7 اگست کو جب دنیا کی نظریں مکہ مکرمہ پر مرکوز تھیں، تین بڑے سنی ممالک سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے سربراہانِ حکومت نے باضابطہ طور پر ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے میں نیٹو کے آرٹیکل 5 سے ملتی جلتی شق شامل ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاسکتا ہے اور ہر رکن ملک پر لازم ہوگا کہ وہ حملے کا شکار ملک کی مدد کیلئے وہ اقدام کرے جسے وہ ضروری سمجھے۔ نیٹو کی اس شق کے تحت کارروائی کی نوعیت اور طریقہ کار کا حتمی فیصلہ متعلقہ رکن ملک خود کرتا ہے۔
نیٹو کی یہ شق عمل کرنے یا محض مذمت کرنے کا حتمی فیصلہ ہر رکن ملک پر چھوڑتی ہے، تاہم چونکہ مکہ اکارڈ ابھی تک میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا، اس لیے یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ ہونے کی صورت میں ہر رکن ملک کی اصل ذمہ داری کیا ہوگی۔
قیاس آرائیوں میں اس وقت شدت آچکی ہے، بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کے خلاف اس کے جوابی حملوں کے بعد جن میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا جبکہ بعض دیگر حلقے اسرائیل کی جانب اشارہ کرتے ہیں جس کی وجہ خطے میں اسرائیل کے بظاہر غیر قانونی اقدامات کے لیے امریکا کی غیر مشروط حمایت ہے جن میں امریکی اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں، مثلاً 9 ستمبر 2025ء کو دوحہ پر حملہ۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف نہیں۔
دو نکات نہایت اہم ہیں۔ اولاً مکہ معاہدہ 1980ء کی دہائی میں امریکا کی اس سوچ کی یاد دلاتا ہے جس کے تحت ایشیا، بشمول مشرق وسطیٰ میں نیٹو طرز کے کثیرالجہتی اجتماعی دفاعی معاہدوں کی حمایت کی جاتی تھی۔ یہ معاہدے 1970ء کی دہائی میں ختم ہونے والے سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) کے متبادل کے طور پر تصور کیے گئے تھے تاہم بعد میں اس پالیسی کو ترک کرکے براہِ راست امریکی فوجی روابط، اسلحہ کی فروخت اور فوجی اڈوں تک رسائی کے معاہدوں کو ترجیح دی گئی جو 28 فروری کے بعد ایرانی حملوں کے باعث متاثر ہوئے۔
دوم ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اس معاہدے میں شمولیت کی پیشکش کی ہے جس کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر مسلم ممالک کی جانب سے مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل کو مذہبی تناظر فراہم کرنا بھی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 5 اگست 2026ء کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے جو بھارت کے خلاف جرات مندانہ فیصلے کرنے میں بعض اوقات ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے، آزاد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے سات سال مکمل ہونے پر ایک بیان جاری کیا۔ او آئی سی نے بھارت سے اپنے یکطرفہ اقدامات واپس لینے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ تینوں ممالک اہم صلاحیتیں اور وسائل رکھتے ہیں۔ پاکستان اس معاہدے میں ایک جنگی تجربہ رکھنے والی فوج کے ساتھ ساتھ اپنا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی لے کر آتا ہے۔ پاکستان تاحال واحد مسلم جوہری ملک ہے جس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے جوہری پروگرام شروع کرنے اور بعد ازاں نواز شریف کی جانب سے اُس وقت امریکا کے شدید دباؤ کے باوجود چاغی میں جوہری تجربات کرنے کے فیصلے کو جاتا ہے۔
ترکیہ جو نیٹو کا رکن ہے، ایک مضبوط دفاعی صنعتی بنیاد رکھتا ہے، جس میں بالخصوص بائیکار کا ڈرون نظام اور کان (KAAN) لڑاکا طیارے کا پروگرام شامل ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کے پاس بڑے پیمانے پر دفاعی پیداوار کو مقامی بنانے کے لیے درکار مالی وسائل موجود ہیں اور وہ پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تعاون کے معاہدے کرچکا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ تینوں ممالک اس معاہدے سے خاطر خواہ فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کی دفاعی صنعت بھی جدید اور مضبوط ہوگی، جس سے ملک کو مہنگی غیر ملکی دفاعی درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم موجودہ حالات کے مطابق تینوں رکن ممالک میں سے پاکستان کی معیشت اب بھی کمزور ہے جو کہ ایک تشویش ناک امر ہے۔ گزشتہ ماہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے باضابطہ طور پر امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ زرِ مبادلہ کے استحکام کی معاونت کی سہولت کی درخواست کی ہے جو زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے یا کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے ڈالر، سواپس یا ضمانتیں فراہم کرتی ہے اور اس پانچ سالہ سہولت کا مقصد ذخائر کو بڑھانا، روپے کو مستحکم کرنا اور آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنا ہے۔
اگرچہ اسے ایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لینے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے جس سے وزیراعظم شہباز شریف کے اس عزم کی روح شدید متاثر ہوتی ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف قرض پاکستان کی تاریخ کا آخری قرض ہوگا، تاہم معیشت بدستور نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے جڑے منفی جغرافیائی سیاسی عوامل کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے بلکہ موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کی بھی اسیر ہے جس کا شرح نمو یا بے روزگاری کی سطح پر کوئی نمایاں مثبت اثر نہیں پڑتا۔
لہٰذا موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی فوری کمی لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے نسبتاً کم سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا اور مکہ معاہدے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر آنے والی سرمایہ کاری کو زیادہ قدر پیدا کرنے والی، برآمدی صلاحیت رکھنے والی صنعتوں میں منتقل کیا جاسکے گا، بجائے اس کے کہ ہم بدستور صرف اپنی مقامی ضروریات سے زائد اشیا کی برآمد پر انحصار کرتے رہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments