پیٹرولیم مصنوعات سے سرکاری آمدن میں اضافہ، عوام کے لیے مہنگائی کا طوفان
- اقتصادی پالیسی کا فیصلہ بالآخر سرکاری آمدنی کے حجم سے نہیں، بلکہ لوگوں کی زندگیوں پر اس کے اثرات سے ہوتا ہے
پیٹرولیم لیوی پر پاکستان کا بڑھتا ہوا انحصار عمومی مالیات کی بہتری میں مدد تو دے رہا ہے لیکن یہ خاموشی سے مہنگائی پر قابو پانا بھی دشوار بنا رہا ہے۔
ہر 15 دن بعد پاکستان ایک ایسے اعلان کا انتظار کرتا ہے جو تقریباً ہر گھرانے کو متاثر کرتا ہے یعنی پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں۔ اس پر بحث عام طور پر ایک یا دو دن جاری رہتی ہے۔ گاڑی مالکان شکایت کرتے ہیں، ٹرانسپورٹرز کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات تراشتی ہیں اور ملک آگے بڑھ جاتا ہے۔تاہم معیشت آگے نہیں بڑھتی۔
ایندھن کی حیثیت عام اشیاء جیسی نہیں ہے۔ اس کی قیمت صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتی۔ یہ منڈی میں گندم لے جانے والے ہر ٹرک، فصل کاٹنے والے ہر ٹریکٹر، فیکٹری سے نکلنے والے ہر کنٹینر، اور مزدوروں کو کام پر لے جانے والی ہر بس کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں مہنگائی کے ظاہر ہونے سے بہت پہلے یہ معیشت میں اپنا اثر دکھانا شروع کر چکی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کو صرف توانائی کا نہیں، بلکہ ایک اقتصادی پالیسی کا معاملہ سمجھا جانا چاہیے۔پاکستان نے میکرو اکنامک اسٹیبلٹی کی بحالی میں ناقابلِ تردید پیشرفت کی ہے۔ غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، شرحِ تبادلہ پہلے سے زیادہ متوازن ہوئی ہے اور مالیاتی نظم و ضبط صرف دو سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بھی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی میں معاونت کے لیے شرحِ سود میں کمی کرکے مانیٹری پالیسی میں نرمی شروع کر دی ہے۔یہ خوش آئند پیشرفت ہےمگر اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے پیٹرول کو335 روپے فی لیٹر سے اوپر دھکیل دیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 388 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اسی دوران ہیڈ لائن انفلیشن (مجموعی یا بنیادی مہنگائی) 11 فیصد سے اوپر رہی ہے، جس میں ٹرانسپورٹ اور خوراک کے اخراجات ہنوز گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ رجحانات اپس میں گہرے جڑے ہوئے ہیں، کوئی اتفاقی بات نہیں۔
معشیات ایک سادہ سبق سکھاتی ہےیعنی جب سامان کی نقل و حمل کی لاگت بڑھتی ہے تو بالاخر اس سامان کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار سڑک کی ٹرانسپورٹ پر ہے۔ ڈیزل سے مال بردار گاڑیاں، زرعی مشینری اور ملک کا زیادہ تر سپلائی چین(رسد و ترسیل کا نظام) چلتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں ہر اضافہ فصلوں کی کاشت، خام مال کی منتقلی، تیار شدہ اشیاء کی تقسیم اور منڈیوں تک خوراک پہنچانے کی لاگت بڑھا دیتا ہے۔ کاروباری ادارے اس لاگت کا کچھ حصہ خود برداشت کرتے ہیں لیکن باقی فرق بالآخر صارف ہی ادا کرتا ہے۔
یہ کاسٹ پش انفلیشن (لاگت میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی) کی خالص ترین شکل ہے۔پالیسی کا یہ چیلنج مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ مانیٹری (زرعی) اور فِسکل (مالیاتی) پالیسیاں اس وقت مختلف اشارے دے رہی ہیں۔کم شرحِ سود کا مقصد کاروباری اداروں کو قرض لینے، سرمایہ کاری کرنے اور توسیع کی ترغیب دینا ہے۔
دوسری طرف ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پیداواری اور ٹرانسپورٹ کی لاگت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ ایک پالیسی معاشی سرگرمی کو فروغ دیتی ہے جبکہ دوسری اسے مزید مہنگا بنا دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ لازمی طور پر پالیسی کا تضاد نہیں لیکن یہ مانیٹری پالیسی کی نرمی کی افادیت کو کم ضرور کر دیتا ہے۔
حکومت کے موقف کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔پاکستان اپنے پیٹرولیم کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے وہ خود کو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں یا شرحِ تبادلہ کی تبدیلیوں سے الگ نہیں رکھ سکتا۔ اتنی ہی اہم بات آئی ایم ایف کی مدد سے جاری اصلاحاتی پروگرام ہے، جس کے لیے مسلسل مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ نتیجے کے طور پر پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کی آمدنی کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ بن چکی ہے۔ موجودہ بجٹ میں رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی سے تقریباً 1.68 کھرب روپے جمع کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
مالیاتی نقطہ نظر سے اس کی کشش واضح ہے۔ پیٹرولیم لیوی جمع کرنا نسبتاً آسان ہے، اس سے بچنا مشکل ہے اور یہ قابلِ توقع آمدنی فراہم کرتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ اب حد سے زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے؟جب حکومتیں ایندھن پر ٹیکسیشن پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں تو اس کا بوجھ صرف گاڑی مالکان تک محدود نہیں رہتا۔ یہ زراعت، مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار)، برآمدات اور گھریلو مصرف تک پھیل جاتا ہے۔ عملًا معیشت اپنی ہی پیداواری صلاحیت پر ٹیکس لگانا شروع کر دیتی ہے۔اسی طرح کے دباؤ کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک نے مختلف حکمتِ عملی اپنائی ہے۔
بھارت نے مہنگائی کے دباؤ کو روکنے کے لیے وقفے وقفے سے ریٹیل (پرچون) سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے اضافے کو کنٹرول کیا، خواہ اس سے بوجھ کا کچھ حصہ سرکاری تیل کمپنیوں پر ہی کیوں نہ منتقل ہوا۔ بنگلہ دیش نے بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک ایک زیادہ شفاف قیمتوں کا نظام متعارف کرایا ہے۔ سری لنکا نے اپنے معاشی بحران کے بعد یہ دکھایا ہے کہ قیمتوں کا خودکار نظام دونوں طرف کام کرنا چاہیے، یعنی جب عالمی منڈیوں میں قیمتیں گریں تو مقامی سطح پر بھی اسی طرح کمی ہونی چاہیے جیسے اخراجات بڑھنے پر اضافہ ہوتا ہے۔
پاکستان کے حالات مختلف ہیں اور کسی غیر ملکی ماڈل کو من و عن درامد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود یہ تجربات ایک اہم اصول کو اجاگر کرتے ہیں کہ کریڈی بیلیی شفافیت، تسلسل اور قابلِ اندازہ ہونے سے آتی ہے۔اصل مسئلہ اس لیے خود ایندھن کی قیمتوں سے بڑا ہے۔پاکستان ٹرانسپورٹ، پیداوار اور تقسیم کی لاگت میں اضافہ کرکے غیر معینہ مدت تک سرکاری اخراجات پورے نہیں کر سکتا۔ فِسکل کنسولیڈیشن (مالیاتی استحکام) ضروری ہے لیکن یہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے، ٹیکس انتظامیہ کو بہتر بنانے، چھوٹ ختم کرنے اور تعمیل کو مضبوط بنانے سے آنا چاہیے، نہ کہ معیشت کے سب سے زیادہ مہنگائی سے حساس شعبوں پر مزید دباؤ ڈال کر۔
پیٹرولیم کا ایک شفاف پرائسنگ فریم ورک عوام کا اعتماد بھی بحال کرے گا۔ شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ہر لیٹر میں بین الاقوامی خام تیل کی قیمتیں، شرحِ تبادلہ کی تبدیلیاں، تقسیم کے اخراجات اور سرکاری لیوی کا کتنا حصہ شامل ہے۔ شفافیت سے اعتماد قائم ہوتا ہے اور اعتماد خود ایک معاشی اثاثہ ہے۔
پاکستان نے میکرو اکنامک اسٹیبلٹی (معاشی استحکام) کی طرف ایک طویل فاصلہ طے کیا ہے۔ اس کامیابی کا اعتراف ہونا چاہیے لیکن استحکام حتمی منزل نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد ایک ایسا ماحول بنانا ہے جہاں کاروباری ادارے اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کریں، برآمدات زیادہ مقابلے کے قابل ہوں اور خاندانوں کے معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری آئے۔
اقتصادی پالیسی کا فیصلہ بالآخر سرکاری آمدنی کے حجم سے نہیں، بلکہ لوگوں کی زندگیوں پر اس کے اثرات سے ہوتا ہے۔اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ہر اضافہ خزانے کو مضبوط بناتا ہے اور گھریلو پاور آف پرچیز کو مسلسل کمزور کرتا ہے تو ملک ایک معاشی مسئلہ حل کرکے دوسرا پیدا کرنے کے خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
مالیاتی استحکام لازمی ہے مگر قیمتوں کا استحکام بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پائیدار خوشحالی دونوں کی طالب ہے کیونکہ بالآخر پمپ پر جمع کی گئی آمدنی کبھی بھی خاندانی دسترخوان پر مہنگائی بن کر نہیں سجی ہونی چاہیے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments