زیرِ زمین پانی کا خاتمہ : پاکستان کی چاول برآمدات کی حقیقی قیمت
- کراچی سے برآمد ہونے والے پاکستانی چاول کے ہر میٹرک ٹن کے ساتھ ہزاروں لیٹر پانی بھی ملک سے باہر چلا جاتا ہے
کراچی سے برآمد ہونے والے پاکستانی چاول کے ہر میٹرک ٹن کے ساتھ ہزاروں لیٹر پانی بھی ملک سے باہر چلا جاتا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ صدیوں پرانے زیرِ زمین ذخائر سے حاصل کیا جاتا ہے۔
مالی سال 2023-24 میں پاکستان نے تقریباً 58 لاکھ (5.8 ملین) میٹرک ٹن چاول برآمد کرکے تقریباً 3.9 ارب ڈالر کمائے۔ وزارت تجارت نے اس ریکارڈ اعداد و شمار پر مسرت کا اظہار کیا لیکن وزارتِ آب و ہوا/آبی وسائل نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ معاشی اور ماحولیاتی حساب کتاب پہلے ہی نامکمل تھا۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستان آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور نازک کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نمٹ رہا ہے، قدرتی اثاثوں کو ختم کرکے حاصل کی گئی برآمدی نمو (ایکسپورٹ گروتھ) پر جشن منانا ایک خطرناک معاشی مغالطہ (دھوکہ) ہے۔نیدرلینڈز کی یونیورسٹی آف ٹوینٹے کے محققین ارجن ہوکسٹرا اور مسفن میکونن کے وضع کردہ ”واٹر فٹ پرنٹ“ کے طریقہ کار اور فی کلوگرام 2,500 لیٹر پانی کی محتاط حد (بینچ مارک) کا اطلاق کرتے ہوئے ان 5.8 ملین ٹن چاول میں تقریباً 14.5 ٹریلین لیٹر (14.5 کھرب لیٹر) پانی شامل تھا۔ پاکستان کے آبپاشی پر منحصر نظامِ پیدائش میں اس استعمال کا ایک بڑا حصہ بلیو واٹر (دریاؤں، نہروں اور زیرِ زمین ذخائر سے حاصل کردہ پانی) پر مشتمل ہے۔ ہم نے چاول کے دانوں میں شامل وہ پانی ایسی قیمت پر فروخت کیا جس میں صرف بیج، ڈیزل، مزدوری اور ملنگ (چاول کی صفائی) کی لاگت شامل تھی۔ اس انوائس (بل) میں ایک بار بھی اس بات کا حساب نہیں لگایا گیا کہ درحقیقت وادیِ سندھ (انڈس بیسن) کو یہ پانی فراہم کرنے کی کیا قیمت چکانی پڑی۔
حساب کتاب کا خلا
جدید اکاؤنٹنگ مشینری اور بنیادی ڈھانچے کی فرسودگی کو تسلیم کرتی ہے، لیکن شاید ہی کبھی زیرِ زمین پانی کے خاتمے کا حساب رکھتی ہے، حالانکہ زیرِ زمین ذخائر بھی سرمایہ کا ہی ایک پیداواری روپ ہیں۔ یہ غفلت پانی پر شدید منحصر فصلوں کی برآمد کو ”دولت کا بننا“ ظاہر کرتی ہے، جبکہ حقیقت میں آمدنی کا ایک حصہ اثاثوں کو خود استعمال یا ختم کرنے سے حاصل ہو رہا ہوتا ہے۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1951 میں 5,260 کیوبک میٹر سالانہ سے کم ہو کر آج 1,000 کیوبک میٹر سے بھی نیچے آ گئی ہے، جو کہ فالکن مارک واٹر اسکیئرسٹی (پانی کی شدید قلت) کی حد کو پار کر چکی ہے۔ جس دہائی میں ہم نے اس حد کو پار کیا، اسی دہائی میں چاول کی کاشت پھیل کر 76 لاکھ (7.6 ملین) ایکڑ سے تجاوز کر گئی۔اس کے نتائج ٹیوب ویلوں اور بورنگ میں واضح دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ یہ پاکستان کی چاول پٹی (رائس بیلٹ) کے مختلف علاقوں میں مختلف ہیں۔ وسطی پنجاب کے اضلاع شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں جو معیشت کا دل ہیں زیرِ زمین پانی کی سطح میں سالانہ 1.5 سے 2.7 میٹر تک کی کمی آ رہی ہے کیونکہ پانی کا نکالنا اس کی قدرتی ریچارجنگ (دوبارہ بھرنے) سے کہیں زیادہ ہے۔ پنجاب کے آبپاشی کے شعبے کے 2004 اور 2024 کے موازنہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ نگرانی کیے جانے والے 30 اضلاع میں سے صرف 3 میں پانی کی سطح بلند ہوئی ہے۔ سندھ کی رائس بیلٹ کو اس کے برعکس مسئلے کا سامنا ہے، وسیع نہری نظام اور نکاسِ آب (ڈرینیج) کے ناقص انتظام نے سیم و تھور کا مزمن (دائم/پرانا) مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ چاہے پنجاب میں زیرِ زمین ذخائر کا ختم ہونا ہو یا سندھ میں زمین کی تباہی، دونوں کا اصل سبب نایاب ”بلیو واٹر“ کا غیر موثر اور فضول استعمال ہے۔
