وائیکو (WAICO) کو پاکستان کی اے آئی برتری کا ذریعہ بنانا
- پاکستان کے لیے وائیکو کی اصل اہمیت اس کی بانی رکنیت کے اعزاز میں نہیں بلکہ اس موقع میں ہے کہ وہ اسے تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے اپنی طویل مدتی قومی صلاحیت میں تبدیل کرے
16 جولائی 2026 کو شنگھائی میں عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (WAICO) یعنی وائیکو کا قیام عالمی سطح پر اے آئی کی حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ پاکستان اس تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے، جس کے باعث اسے محض سفارتی سطح پر شناخت حاصل ہونے سے کہیں بڑھ کر ایک اہم موقع میسر آیا ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے اور علم پر مبنی معیشت تشکیل دینے کے لیے کوشاں پاکستان کے لیے وائیکو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ بین الاقوامی سطح پر اے آئی کے شعبے میں تعاون کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت تیزی سے اکیسویں صدی کی فیصلہ کن ٹیکنالوجی بنتی جا رہی ہے۔ پرائس واٹر ہاؤس کوپرز (پی ڈبلیو سی) کے اندازے کے مطابق 2030 تک اے آئی عالمی معیشت میں تقریباً 15.7 ٹریلین ڈالر کا حصہ ڈال سکتی ہے، جبکہ میک کِنزی کے مطابق صرف جنریٹو اے آئی ہی سالانہ 2.6 ٹریلین سے 4.4 ٹریلین ڈالر تک کی معاشی قدر پیدا کر سکتی ہے۔
دنیا بھر کے ممالک نہ صرف اے آئی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل ہیں بلکہ ان ٹیکنالوجیز کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے میں بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں وائیکو کے بانی ارکان میں پاکستان کی شمولیت اسے اپنی قومی ترجیحات کو ابھرتے ہوئے عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کا بروقت موقع فراہم کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے وائیکو کی اصل اہمیت اس کی بانی رکنیت کے اعزاز میں نہیں بلکہ ان مواقع میں پوشیدہ ہے جو یہ تنظیم پیدا کر سکتی ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے پاکستان ترقی پذیر معیشتوں سے متعلق اہم معاملات پر مؤثر آواز اٹھا سکتا ہے، جن میں اے آئی ٹیکنالوجیز تک منصفانہ رسائی، کم لاگت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ذمہ دارانہ ڈیٹا گورننس، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اے آئی کے شعبے میں استعدادِ کار بڑھانے کے لیے بین الاقوامی تعاون شامل ہیں۔ یہ ترجیحات پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن اور زیرِ تشکیل نیشنل اے آئی پالیسی سے بھی گہری مطابقت رکھتی ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر وائیکو پاکستان کے مقامی اے آئی ایکو سسٹم کی تیز رفتار ترقی کا دروازہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کا آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کا شعبہ تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے اور اس کی برآمدات 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ملک کی نوجوان آبادی اور سافٹ ویئر انجینئرز کی بڑھتی ہوئی تعداد اے آئی کی بنیاد پر ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ وائیکو کے اشتراکی فریم ورک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اپنی جامعات، اسٹارٹ اَپس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دنیا کے معروف تحقیقی اداروں سے جوڑ سکتا ہے، جس سے جدت، کمرشلائزیشن اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سب سے زیادہ امید افزا شعبوں میں ایک تحقیقی تعاون ہے۔ پاکستان وائیکو کے پلیٹ فارم کو مشترکہ اے آئی لیبارٹریز کے قیام، اشتراکی تحقیقی منصوبوں کے فروغ اور جامعات و صنعت کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایسے اقدامات زراعت، صحت، تعلیم، آفات سے نمٹنے، موسمیاتی لچک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ جیسے شعبوں میں اے آئی کی ایپلی کیشنز کی تیاری کو تیز کر سکتے ہیں۔ ان شعبوں میں اے آئی پیداواری صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو براہِ راست بہتر بنانے کے ساتھ پاکستان کو درپیش ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
یہ تنظیم ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علم کے تبادلے میں بھی سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ اے آئی کے شعبے میں نمایاں معیشتوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پاکستان جدید تحقیق، مؤثر ریگولیٹری طریقۂ کار، تکنیکی مہارت اور اے آئی کی ابھرتی ہوئی ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح کا تعاون ملک کے ٹیکنالوجی گیپ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی کمپنیوں کو عالمی اے آئی ویلیو چینز کا حصہ بننے اور ہائی ٹیک صنعتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کے قابل بنائے گا۔
