکی ہیں جبکہ ملک بھر میں جننگ یونٹس کی تعداد تقریباً 1,200 سے کم ہوکر 400 رہ گئی ہے۔ صنعت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی موجود ہے، مگر اس کے لیے خام مال باقی نہیں رہا۔
اس زوال کا ذمہ دار عام طور پر کسان کو ٹھہرایا جاتا ہے، حالانکہ یہ کسان ہی نہیں جس نے یہ تباہ کن حساب لکھا۔ کسان نے صرف وہی فیصلہ کیا جو ریاست کی پالیسیوں نے اس کے سامنے رکھا تھا۔
پوشیدہ سبسڈی
آخر کپاس پیچھے کیوں ہٹی اور گنے کی کاشت کیوں بڑھتی گئی؟ پنجاب میں نہری پانی کا فلیٹ ریٹ آبیانہ صرف 35 پیسے فی مکعب میٹر ہے، جبکہ پانی کی قلت کی حقیقی قدر تقریباً 3 روپے ہے۔ دوسری جانب اندازاً 15 لاکھ ٹیوب ویل زیرِ زمین پانی تقریباً صفر معمولی لاگت پر، بغیر میٹرنگ اور مؤثر ضابطے کے، نکال رہے ہیں۔ یوں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصل کو سب سے بڑی پوشیدہ سبسڈی مل رہی ہے، کیونکہ زیرِ زمین پانی کے ذخیرے سے اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کی جاتی۔
گنے کو حکومت کی جانب سے مقررہ امدادی قیمت، شوگر ملوں سے پیشگی ادائیگیاں اور انتہائی مضبوط سیاسی لابنگ حاصل ہے، جبکہ کپاس کا انحصار مارکیٹ پر ہے اور جننگ سیکٹر منتشر ہے۔ 2020 کی شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کے مطابق پانچ سال کے دوران شوگر انڈسٹری کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تقریباً 29 ارب روپے کی سبسڈی ملی، جبکہ کپاس کے کاشتکاروں کو ایسی کوئی مراعات حاصل نہیں ہوئیں۔
پانی کا حساب
اعدادوشمار واضح ہیں۔ خریف کپاس اور ربیع گندم کی فصلوں کے لیے فی ایکڑ تقریباً 48 لاکھ 50 ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے، جبکہ سال بھر کی گنے کی فصل تقریباً 72 لاکھ 80 ہزار لیٹر پانی استعمال کرتی ہے، یعنی 50 فیصد زیادہ۔ پنجاب میں کپاس کے ختم ہونے والے 29 لاکھ ایکڑ رقبے پر اس فرق کو لاگو کیا جائے تو پانی کے بحران کی سنگینی واضح ہوجاتی ہے۔ پاکستان نے محض فصلیں تبدیل نہیں کیں بلکہ ہر تبدیل شدہ ایکڑ پر دریائے سندھ کے طاس پر سالانہ اربوں لیٹر اضافی پانی کا بوجھ ڈال دیا۔
کپاس کے سابق مرکز رحیم یار خان میں 2004 سے 2024 کے درمیان زیرِ زمین پانی کی سطح 10.34 فٹ نیچے چلی گئی۔ آبی ذخیرہ خاموشی سے ختم ہوتا ہے جبکہ فصل سے حاصل ہونے والی نقد آمدن فوراً نظر آتی ہے۔ یہی وہ عدم توازن ہے جو وسائل کے خاتمے کو خوشحالی کا روپ دیتا ہے۔
صنعت کی تباہ کن غلطی
لیکن سب سے اہم اعدادوشمار فی ایکڑ پانی کا استعمال نہیں بلکہ استعمال ہونے والے ہر مکعب میٹر پانی کے بدلے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر سالانہ تقریباً 17.9 ارب ڈالر کماتا ہے، جبکہ چینی کی مجموعی سالانہ برآمدی آمدن چند سو ملین ڈالر تک محدود ہے۔ پانی کے ہر مکعب میٹر کے مقابلے میں ٹیکسٹائل ویلیو چین چینی کے مقابلے میں تقریباً 50 گنا زیادہ زرمبادلہ کماتی ہے۔ اس کے باوجود ہماری پانی کی قیمت، سبسڈی کی تقسیم اور سیاسی ترجیحات چھوٹی صنعت کو بڑی صنعت کی قیمت پر وسعت دینے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔
ہم نے ٹیکسٹائل مصنوعات کے بدلے چینی کا تبادلہ نہیں کیا، بلکہ ایک عالمی سطح پر مسابقتی صنعت کو پانی کے ذخائر کو تیزی سے ختم کرنے والے نظام کے عوض قربان کردیا۔ یہ حساب غلطی سے نہیں بلکہ پالیسی کے تحت غلط بنایا گیا ہے۔
پسپائی کی کہانی
کوئی قوم اپنی زرعی خودمختاری ایک ہی فیصلے میں ترک نہیں کرتی۔ یہ چھوٹے چھوٹے بظاہر معقول پالیسی فیصلوں کے ذریعے ہوتا ہے، جو مل کر ایک غیر معقول نتیجہ پیدا کرتے ہیں۔ فلیٹ ریٹ آبیانہ، امدادی قیمت اور سولر ٹیوب ویل—ہر فیصلہ الگ دیکھا جائے تو اس کا اپنا سیاسی مفاد رکھنے والا طبقہ موجود ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ سب مل کر ایک پھندا بن جاتے ہیں۔
حالیہ ڈی ریگولیشن، جس کے تحت امدادی قیمت ختم کرکے چینی کی تجارت آزاد کی گئی، حکومت کو چینی کی قیمت مقرر کرنے کے عمل سے تو نکال دیتا ہے، لیکن صنعت کو حاصل سب سے بڑی بالواسطہ سبسڈی یعنی سستا اور بغیر میٹر کے پانی بدستور برقرار رہتا ہے۔ یوں بوجھ وفاقی بجٹ سے منتقل ہوکر زیرِ زمین آبی ذخائر پر ڈال دیا گیا ہے۔
تین اصلاحات
اول، فصلوں کے لحاظ سے مختلف آبیانہ بحال کیا جائے اور بتدریج پانی کے حجم کے حساب سے قیمت مقرر کرنے کی طرف بڑھا جائے۔ سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں سے پانی کی حقیقی قلت کی قیمت وصول ہونی چاہیے۔
دوم، فصلوں کی کاشت کے لیے زوننگ کی جائے اور بیج کے نظام کو بحال کیا جائے۔ شدید دباؤ کا شکار زیرِ زمین آبی ذخائر والے علاقوں میں گنے کی کاشت کی توسیع روکی جائے۔ بیجوں کی منظوری کے اجارہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرکے موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی کپاس کی اقسام متعارف کرائی جائیں، جبکہ کپاس کی طرف واپس آنے والے کسانوں کو عبوری سرمایہ اور فصل بیمہ فراہم کیا جائے۔
سوم، صنعتی پالیسی کو پانی کی دستیابی اور صورتحال سے ہم آہنگ کیا جائے۔ چینی کی برآمد کی اجازت کو قابلِ پیمائش پانی کی بچت کے اہداف سے مشروط کیا جائے۔ برآمد کی اجازت سے پہلے کسانوں کے واجبات کی ادائیگی اور گنے کے علاقوں کا آبی جائزہ لازمی قرار دیا جائے۔ جو مل اپنے کاشتکاروں کو ادائیگی نہیں کرسکتی، اسے برآمد کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
دو بل
پاکستان سے روانہ ہونے والی چینی کی ہر بوری کے ساتھ دو بل منسلک ہیں۔ ایک کی ادائیگی غیر ملکی خریدار کرتا ہے، جبکہ دوسرا بل خاموشی سے ایسے زیرِ زمین آبی ذخیرے کے ذمے ڈال دیا جاتا ہے جو اپنا بل بھیج نہیں سکتا۔
لیکن جس کپاس کی کاشت ہم نے ترک کردی، اس کا بل خاموش نہیں۔ وہ ہر ماہ ڈالر میں ہمارے اسپننگ ملز تک پہنچتا ہے۔ گزشتہ سال اس کی لاگت 2 ارب ڈالر سے زیادہ رہی اور آئندہ سال یہ رقم مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ آبی ذخیرے کا بل مؤخر، پوشیدہ اور آنے والی نسلوں کو ادا کرنا ہے، جبکہ کپاس کی درآمد کا بل فوری، نمایاں اور آج ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے بیک وقت دونوں مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت ملک کی اب تک کی واحد عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی صنعت ہے۔ اس نے تقسیمِ ہند، جنگوں، پابندیوں اور عالمی کساد بازاریوں کا مقابلہ کیا ہے۔ لیکن یہ زیرِ زمین آبی ذخائر کے خاتمے سے نہیں بچ سکے گی۔
حساب مشکل نہیں۔ یہ خودکشی کے مترادف ہے، اور یہ ایک انتخاب ہے۔ ہمیں یہ انتخاب بدلنا ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments