BR100 Increased By (1.9%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.66%)
KSE30 Increased By (1.87%)
BAFL 58.97 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
BIPL 27.06 Increased By ▲ 0.06 (0.22%)
BOP 34.75 Increased By ▲ 1.05 (3.12%)
CNERGY 11.06 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
DFML 18.11 Increased By ▲ 0.05 (0.28%)
DGKC 216.99 Increased By ▲ 4.96 (2.34%)
FABL 102.34 Increased By ▲ 2.20 (2.2%)
FCCL 56.42 Increased By ▲ 1.28 (2.32%)
FFL 16.41 Increased By ▲ 0.31 (1.93%)
GGL 23.81 Increased By ▲ 0.06 (0.25%)
HBL 322.04 Increased By ▲ 15.05 (4.9%)
HUBC 221.52 Increased By ▲ 3.04 (1.39%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Increased By ▲ 0.06 (0.83%)
LOTCHEM 27.12 Increased By ▲ 0.21 (0.78%)
MLCF 97.94 Increased By ▲ 2.01 (2.1%)
OGDC 316.30 Increased By ▲ 2.19 (0.7%)
PAEL 42.30 Increased By ▲ 0.38 (0.91%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 269.38 Increased By ▲ 2.21 (0.83%)
PPL 220.69 Increased By ▲ 2.97 (1.36%)
PRL 63.65 Increased By ▲ 0.95 (1.52%)
SNGP 106.24 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.34 (1.27%)
TELE 8.73 Increased By ▲ 0.25 (2.95%)
TPLP 14.78 Decreased By ▼ -0.16 (-1.07%)
TRG 61.41 Increased By ▲ 0.74 (1.22%)
UNITY 11.14 Increased By ▲ 1.01 (9.97%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.03 (2.48%)

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیاد پر 25 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 3.95 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس عرصے میں درآمدی ادائیگیوں میں تقریباً 18 فیصد جبکہ برآمدی آمدن میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2025 میں تجارتی خسارہ 3.15 ارب ڈالر تھا۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے سربراہ برائے تحقیق سعد حنیف نے اپنے تجزیے میں کہا، ”اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات کی طلب میں حقیقی معنوں میں کمی نہیں آئی، جبکہ معاشی سرگرمیوں کی بحالی نے بھی درآمدات کو بلند سطح پر برقرار رکھا۔“

پی بی ایس کے مطابق جولائی میں درآمدی ادائیگیاں 18 فیصد اضافے سے 6.89 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ میں 5.84 ارب ڈالر تھیں۔

سعد حنیف کے مطابق درآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ رہا۔

انہوں نے کہا، ”جولائی 2026 میں گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں پیٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوا۔“

پاکستان توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے اور تاریخی طور پر مجموعی درآمدی بل میں توانائی کا حصہ 20 سے 25 فیصد کے درمیان رہتا ہے۔

ان کے مطابق صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے مشینری اور گاڑیوں کی درآمدات میں اضافے نے بھی مجموعی درآمدی بل کو بلند رکھا۔

پی بی ایس کے مطابق جولائی 2026 میں برآمدات 9.54 فیصد بڑھ کر 2.94 ارب ڈالر ہوگئیں، جو جولائی 2025 میں 2.68 ارب ڈالر تھیں۔

سعد حنیف کا کہنا تھا کہ برآمدی آمدن میں اضافہ بظاہر غذائی اشیا، بالخصوص چاول کی برآمدات میں بحالی کے باعث ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل بدستور ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، جس کا مجموعی برآمدات میں 55 سے 60 فیصد حصہ ہے۔

ان کے مطابق 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں ٹیکسٹائل برآمدات مستحکم رہیں، جبکہ اس ماہ کے آخر میں درآمدات اور برآمدات کی تفصیلی رپورٹ جاری ہونے کے بعد واضح ہوگا کہ جولائی میں کن اشیا نے برآمدی آمدن میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں 15 فیصد کمی

پی بی ایس اور وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2026 کے 4.66 ارب ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2026 میں تجارتی خسارہ 15 فیصد سے زائد کم ہو گیا، جس کی بنیادی وجہ برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 31 فیصد کا نمایاں اضافہ تھا۔

پی بی ایس کے مطابق برآمدات جون 2026 کے 2.24 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی میں 2.94 ارب ڈالر ہو گئیں۔

وزارتِ خزانہ نے کہا، ”جولائی میں برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 31 فیصد اضافہ حالیہ برسوں کے مضبوط ترین ماہانہ اضافوں میں سے ایک ہے۔“

ادھر جولائی میں درآمدی ادائیگیاں تقریباً مستحکم رہیں اور 6.89 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو جون کے مقابلے میں 0.17 فیصد کم ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ”برآمدات میں اضافہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں برآمدات کے فروغ، مسابقت بڑھانے، کاروبار کی لاگت کم کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر توجہ کے مثبت ابتدائی نتائج کی نشاندہی کرتا ہے۔“

وزارت نے مزید کہا کہ ”جولائی کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونی شعبہ مزید مضبوط ہو رہا ہے اور مالی سال 2026-27 کا آغاز حوصلہ افزا رہا ہے، جو پاکستان کی زیادہ مسابقتی، برآمدات پر مبنی اور پائیدار معاشی نمو کے ماڈل کی جانب پیش رفت کو تقویت دیتا ہے۔“

Comments

200 حروف