ایک اور اہم موقع انسانی وسائل کی ترقی کا ہے۔ پاکستان خطے کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، تاہم اے آئی کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ایسی افرادی قوت درکار ہے جو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس ہو۔ وائیکو مشترکہ تربیتی پروگراموں، تعلیمی تبادلوں، وظائف اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن کے منصوبوں میں معاونت کر سکتی ہے، جن سے صرف اے آئی انجینئرنگ ہی نہیں بلکہ اے آئی گورننس، سائبر سکیورٹی، اخلاقیات، ڈیٹا پروٹیکشن اور ڈیجیٹل ریگولیشن کے شعبوں میں بھی مہارت پیدا کی جا سکے گی۔ طویل مدتی مسابقتی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے ایسی کثیرالجہتی مہارت رکھنے والی افرادی قوت تیار کرنا ناگزیر ہوگا۔
تاہم، صرف بین الاقوامی تعاون داخلی تیاری کا متبادل نہیں بن سکتا۔ جو ممالک اے آئی کے شعبے میں قائدانہ مقام حاصل کر چکے ہیں، انہوں نے عالمی سطح پر فعال کردار کے ساتھ تحقیق، ادارہ جاتی صلاحیت اور جدت میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو وائیکو میں اپنی شرکت کے ساتھ ایسی مضبوط قومی پالیسیوں کو بھی آگے بڑھانا ہوگا جو اے آئی تحقیق کی حوصلہ افزائی کریں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو وسعت دیں، دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کو مضبوط بنائیں اور ڈیٹا گورننس کو بہتر کریں۔ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری میں اضافہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ پاکستان اس وقت جی ڈی پی کا 0.2 فیصد سے بھی کم تحقیق و ترقی پر خرچ کرتا ہے، جس کے باعث ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو تجارتی پیمانے پر فروغ دینے کی صلاحیت محدود رہتی ہے۔
ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ اے آئی گورننس کے دائرے میں ڈیجیٹل پالیسی، سائبر سکیورٹی، تعلیم، مالیات، صنعت اور قانون سمیت متعدد شعبے آتے ہیں۔ پاکستان کے لیے مفید ہوگا کہ وہ ایک مخصوص قومی ادارہ جاتی نظام قائم کرے جو اے آئی حکمتِ عملی میں ہم آہنگی پیدا کرنے، ریگولیٹری جدت کی حمایت کرنے اور وائیکو جیسے بین الاقوامی اے آئی فورمز میں ملک کے مفادات کی مؤثر نمائندگی کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اتنی ہی اہم بات ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں نجی شعبہ جدت اور نئے تجربات کو فروغ دے سکے۔ ریگولیٹری سینڈ باکسز، اے آئی پر توجہ مرکوز رکھنے والے وینچر کیپیٹل فنڈز، اسٹارٹ اَپس کے لیے مراعات اور جامعات و صنعت کے درمیان مضبوط تعاون تحقیق کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ کاروباری افراد کو پاکستان کی معاشی اور سماجی ضروریات کے مطابق اے آئی کے حل تیار کرنے کی ترغیب بھی ملے گی۔ ایسے اقدامات نہ صرف ملک میں جدت کے عمل کو مضبوط بنائیں گے بلکہ پاکستان کو اے آئی میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی مقام کے طور پر بھی ابھار سکتے ہیں۔
حتمی طور پر وائیکو کو محض ایک اور بین الاقوامی تنظیم کے بجائے پاکستان کی تکنیکی تبدیلی کے لیے ایک اسٹریٹجک معاون کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ پاکستان کو عالمی اے آئی گورننس کے مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر جدت، تحقیقی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انسانی وسائل کی ترقی کو تیز کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
عالمی اے آئی معیشت میں پاکستان ایک مؤثر کردار ادا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے، اس کا انحصار صرف وائیکو کی رکنیت پر نہیں بلکہ اس امر پر ہوگا کہ وہ اس موقع کو کتنی مؤثر انداز میں طویل مدتی قومی صلاحیت میں تبدیل کرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر فعال کردار کے ساتھ تحقیق، ہنرمند افرادی قوت، اداروں اور جدت میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان وائیکو سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اے آئی ایکو سسٹم کو مضبوط، معاشی مسابقتی صلاحیت کو بہتر اور گلوبل ساؤتھ میں ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی لیڈر کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments