یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے کاروبار متاثر، اربوں یورو کا معاشی نقصان
- گرمی کی حالیہ لہر کے دوران شہر اور نواحی علاقوں کے 80 فیصد سے زائد ہوٹلوں اور ریستورانوں کی آمدنی میں اوسطاً 20 فیصد کمی ریکارڈ کی
یورپ میں رواں سال آنے والی شدید گرمی کی پانچویں لہر نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہمان نوازی، صنعت، زراعت اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں کو اربوں یورو کے معاشی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ ان نقصانات کا بڑا حصہ انشورنس کے دائرہ کار سے بھی باہر ہے۔
اطالوی شہر پڈوا میں جہاں برسوں سے لوگ شام کے وقت کیفے میں بیٹھ کر اپیریٹیوو (رات کے کھانے سے قبل مشروب) کی روایت نبھاتے تھے، اب شدید گرمی کے باعث یہ سرگرمی تاخیر سے شروع ہوتی ہے۔ اس سے کیفے اور ریستورانوں کی بیرونی نشستیں خالی رہتی ہیں اور کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ مقامی کاروباری تنظیم اے پی پی ای پڈوا کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر کے دوران شہر اور نواحی علاقوں کے 80 فیصد سے زائد ہوٹلوں اور ریستورانوں کی آمدنی میں اوسطاً 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ریٹنگ ایجنسی موڈیز کے اندازے کے مطابق گزشتہ موسم گرما میں یورپ میں گرمی کی لہروں سے 43 ارب یورو کی معاشی پیداوار متاثر ہوئی، تاہم انشورنس کمپنیوں نے صرف تقریباً 50 کروڑ یورو کے کلیمز ادا کیے۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی کو روایتی طور پر ایسا خطرہ نہیں سمجھا جاتا جسے انشورنس مکمل طور پر کور کرے، کیونکہ اس سے زیادہ تر مالی نقصان کاروباری سرگرمیوں میں تعطل، پیداواری صلاحیت میں کمی اور صارفین کی کم آمدورفت کے باعث ہوتا ہے، نہ کہ عمارتوں یا املاک کو براہ راست نقصان پہنچنے سے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انشورنس کمپنیاں پیرامیٹرک انشورنس متعارف کرا رہی ہیں، جس کے تحت درجہ حرارت مقررہ حد سے بڑھنے پر خودکار طور پر ادائیگی کی جاتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق کاروباری اداروں کو صرف انشورنس پر انحصار کرنے کے بجائے کولنگ ٹیکنالوجی، کام کی جگہوں کی ازسرنو منصوبہ بندی اور سپلائی چین کو زیادہ مضبوط بنانے جیسے اقدامات بھی کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں شدید گرمی کے اثرات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔


Comments