اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 1100 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- صبح 9:35 پر بینچ مارک انڈیکس 180,156.77 پوائنٹس پر جاپہنچا
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے کی امیدیں دم توڑنے کے باعث منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، کاروبار کے ابتدائی منٹوں کے دوران بینچ مارک 100 انڈیکس 1,100 پوائنٹس سے زائد گرگیا۔
صبح 9:35 پر بینچ مارک انڈیکس 1,153.51 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کمی سے 180,156.77 پوائنٹس پر آگیا۔
آٹوموبائل اسمبلیرز،سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور او ایم سیز سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ حبکو، ماری، او جی سی ڈی، ایف ایف سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ کاروباری سیشن کے دوسرے حصے میں اہم ہیوی ویٹ اسٹاکس میں منافع کے حصول کے لیے فروخت نے ابتدائی تیزی کے تمام اثرات زائل کردیے جس کے باعث انڈیکس تقریباً غیر تبدیل شدہ رہا۔ 100 انڈیکس 119.74 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کمی کے بعد 181,310.28 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے جبکہ عالمی افراطِ زر کے منظرنامے سے متعلق طویل غیر یقینی صورتحال کے باعث ایشیائی حصص کی منڈیوں میں بھی ملا جلا رجحان رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کی جانب سے امن معاہدے کے لیے پیش کی گئی شرائط کے جواب میں اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران جنگوں، حملوں اور احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا جس کے باعث اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے معمولی اضافے کے ساتھ 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جبکہ امریکی خام تیل کے مستقبل کے سودے بھی بڑھ کر 82.45 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ دونوں کی قیمتیں 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ پیر کو دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
تازہ ترین ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بدھ کو جاری ہونے والی امریکا کی جولائی کی صارف قیمتوں کی رپورٹ (سی پی آئی) کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ توقع ہے کہ مجموعی صارف قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 0.1 فیصد جبکہ بنیادی افراطِ زر میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع ترین انڈیکس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انڈیکس آخری اطلاعات کے مطابق 0.2 فیصد اضافے پر تھا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ گیا۔ خلیجی خطے میں تازہ کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بدستور کمزور رہا۔
دوسری جانب نیسڈیک فیوچرز 0.28 فیصد جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد بلند ہوئے تاہم وال اسٹریٹ پیر کے کیش سیشن میں کمی کے ساتھ بند ہوئی۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments