حوثیوں کا مارب پر ایک بار پھر حملہ، 2 افراد جاں بحق، 14 زخمی
- اقوام متحدہ نے یمن میں وسیع جنگ کے خطرے سے خبردار کردیا
سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے مارب میں کیمپوں اور رہائشی علاقوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے جن کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے۔
یمنی فوج نے ہفتے کی صبح کہا کہ اس نے کئی محاذوں پر حوثی فورسز کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ فوج نے کارروائیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ کب ہوئیں، انہوں نے کہا کہ اپنے یونٹس کو مزید نشانہ بنائے جانے کی صورت میں ضروری فوجی اقدامات کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔
ان جھڑپوں کے باعث حوثیوں اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کئی برسوں سے دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانے کی لڑائی بڑی حد تک تھم گئی تھی جس کے باعث وسیع تر تنازع دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خطے کے بیشتر حصوں تک پھیلنے کے بعد سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعرات کو کہا کہ ریاض کو ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کور کی نگرانی میں یمن کے حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے جلد مربوط حملوں کی توقع ہے۔
ایران اور یمن و عراق میں اس کے اتحادیوں نے سعودی عرب کے اس دعوے پر تاحال کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
حوثیوں نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے یمن کے شہر مارب میں سعودی حمایت یافتہ فورسز، اسلحہ ڈپوؤں، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے سحن الجن کیمپ میں کیے گئے۔ رائٹرز دونوں فریقوں کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ حملے ایک روز بعد کیے گئے جب مارب اور حضرموت صوبوں میں فوجی کیمپوں پر حملوں کے نتیجے میں یمنی حکومت کے کم از کم 30 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ہونے والی خونی ترین جھڑپوں میں سے ایک تھی۔
حوثیوں نے جمعرات کو ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مارب اور حضرموت میں سعودی فوجی دستوں کی تعیناتیوں کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں کے مطابق انہیں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کے خلاف ممکنہ کارروائی میں شدت لانے سے قبل سعودی فوج کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کا پتا چلا تھا، جس کے بعد یہ حملے کیے گئے۔
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے جمعہ کو کہا کہ مارب اور حضرموت میں حالیہ حملوں کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہاز رانی پر دوبارہ ہونے والے حملوں نے یمن کو اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تنازع کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار کردیا ہے۔
انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اقوام متحدہ کی قیادت میں مذاکرات میں حصہ لیں، کیونکہ جاری تشدد سے یمن کے ایک وسیع تر علاقائی محاذ آرائی میں مزید گہرائی تک دھکیلے جانے کا خطرہ ہے۔


Comments