اسٹاک ایکسچینج: فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 1400 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 179,846.68 کی سطح پر بند ہوا
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے کی امیدیں دم توڑنے کے باعث منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث بینچ مارک 100 انڈیکس 1400 پوائنٹس سے زائد گرگیا۔
تفصیلات کے مطابق بینچ مارک انڈیکس نے کاروبار کا آغاز 180,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب سے کیا اور شروعات ہی میں دباؤ کا شکار ہو گیا۔ تاہم ابتدائی تجارتی سیشن کے دوران مارکیٹ نے تیزی سے بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 181,017.29 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھوا۔
تاہم یہ بحالی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور سیشن کے آخری حصے میں منافع کی وصولی اور فروخت کا دباؤ غالب آ گیا۔ انڈیکس اپنی ابتدائی بلندی سے بتدریج نیچے آتا گیا اور دوپہر کے بعد مندی کا یہ رجحان مزید شدید ہو گیا۔
اگرچہ کاروباری اوقات کے آخری گھنٹوں میں انڈیکس نے سنبھلنے کی کوشش کی لیکن وہ یہ پیش رفت برقرار نہ رکھ سکا اور گرتے ہوئے 179,778.98 کی نچلی ترین سطح پر آ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,463.60 پوائنٹس یا 0.81 فیصد کی کمی کے ساتھ 179,846.68 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کی اختتامی رپورٹ میں کہا کہ کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ کی سرگرمیاں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں، کیونکہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکا ایران معاہدے کے قلیل مدتی امکانات معدوم ہونے کے باعث ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی۔
ٹاپ لائن کے مطابق منفی اثر ڈالنے والے نمایاں حصص میں لک، ایف ایف سی، یوبی ایل، اینگرو اور بی اے ایچ ایل شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس سے تقریباً 778 پوائنٹس کم کردیئے۔
پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ کاروباری سیشن کے دوسرے حصے میں اہم ہیوی ویٹ اسٹاکس میں منافع کے حصول کے لیے فروخت نے ابتدائی تیزی کے تمام اثرات زائل کردیے جس کے باعث انڈیکس تقریباً غیر تبدیل شدہ رہا۔ 100 انڈیکس 119.74 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کمی کے بعد 181,310.28 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے جبکہ عالمی افراطِ زر کے منظرنامے سے متعلق طویل غیر یقینی صورتحال کے باعث ایشیائی حصص کی منڈیوں میں بھی ملا جلا رجحان رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کی جانب سے امن معاہدے کے لیے پیش کی گئی شرائط کے جواب میں اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران جنگوں، حملوں اور احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا جس کے باعث اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے معمولی اضافے کے ساتھ 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جبکہ امریکی خام تیل کے مستقبل کے سودے بھی بڑھ کر 82.45 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ دونوں کی قیمتیں 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ پیر کو دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
تازہ ترین ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بدھ کو جاری ہونے والی امریکا کی جولائی کی صارف قیمتوں کی رپورٹ (سی پی آئی) کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ توقع ہے کہ مجموعی صارف قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 0.1 فیصد جبکہ بنیادی افراطِ زر میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع ترین انڈیکس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انڈیکس آخری اطلاعات کے مطابق 0.2 فیصد اضافے پر تھا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ گیا۔ خلیجی خطے میں تازہ کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بدستور کمزور رہا۔
دوسری جانب نیسڈیک فیوچرز 0.28 فیصد جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد بلند ہوئے تاہم وال اسٹریٹ پیر کے کیش سیشن میں کمی کے ساتھ بند ہوئی۔
ادھر منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رہا اور روپیہ 0.1 فیصد مزید مضبوط ہوا۔ دن کے اختتام پر مقامی کرنسی 3 پیسے (0.03 روپے) کے اضافے کے ساتھ 277.67 پر بند ہوئی۔
دوسری جانب آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ روز کے 91.72 کروڑ (917.27 ملین) شیئرز سے کم ہو کر 86.02 کروڑ (860.26 ملین) شیئرز رہ گیا۔ اسی طرح کاروبار ہونے والے حصص کی مجموعی مالیت پچھلے سیشن کے 44.80 ارب روپے کے مقابلے میں گھٹ کر 38.86 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
تجارتی حجم کے لحاظ سے سینرجیکو پی کے 13.39 کروڑ (133.91 ملین) شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ کے الیکٹرک لمیٹڈ 6.18 کروڑ (61.85 ملین) شیئرز اور حسکول پیٹرول 4.50 کروڑ (45.03 ملین) شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
منگل کو کل 493 کمپنیوں کے شیئرز میں لین دین ہوا۔ ان میں سے 148 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 311 کی قیمتوں میں کمی جبکہ 34 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں۔



Comments