نفسیاتی تحفظ کی پیچیدگی کو سمجھنا
- فزیکل سیفٹی کے برعکس سائیکولوجیکل سیفٹی کوئی قابلِ لمس چیز نہیں۔ یہ آکسیجن کی مانند ہے؛ آپ اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ سائیکولوجیکل سیفٹی ہو تو ادارہ سانس لیتا ہے، نہ ہو تو ادارہ دم توڑ دیتا ہے۔
حال ہی میں ملازمت تبدیل کرنے والے ایک ایگزیکٹو نے ایک دلچسپ بات کا مشاہدہ کیا۔ وہ میرا سابق طالب علم تھا اور مجھ سے مشورہ لینے آیا تھا۔ اس کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی بیٹھا تھا، جو ایک بڑے برانڈ کو چھوڑ کر کہیں چھوٹے برانڈ میں ملازمت اختیار کرنے پر اسے چھیڑ رہا تھا۔
ان دونوں کی گفتگو خاصی معنی خیز تھی۔ میرے سابق طالب علم نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’بات چھوٹے برانڈ کی نہیں ہے۔ میرے لیے تو یہ ادارہ بڑا ہے، کیونکہ یہاں میری رائے کی اہمیت ہے اور میں فیصلوں میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہوں۔ ایسی بڑی کمپنی کا کیا فائدہ جہاں میری کوئی حیثیت ہی نہ ہو؟‘‘
اس کے دوست نے جواب دیا، ’’لیکن تم تو کروڑوں روپے مالیت کے پورٹ فولیو کی نگرانی کر رہے تھے۔‘‘
اس نے جواب دیا، ’’کروڑوں ڈالر مالیت کے یونٹ کی سربراہی کرنا، مگر خود کو ایک ڈالر سے بھی کم قدر کا محسوس کرنا۔‘‘
یہ گفتگو کئی گہری حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ بڑی کمپنیوں کی اپنی کشش ہوتی ہے، لیکن چھوٹی کمپنیوں کا بھی اپنا ایک حسن اور جاذبیت ہوتی ہے۔ جب ہم کسی شخص کے پُرکشش ہونے کی بات کرتے ہیں تو دراصل یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر اس میں ایسی کیا بات ہے جو اسے دوسروں کے لیے قابلِ کشش بناتی ہے۔ ہم نے کتنی بار دیکھا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بااختیار افراد بھی ایسے پُرکشش لوگوں کے سامنے پس منظر میں چلے جاتے ہیں جن کے پاس بظاہر کامیابی کی نمایاں اسناد اور اوصاف کم ہوتے ہیں؟ ایسا اکثر ہوتا ہے۔
ادارے فزیکل سیفٹی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، لیکن سائیکولوجیکل سیفٹی پر بہت کم توجہ دیتے ہیں۔ کمپنیوں میں آپ دیکھتے ہیں کہ ’’سکیورٹی‘‘ کا ایک پورا شعبہ ہوتا ہے، جس کے لیے افرادی قوت، آلات اور بجٹ مختص کیے جاتے ہیں۔ ادارے حفاظت کو اپنی ذمہ داری اور اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ ’’ایس ایچ ای‘‘ یعنی سیفٹی، ہیلتھ، انوائرمنٹ (حفاظت، صحت اور ماحول) جیسی مہمات بھی بڑے پیمانے پر آگاہی اور احتیاطی منصوبوں کا حصہ ہوتی ہیں۔ یہ سب کچھ یقیناً ضروری ہے۔
لیکن نفسیاتی حفاظت، جو دراصل کسی فرد کی حقیقی بہبود کا تعین کرتی ہے، اب بھی محض کارپوریٹ اصطلاح بن کر رہ گئی ہے۔ ایمی ایڈمنڈسن نفسیاتی حفاظت کی تعریف یوں کرتی ہیں: ’’یہ یقین کہ اپنے خیالات، سوالات، خدشات یا غلطیوں کا اظہار کرنے پر کسی کو سزا یا تضحیک کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ٹیم باہمی سطح پر خطرہ مول لینے کے لیے محفوظ ہے۔‘‘ بظاہر بات بہت سادہ ہے، ہے نا؟
کارپوریٹ راہداریوں میں ایسے قائدین کی بھرمار ہے جو ہر وقت جلدی میں رہتے ہیں۔ وہ بورڈ رومز سے زیادہ سے زیادہ نتائج دینے کے دباؤ کے ساتھ باہر نکلتے ہیں۔ ان کے پاس وقت، وسائل اور حتیٰ کہ سانس لینے کی مہلت بھی کم ہوتی ہے۔ یہی کیفیت انہیں فوری ردعمل کے موڈ میں لے جاتی ہے، یعنی اپنا دباؤ ماتحتوں تک منتقل کرنے کے انداز میں۔ عجلت میں ہونے والی میٹنگز، اعداد و شمار کی بھرمار اور سخت الٹی میٹم اسی رویے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
اس پورے عجلت زدہ اور دبے دبے ماحول میں ٹیمیں خود کو الگ تھلگ، بے دخل اور بے زبان محسوس کرنے لگتی ہیں۔ وہ سوال کرنے، وضاحت مانگنے یا شکایت کرنے کی جرأت نہیں کرتیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ یہی بات ان کے خلاف استعمال کی جائے گی۔ یوں خوف پر مبنی عدم تحفظ جنم لیتا ہے، جس کا ازالہ اداروں کا بہترین ایس ایچ ای (حفاظت، صحت اور ماحول) نظام بھی نہیں کرسکتا۔
ایک کیریئر ٹرینر کی رپورٹ کے مطابق 70 فیصد ملازمین نے نفسیاتی تحفظ کی کمی کو ذہنی دباؤ اور بے چینی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ اس سے یہ صورت حال ملازمین کی شمولیت اور کمپنی کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ نفسیاتی طور پر محفوظ ماحول پیدا کرنے پر توجہ دینا مشینری اور سرمائے میں سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ آئیے نفسیاتی حفاظت کے بنیادی عوامل کو ڈی کوڈ کرتے ہیں:
ڈی کوڈ نمبر 1: کھلے پن اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف
لیڈرز کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی بلند مسند سے نیچے اتریں اور اپنے ملازمین کے سامنے اپنی کمزوریاں ظاہر کریں۔ اگر کوئی قائد کھلے دل سے اپنی خامیوں کا اعتراف کرے تو وہ خود کو دوسروں کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ رسائی بناتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دوسرے لوگ بھی اپنی کمزوریوں کا اظہار کرنے میں خود کو زیادہ پُرسکون محسوس کرتے ہیں۔
حال ہی میں ایک سینئر قائد نے مزاحیہ انداز میں یہ اعتراف کرکے جنریشن زی کے ملازمین کا اعتماد جیت لیا: ’’ٹیکنالوجی کے بارے میں میری کم علمی کو ہمارے اے آئی ماہرین کی مدد درکار ہے، ایس او ایس دوستو، مجھے بھی سکھاؤ۔‘‘ اس ایک جملے نے کمرے میں موجود لوگوں کے دل و دماغ کھول دیے۔ ناکافی ثابت ہونے کا خوف ختم ہوگیا۔
دوسروں کے سامنے اپنی کمزوری تسلیم کرنے کی بے چینی بھی کم ہوگئی۔ مزاحیہ انداز نے صورتحال کی سنگینی کو بھی کم کردیا۔ نفسیاتی عدم تحفظ لوگوں کو بناوٹ کا سہارا لینے پر مجبور کرتا ہے۔ بناوٹ سے مراد اپنے اندر جو محسوس ہو رہا ہو، اس کے برعکس ظاہر کرنے کی کوشش ہے۔ بعض مواقع پر یہ حربہ کارآمد ہوسکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ کوئی حل نہیں۔
لیڈرز اکثر سب کچھ جاننے کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے کامیابی کا تمام کریڈٹ انہی کا ہو، جبکہ ناکامی دوسروں کی وجہ سے ہوئی ہو۔ ایسی بناوٹ منفی پیغامات دیتی ہے۔
ڈی کوڈ نمبر 2: سب کچھ جاننے کے بجائے تجسس اختیار کریں
قائدین اکثر اپنے عہدوں کو اپنے علم سے جوڑتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی غیر معمولی تجربے اور علم کی وجہ سے اعلیٰ مناصب تک پہنچے ہیں۔ یہ بات درست ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ قائد کا کام صرف بتانا، سمجھانا اور ہدایات دینا ہے۔
بلکہ قائدین کو اپنی مسند سے نیچے اترنے یا اس سے باہر نکلنے، ملازمین کے قریب جانے اور زمینی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی کی رفتار مسلسل تیز ہونے کے باعث قائدین کو بھی مسلسل خود کو اس رفتار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے انہیں ’’تجسس کے موڈ‘‘ میں آنا ہوگا۔ انہیں ’’سننے کے موڈ‘‘ میں آنا ہوگا۔ انہیں ’’سوال کرنے کے موڈ‘‘ میں آنا ہوگا۔
جب قائدین ملازمین کی بات سننا شروع کرتے ہیں اور ان سے سوچنے پر مجبور کرنے والے سوالات کرتے ہیں تو باہمی دوری کم ہونے لگتی ہے۔ جب لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی رائے طلب کی جا رہی ہے تو وہ خود کو زیادہ وابستہ محسوس کرتے ہیں۔ جب ہدایات مکالمے میں تبدیل ہوتی ہیں تو تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
’’بتائے اور حکم دیے جانے‘‘ سے ’’پوچھے اور شامل کیے جانے‘‘ کی طرف منتقلی کا نفسیاتی اثر 360 درجے کا ہوتا ہے۔ اس سے ذہنوں میں نئی توانائی پیدا ہوتی ہے، گفتگو کو تحریک ملتی ہے اور سب سے بڑھ کر لوگ خود کو پورے عمل کا حصہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ڈی کوڈ نمبر 3: اتفاقِ رائے سے اختلافِ رائے کی طرف
لوگ اپنے خیالات سامنے رکھنے کی جرأت اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اعلیٰ حکام سے اتفاق نہ کیا تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خاموش بغاوت جنم لیتی ہے۔ لوگ موجود تو ہوتے ہیں، لیکن حقیقتاً موجود نہیں ہوتے۔
جب کوئی قائد جان بوجھ کر ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں اختلاف کو لڑائی نہیں بلکہ تخلیقی صلاحیت کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جائے تو لوگ اپنی رائے دینے میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اختلاف بھی احترام کے ساتھ کیا جائے۔
اس کے لیے تربیت ضروری ہے تاکہ لوگوں کو یہ سکھایا جاسکے کہ وہ یوں کہیں: ’’آپ کے خیال میں کئی خوبیاں ہیں، لیکن میں اسے ایک مختلف انداز سے دیکھتا ہوں۔‘‘ ایسا ماحول لوگوں کو نفسیاتی اور جذباتی طور پر آزاد کرتا ہے۔
جب میں نے ایک ملازم سے پوچھا کہ کمپنی کے ماحول کی سب سے اچھی بات کیا ہے تو اس نے کہا، ’’میں اپنے سینئرز سے مختلف رائے رکھنے کے باوجود اپنے خیالات کا اظہار کرسکتا ہوں۔‘‘
ڈی کوڈ نمبر 4: قیاس سے دریافت کی طرف
ایک ملازم نے کہا، ’’اگر میں بسترِ مرگ پر بھی ہوں تو مجھے اپنے باس کے پیغام کا ایک گھنٹے کے اندر جواب دینا ہوگا۔‘‘
ای میل یا واٹس ایپ پر جواب میں تاخیر، آدھی رات کو آنے والا پیغام—یہ سب لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔
ایک ملازم نے بتایا کہ گھر میں ہنگامی صورت حال کے باعث وہ نصف دن تک اپنے باس کو جواب نہیں دے سکا۔ اس پر باس شدید برہم ہوگیا اور اسے سست، بے وقوف اور بدتمیز قرار دے دیا۔
اپنی ذاتی زندگی کے لیے جگہ نہ ہونا واقعی سر پر لٹکتی ہوئی تلوار کے مترادف ہے۔ ایسا ماحول، جہاں قائد لوگوں کے بارے میں قیاس کرے، ان پر لیبل لگائے اور سب کے سامنے انہیں تنقید کا نشانہ بنائے، یقیناً ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔
ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں سکیورٹی الرٹس معمول کا حصہ ہیں۔ خطرے کی سطح ظاہر کرنے کے لیے سرخ، نارنجی اور دیگر رنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی رنگ اداروں اور کمپنیوں کے شعبوں میں نفسیاتی تحفظ کی سطح ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال ہونے چاہئیں۔
ایسا کوئی بھی بم پروف دفتر اس ذہن کو تحفظ نہیں دے سکتا جو جبر، دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو۔
فزیکل سیفٹی کے برعکس سائیکولوجیکل سیفٹی کوئی قابلِ لمس چیز نہیں۔ تاہم، یہ آکسیجن کی مانند ہے۔ آپ اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
سائیکولوجیکل سیفٹی ہو تو ادارہ سانس لیتا ہے، نہ ہو تو ادارہ دم توڑ دیتا ہے۔


Comments