شیخوپورہ میں باسمتی چاول کی کاشت کرنے والے ایک کسان نے حال ہی میں اپنا رقبہ بڑھانے کے لیے تیسرا ٹیوب ویل لگایا۔ اس کی فصل کی پیداوار پہلے سے کہیں بہتر ہے، اس کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے پاس یہ جاننے کی کوئی وجہ نہیں کہ اس کی زمین کے نیچے پانی کی سطح گزشتہ سال مزید دو میٹر نیچے چلی گئی ہے۔ زیرِ زمین ذخائر خاموشی سے ختم ہو رہے ہیں جبکہ فصل کی نقد رقم بظاہر ہاتھ میں آ رہی ہے۔ یہ ناہمواری ہی ہے جو قدرتی اثاثوں کے خاتمے کو ظاہری خوشحالی میں بدل دیتی ہے۔
بلیو واٹر کا مسئلہ
گرین واٹربارش کا پانی ہے، جو ہر موسم میں نیا ملتا ہے۔ بلیو واٹر دریاؤں، نہروں اور صدیوں میں بننے والے زیرِ زمین ذخائر سے آتا ہے۔ ہوکسٹرا اور میکونن کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ پاکستان کا چاول کا واٹر فٹ پرنٹ زیادہ تر بلیو واٹرپر مشتمل ہے، جو کہ گرین واٹر کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ وسطی اور جنوبی پنجاب ایک مزمن بحران (ڈرافٹ) کی حد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پانی کا اخراج بارشوں، رسنے والے پانی اور دوبارہ زمین میں جانے والے پانی کی مقدار سے مسلسل تجاوز کر رہا ہے۔ یہ کوئی عارضی صورتحال نہیں ہے جسے ایک اچھے مون سون سے درست کیا جا سکے بلکہ یہ دہائیوں سے دوبارہ بھرنے کی صلاحیت سے زیادہ پانی نکالنے کا مجموعی نتیجہ ہے۔
موازنہ جاتی نقصان
چاول کے بڑے برآمد کنندگان میں پاکستان سب سے زیادہ بلیو واٹر استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ تھائی لینڈ، ویتنام اور کمبوڈیا بنیادی طور پر مون سون کی بارشوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کے واٹر فٹ پرنٹ میں بلیو واٹر کا حصہ صرف 30 سے 40 فیصد ہوتا ہے، یہاں تک کہ بھارت کی قومی اوسط بھی اس سے کافی کم ہے۔ اگر پانی کی درست قیمت لگائی جائے تو چاول کی پیداوار میں پاکستان کا بظاہر نظر آنے والا فائدہ (مزید سستا ہونا) دراصل ایک نقصان میں بدل جاتا ہے، جو فی الحال مفت پانی کے استعمال کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔
مصر کی مثال : پالیسی کی ہم آہنگی
مصر کو بھی بالکل ایسے ہی آبی حالات کا سامنا ہے، اس کے چاول کی کاشت 97 سے 98 فیصد بلیو واٹر پر منحصر ہے جو صحرائی علاقے میں بغیر بارش کے تقریباً تمام تر دریائے نیل سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن قاہرہ کا ردِعمل بالکل مختلف رہا ہے، 2008 سے مصر نے چاول کی برآمد پر وقتاً فوقتاً پابندی عائد کی، کاشت کا رقبہ 35 فیصد سے زیادہ کم کیا اور مخصوص علاقوں سے باہر بغیر اجازت چاول کی کاشت کو جرم قرار دیا۔ مصری حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ چاول جیسی فصلیں اگانا اور انہیں برآمد کرنا پانی برآمد کرنے کے مترادف ہے، جس کی مصر جیسے ملک کو ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے جبکہ پاکستان نے برآمدات کے مواقع کی دوڑ میں 2024 میں اپنی کم از کم برآمدی قیمت کو ختم کر دیا، جبکہ مصر چاول کے برآمد کنندہ سے درآمد کنندہ بن گیا۔ آبی حدبندی اور رکاوٹیں دونوں ممالک کے لیے ایک جیسی ہیں لیکن پالیسی کی درستگی اور ہم آہنگی ایک جیسی نہیں ہے۔
مسئلہ منڈی کی ناکامی نہیں بلکہ پالیسی کے انتخاب کا ہے
یہ بازار کی ناکامی (مارکیٹ فیلیور) نہیں، یہ ہماری پالیسی کے غلط انتخاب کا نتیجہ ہے۔ وزارتِ تجارت کی میز پر کسی سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ بھارت کی پیدا کردہ برآمدی خلا (گیپ) کو پورا کرنے سے پاکستان کے زیرِ زمین پانی پر کیا اثر پڑے گا، کیونکہ پانی اور زراعت دو الگ الگ وزارتوں کی الگ الگ فائلیں بنی ہوئی ہیں۔
تین اصلاحات : پیمائش، قیمت اور اصلاح
ان میں سے کسی کے لیے بھی نئے معاہدے یا بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے تین سادہ اور عملی پالیسی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جن کا محتاط انتظام کیا جائے، کیونکہ چاول کی برآمدات سے واقعی زرِ مبادلہ، دیہی آمدنی اور روزگار ملتا ہے۔پہلا: اخراج کی پیمائش، پانی کی شدید قلت کا شکار اضلاع میں زرعی ٹیوب ویلوں پر میٹر لگائیں اور ان کے لائسنس جاری کریں۔ پانی کے حجم کے حساب سے قیمت کا تعیّن یا ریچارج کے اندازوں سے منسلک سخت کوٹہ لاگو کریں، بغیر پیمائش کے انتظام ناممکن ہے۔دوسرا : اثاثے کی قیمت لگانا، پانی کو ایک معاشی اثاثہ تسلیم کریں اور اس کی لاگت کو برآمدی قیمتوں، فصلوں کے انتخاب اور سبسڈیز کی تقسیم میں شامل کریں۔تیسرا: مراعات میں اصلاحات یعنی کم پانی مانگنے والی فصلوں، موثر آبپاشی کے طریقوں اور کم مدت میں تیار ہونے والی چاول کی اقسام کی طرف مراعات اور سہولیات کو منتقل کریں۔ پنجاب کے ”میرا کے ایم آر“ کے پائلٹ پروجیکٹس مون سون کے سیلابی پانی کو واپس زمین میں بھیجتے ہیں، لیزر سے زمین کو ہموار کرنے کے عمل نے پانی کی کھپت میں نمایاں کمی کی ہے اور کالا شاہ کاکو کے رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کم وقت میں پکنے والی اقسام تیار کی جا رہی ہیں۔ کسانوں کو متبادل کی طرف منتقل کرنے اور ان کی فصل کے بیمہ (انشورنس) کی مدد سے زیرِ زمین پانی کو دیہی روزگار کو نقصان پہنچائے بغیر مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
داخلی احتساب
پاکستان کو ہر دستیاب فورم پر انڈس واٹرز ٹریٹی (سندھ طاس معاہدے) کے تحت اپنے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔ وہ جنگ بالکل جائز ہے لیکن اس سے ہمارے اپنے کھیتوں کے نیچے پھیلے بحران سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں۔ اگر پاکستان سندھ طاس کے ہر تنازعے میں جیت بھی جائے، تب بھی وسطی اور جنوبی پنجاب کے زیرِ زمین ذخائر سالانہ 1.5 سے 2.7 میٹر کی شرح سے کم ہوتے رہیں گے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح کا گرنا ہماری اندرونی حکمرانی کی ناکامی ہے: ایک ایسی ناکامی جسے ہم بھارت کے رویے کی تبدیلی کا انتظار کیے بغیر خود ٹھیک کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
آئندہ کا انتخاب
ہماری بعض مقبول ترین برآمدی صنعتیں شاید اتنی حقیقی معاشی قدر پیدا نہیں کر رہی ہیں جتنا کہ روایت پسند تجارتی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں۔ ہم زیرِ زمین ذخائر کے خاتمے کو اجناس کی معمولی قیمتوں پر بیچ رہے ہیں اور ایک دیرپا اثاثے (اسٹاک) کو ایک عارضی بہاؤ (فلو) کی طرح اور اصل سرمائے (کیپیٹل) کو محض جاری آمدنی (انکم) کی طرح برت رہے ہیں۔ پاکستان اپنے معاہداتی حقوق کا دفاع کرنے کے لیے درست طور پر زبردست سفارتی توانائی صرف کرتا ہے۔ اسے اتنے ہی عزم اور توجہ اپنے کھیتوں کے نیچے موجود پانی کی حفاظت پر بھی دینی چاہیے۔ کیونکہ کراچی پورٹ سے نکلنے والے چاول کے ہر کنٹینر پر وہی غیر مرئی (چھپا ہوا) بل موجود ہوتا ہے: پنجاب کا ہزاروں لیٹر زیرِ زمین پانی، جس کی قیمت صفر لگائی گئی ہے، جو کسی کے نام نہیں لکھا گیا اور جس کا ہرجانہ ہمارے ان زیرِ زمین ذخائر سے ادا ہو رہا ہے جنہیں ہم اگلی نسل کے لیے خالی چھوڑتے جا رہے ہیں۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments